شاید یہ آخری فریاد ہو، ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کے بیٹے الیاس نے التجا کی کہ :
اگر ہم نے اسرائیلیوں کو انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کرنے دیا، تو پھر ہم سب کا زندہ رہنا یا نہ رہنا برابر ہے۔
قاری صاحب نمازِ مغرب میں سورۂ قیامت کی وہ آیات تلاوت فرما رہے تھے جن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ ﴾
ترجمہ:
"تباہی ہے تیرے لیے، ہاں تباہی ہے۔ پھر تباہی ہے تیرے لیے، ہاں تباہی ہے۔"
اور آگے فرمایا:
﴿ أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى ﴾
ترجمہ:
"کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اُسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا؟"
امام صاحب جب یہ آیات پڑھ رہے تھے تو اُن کی آواز میں عجیب درد، خوفِ خدا اور عاجزی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے قرآن صرف پڑھا نہیں جا رہا بلکہ دلوں پر اُتر رہا ہو۔
عربی اُن کی زبان ہے، وہ ان آیات کے معنی بھی سمجھتے ہیں، اُن کی گہرائی بھی محسوس کرتے ہیں، شاید اسی لیے اُن کی آنکھیں نم تھیں اور آواز لرز رہی تھی۔
میں عربی پوری طرح نہیں سمجھتا مگر قرآن کی تاثیر ایسی ہے کہ معنی دل تک خود پہنچنے لگتے ہیں۔
یُوں تو میں بطور مقتدی پیچھے ہاتھ باندھے کھڑا تھا مگر محسوس یہ ہو رہا تھا کہ امام صاحب کے آنسو اُن کی کیفیت اور اللّٰہ کے کلام کی ہیبت میرے دل کو بھی ہلا رہی ہے۔
نماز کے بعد کھانے کے دوران ہم پاکستان سے آئے ہوئے حاجی جب آپس میں تذکرہ کرنے لگے تو سب نے اپنی اپنی کیفیت بھی کُچھ ایسی ہی بتائی
سفرِ حج پہ آنے سے پہلے پاکستان میں یہ کیفیات کا سُنا تھا اب دیکھ بھی لیا
واقعی قرآن جب دل سے پڑھا جائے تو صرف کان ہی نہیں آپ کی رُوح بھی سُننے لگتی ہے۔
نیو یارک ٹائمز میں نکولس کرسٹوف نے فلسطینی قیدیوں کے ساتھ اسرائیلی فوجیوں کی جنسی درندگی کی تفصیلات بے نقاب کی ہیں اسرائیلی فوجی صرف عورتوں کے ساتھ نہیں مردوں اور بچوں کے ساتھ لوہے کے راڈوں سے جنسی تشدد کرتے ہیں جنسی زیادتی کی فلمیں بناتے ہیں اور 57 مسلمان ممالک خاموش رہتے ہیں 🥲
مطالبہ جاری رکھیں 🚨
آگر زیادہ نہیں تو کم از کم ایک ٹویٹ عمران خان کی علاج کے لئے ضرور کریں۔ مطالبہ کریں کہ شوکت خانم کے ڈاکٹرز کی موجودگی میں خان صاحب کو فوری شفا انٹرنیشنل منتقل کر دیا جائے۔
سوشل میڈیا اس پر ضرور آواز اُٹھائیں
دنیا میں سونے کے دروازے بہت ہیں…
مگر ایک دروازہ ایسا ہے جس کے سامنے کھڑے ہو کر انسان اپنی زندگی کی سب سے سچی بات کرتا ہے۔
یہ کعبہ کا دروازہ ہے۔
آپ نے اسے ہزار بار دیکھا ہوگا… تصویروں میں، ویڈیوز میں…
مگر جو چیز نظر نہیں آتی، اصل کہانی وہ ہے۔
یہ دروازہ نیچے نہیں ہے۔ اوپر ہے۔ اور یہ اتفاق نہیں ہے۔ پرانے وقتوں میں مکہ میں سیلاب آتے تھے۔ پانی آتا… اور سب کچھ ساتھ لے جاتا۔
تب یہ دروازہ اونچا رکھا گیا۔ حفاظت کے لیے۔
مگر وقت کے ساتھ یہ صرف ایک دروازہ نہیں رہا۔۔۔۔۔یہ ایک احساس بن گیا۔
یہاں پہنچنے کے لیے بس چل کر آنا کافی نہیں ہوتا…دل بھی ساتھ لانا پڑتا ہے۔
آج جو دروازہ آپ دیکھ رہے ہیں۔ یہ 1979 میں بنایا گیا۔ اس میں 280 کلو سونا لگا ہے۔
مگر سچ بتاؤں؟
یہ دروازہ سونے کی وجہ سے قیمتی نہیں ہے۔ یہ قیمتی اس لیے ہے…
کیونکہ یہاں آ کر انسان خود کو سب سے چھوٹا محسوس کرتا ہے۔
ایک اور بات… جو زیادہ لوگ نہیں جانتے۔
اس دروازے کی چابی۔
صدیوں سے…
ایک ہی خاندان ک�� پاس ہے۔
بنی شیبہ۔
نہ کبھی چھینی گئی۔ نہ بدلی گئی۔ نہ کسی طاقت نے اسے اپنے ہاتھ میں لیا۔
سوچیں…
دنیا میں کتنی چیزیں ہیں جو وقت کے ساتھ بدل جاتی ہیں۔
مگر یہ ایک امانت… ویسی کی ویسی ہے۔
ایک وقت تھا جب یہاں دو دروازے تھے۔ لوگ ایک سے آتے… دوسرے سے نکلتے۔ پھر ایک بند ہو گیا۔ آج صرف ایک ہے۔
جیسے زندگی میں بھی ہوتا ہے… راستے بہت نظر آتے ہی۔ مگر آخر میں انسان ایک ہی چنتا ہے۔
دروازے پر جو کپڑا لٹکا ہوتا ہے۔ وہ ”ستارہ“ ہے۔
ہر سال بدلا جاتا ہے۔ نیا آتا ہے۔
مگر ایک چیز نہیں بدلتی…
وہ احساس۔ وہ لمحہ۔ جب کوئی اس دروازے کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔
ہاتھ اٹھاتا ہے…اور وہ بات مانگتا ہے… جو کسی کو نہیں بتاتا۔
یہ دروازہ کبھی بولتا نہیں۔ مگر جو یہاں آتا ہے… وہ خاموش ہو جاتا ہے۔
اور شاید یہی اس دروازے کی اصل طاقت ہے۔
سورہ بقرہ کا "پانی پر دم (گھر کی تطہیر)
لوگ سمجھتے ہیں کہ صرف تلاوت کافی ہے، لیکن مخفی عمل یہ ہےایک مٹی کے برتن میں پانی لیں، اس ک�� سامنے سورہ بقرہ کی تلاوت کریں (یا ریکارڈنگ لگا دیں)۔ جب سورت ختم ہو، تو اس پانی پر 313 مرتبہ "یا حفیظ پڑھ کر دم کریں۔اس پانی کو گھر کے چاروں کونوں میں چھڑکنے سے وہ گھر "طلسماتی حصار میں آ جاتا ہے۔ وہاں کبھی رزق کی تنگی نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی شیطانی قوت داخل ہو سکتی ہے۔
ایک حاملہ عورت اپنے شوہر سے پوچھتی ہے:
"آپ کیا چاہتے ہیں، بیٹا یا بیٹی؟"
شوہر جواب دیتا ہے:
"اگر بیٹا ہوا تو میں اسے ریاضی سکھاؤں گا، اس کے ساتھ ورزش کروں گا، اسے شکار کرنا سکھاؤں گا اور بہت کچھ۔"
عورت ہنستے ہوئے پوچھتی ہے: "اور اگر بیٹی ہوئی تو؟"
شوہر مسکراتے ہوئے کہتا ہے: "اگر بیٹی ہوئی تو مجھے اسے کچھ بھی سکھانے کی ضر��رت نہیں ہوگی۔ وہ مجھے سب کچھ سکھائے گی: کیسے لباس پہننا ہے، کیسے کھانا ہے، کیا کہنا ہے اور کیا نہیں کہنا۔ بہت جلد، وہ میری دوسری ماں کی طرح بن جائے گی۔ اور بغیر کچھ خاص کیے بھی، وہ ہمیشہ مجھے اپنا ہیرو سمجھے گی۔ جب میں اسے 'نہیں' کہوں گا، وہ سمجھ جائے گی۔ اور وہ ہمیشہ اپنے مستقبل کے شوہر کا موازنہ مجھ سے کرے گی۔ چاہے جتنی بڑی ہو جائے، وہ ہمیشہ چاہے گی کہ میں اسے اپنی چھوٹی شہزادی کی طرح ہی پیار کروں۔ وہ دنیا سے میرے لیے لڑے گی، اور اگر کسی نے مجھے تکلیف دی، تو وہ اسے کبھی معاف نہیں کرے گی۔"
عورت، کچھ حیران ہو کر پوچھتی ہے: "کیا تمہارا مطلب ہے کہ تمہاری بیٹی یہ سب کچھ کرے گی، لیکن بیٹا نہیں؟"
شوہر کہتا ہے: "نہیں، نہیں! میرا بیٹا بھی یہ سب کر سکتا ہے، لیکن اسے وقت کے ساتھ یہ سب سیکھنا ہوگا۔ دوسری طرف، بیٹیاں ان خوبیوں کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں۔ بیٹی کا باپ ہونا ہر مرد کے لیے حقیقی فخر کی بات ہے۔"
پھر عورت کہتی ہے: "لیکن وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ نہیں رہے گی۔"
شوہر نرمی سے جواب د��تا ہے: "ہاں، لیکن ہم ہمیشہ اس کے دل میں رہیں گے، جہاں بھی وہ جائے۔"
بیٹیاں واقعی فرشتے ہوتی ہیں... وہ غیر مشروط محبت اور خیال کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں، ہمیشہ کے لیے۔
یہ تحریر اُن تمام خوش نصیب والدین کے لیے ہے جنہیں بیٹیاں عطا ہوئی ہیں۔
اگر تم چاہتے ��و کہ وقت کا پہیہ تمہارے خلاف نہ گھومے، تو کسی کا چھپا ہوا عیب فاش نہ کرو، کسی گرنے والے پر طنز نہ کرو، اور نہ ہی کسی آزمائش میں مبتلا شخص کا مذاق اڑاؤ۔
رہا وہ شخص جس کا عیب چھپا ہوا ہے، تو اس کے پردے کا احترام تمہارے اپنے پردے کی حفاظت کرتا ہے اور تمہارے دل کی حرمت کو برقرار رکھتا ہے، رہا گرنے والا، تو اس کے ساتھ ہمدردی کرنا یا خاموشی اختیار کرنا تمہاری روح کو بلندی بخشتا ہے اور تم سے ذلت آمیز تنقید کو دور رکھتا ہے، اور رہا آزمائش میں مبتلا شخص، تو اس کا مذاق اڑانے یا اسے نصیحتیں جھاڑنے کے بجائے، اس کے ساتھی اور ��ددگار بنو۔
کیونکہ جو لوگوں پر بیتتی ہے، وہ ایک دن تم پر بھی بیت سکتی ہے، اور دوسروں پر تمہارا رحم کرنا خدائے یکتا کی طرف سے تمہاری پردہ پوشی کا سبب بن سکتا ہے جب تم اس مقام میں گرو گے جس میں وہ گرے تھے۔
سورہ فاتحہ سے دوستی کریں کسی اللہ والے نے بتایا کہ تم الحمدللہ ��ریف یعنی سورۂ فاتحہ سے دوستی کرلو اور یہ بات مخلوق خدا کو بتاؤ کہ ہر جگہ ��یماریوں نے ڈیرہ ڈالا ہوا ہے۔ علاج اتنے مہنگے کہ ’’اللہ کی پناہ‘‘ کیوں نہ دوستو ہم سورۂ فاتحہ سے دوستی کرلیں
کیونکہ یہ سورۂ سورۂ شفاء کہلاتی ہے۔ اس سورت میں تمام بیماریوں کا علاج ہے‘ اس سورت کو اپنے ساتھ جوڑ لیں ۔ مگر وہ کیسے؟؟؟
وہ ایسے کہ جب بھی ہم پانی پئیں سورۂ فاتحہ دم کرکے پئیں۔ جیسے ہی گلاس بھرنے کیلئے نلکے کا نل کھولیں گلاس بھرنے تک ہم ایک مرتبہ سورۂ فاتحہ پڑھ لیں اور اس پر دم کرکے پئیں۔ اللہ کے حکم سے بڑی سے بڑی بیماریاں آپ کو چھو نہ سکیں گی۔