اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کا بہترین عقیدہ یا مذہب صرف آپ کا ہے تو پھر
بہترین عمل کرکےدکھانابھی آپ کی ذمہ داری ہے اگر آپ بہترین عمل کر کے دکھانے میں ناکام ہیں تو اپنے مذہب یا عقیدے کی تبلیغ کرنا چھوڑ دیں
کیونکہ جو عقیدہ آپکو نہیں بدل سکا وہ کسی اور کو کیابدلےگا؟
اتفاق ہاسپٹل والوں نے یہ کہہ کر عمار کا علاج کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ بچے کے والد کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے آپ اسے کہیں اور لے جائیں انہوں نے بیس سے پچیس لاکھ روپے بھی لیے اس کے بعد بچے کو کسی ہاسپٹل نے ایڈمٹ نہیں کیا ! ایڈووکیٹ سلمان شاہد کا انکشاف 💔💔💔
"There’s a particular type of sadness you feel when you catch up with someone you miss and realize that the version of them you were once friends with doesn’t exist anymore. You won't ever find the same person twice, not even in the same person."
—Sherry Ning
پاکستان کا فخر، پاکستان کا حوصلہ، پاکستان کا یقین، پاکستان کی ضد، عمران احمد خان نیازی!
عمران خان مُشکل ترین حالات میں مُلک وقوم کو چھوڑ کر نہ گیا، جیل قبول لیکن قوم سے دُوری نہیں، وہ کھڑا ہے اور اُس کیساتھ اُسکی قوم ہے!
#بےگناہ_قید_عمران_خان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ایک بدنام زمانہ قاتل ہے لیکن عالمی استکباری قوتیں اس کا امیج بہتر بنانے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں جب کہ عمران خان پاکستان کا ایک روشن چہرا ہے ۔روس کے ساتھ تعلقات استوار کرنا اس کا جرم بن گیا ہے۔امریکہ پاکستان میں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہا ہے اسے ہماری قومی سلامتی سے کوئی غرض نہیں۔بھارت ہر میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور ہم مسلسل تنزلی کا شکار ہیں۔ دشمنوں کی یہ خواہش ہے کہ ملک میں آئین ،قانون رہے نہ رہے اقتدار باقی رہنا چاہیے ۔عمران خان پاکستان اور پاکستانیت کو مضبوط بنا رہا تھا وہ کسی سے خوفزدہ نہیں ہوتا تھا۔عالمی طاقتوں کو یہ گوارہ نہ ہوا۔گزشتہ حکومت میں عمران خان کے خلاف مہم چلانے کے لیے میڈیا کو دس ارب روپے دیے گئے تاکہ حکومت کے مکروہ چہرے کو روشن کر کے پیش کیا جائے اور عمران خان کے روشن چہرے کو بدنما دکھایا جائے۔
(حالات حاضرہ پر خصوصی گفتگو)
“اگر الیکشن کی تاریخ نہ گورنر دے سکتا ہے، نہ صدر ، نہ چیف جسٹس، نہ نگران وزیراعظم اور نہ الیکشن کمیشن تو پھر آئین میں لکھ لیں کہ الیکشن کی تاریخ صرف امریکی سفیر ہی دے سکتا ہے”
لطیف کھوسہ از ناٹ کمنگ سلو 🔥
14 ستمبر-وکلا اجلاس، ہڑتال اور جلسے جلوس—
لاہور ہائیکورٹ میں جنرل ہاوس میں اعظم نزیر تارڑ کی ممبر شپ معطل کرنے کا مطالبہ کردیا گیا۔
اعظم نزیر تارڑ نے بطور وزیر قانون ملٹری کورٹس،سیکریٹ ایکٹ منظور کروایا!!
صدر کے جعلی دستخط کیے۔ایڈوکیٹ آفتاب باجوہ
میرے بیٹے پر حملہ ہوا گھر پر فائرنگ ہوئی صرف عمران خان میری خیریت دریافت کرنے میرے گھر آیا اور کوئی نہیں آیا
شیرِ پاکستان جیسا دلیر دوسرا ماں نے کوئی پیدا ہی نہیں کیا۔
پاکستانی قوم عمران خان کو پچاس سال سے جانتی ہے۔ ان سالوں میں عمران خان نے کبھی اپنی قوم کو مایوس نہیں کیا۔ کبھی ان کو دھوکہ نہیں دیا۔ کبھی اپنے ملک کے لیے ندامت کا باعث نہیں بنا۔ ہمیشہ اس کی بہتری کے لیے کوشش کی۔ ہمیشہ اس کے لیے عزت اور نام کمایا۔ ہمیشہ اپنے لوگوں کے راستے میں آسانیاں بکھیریں۔
تب بھی جب دنیا کو اس کی جیت ناممکن لگتی تھی۔ تب بھی جب اس کے اپنوں کو بھی اس کے خواب اس کے قد سے بڑے اور غیر مرئ لگتے تھے۔ تب بھی جب اس کا مِشن دیوانے کی بَڑ گردانا جاتا تھا۔ اور آج بھی جب اندرونی اور بیرونی تمام طاقتیں اس کو گرانے کے لیے یکجا ہوگئ ہیں۔ وہ اپنی قوم کے لیے ڈٹا ہوا ہے۔ اور ڈٹا رہے گا۔ اگر اس نے کہا ہے کہ وہ خون کے آخری قطرے تک لڑے گا تو ہم جانتے ہیں کہ وہ لڑیگا۔ ہمیں اس کے دعوی کی صداقت جانچنے کے لیے اسے آزمانے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ نصف صدی سے ہمارا آزمایا ہوا ہے۔ مگر وہ سہہ سکتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ سہتا رہے اور ہم آنے والے برسوں میں اس کی بہادری کو لوک گیتوں میں بیان کریں۔ عمران خان آنے والی نسلوں کے لیے ایک دیومالائ کردار ہوگا لیکن اس کی داستان میں ہم کیسے یاد رکھے جائیں گے ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنے کی ضرورت ہے۔
“وہ ٹوٹ نہیں رہا، اس کے حوصلے بلند ہیں، وہ ہزار سال بھی جیل میں رہنے کو تیار ہے”۔۔ یہ سب باتیں جہاں عمران خان کی اول العزمی کی تعبیر ہیں وہیں ۴۰ دن سے بے گناہ قید و بند کی صعوبتیں جھیلتا عمران خان ہماری کم مائیگی کی دلیل، ہماری ذلت کا ثبوت ہے۔جہاں دنیا سے الگ تھلگ، کال کوٹھری میں اپنی ایمان کی طاقت کے دم پہ بیٹھے اس شخص پر روز و شب کا پھیر بندگی کے نئے رموز آشکار کر رہا ہو گا۔ وہیں ہمارے ہر دن کی شام ہمارے قریب تر آتے زوال کا نوحہ پڑھ رہی ہے۔ ہر ڈوبتا سورج ہماری پستی کا تماشہ دیکھتا جارہا ہے۔
آج ہمیں اپنے آپ سے نظریں ملانے کے لیے اس کی نظروں میں معتبر ہونا درکار ہے۔ ہمیں اپنی حمیت کے لیے اس کی خوداری کی حاجت ہے۔ ہمیں اپنی بقا کے لیے اس کے عزم کی ضرورت ہے۔
اس کی لڑائ لڑنا ہم پر اپنے پرکھوں کے سامنے سرخرو ہونے کے لیے لازم ہے، اپنی نسلوں کے آگے بہرہ مندی کے لیے واجب ہے۔
اس کی بہادری میں اپنے لیے اطمینان نہیں، خلش ڈھونڈیں۔ اس کے چہرے کے سکون میں اپنے لیے تسلی نہیں ارتعاش تلاش کریں۔اس کا عزم آپ کی روح کے لیے تھپکی نہیں تازیانہ ہے۔ ثابت کریں کہ ہم اس کے قابل ہیں۔ ثابت کریں کہ صرف وہ نہیں لڑا ہمارے لیے ہم بھی اس کے لیے لڑنا جانتے ہیں۔
سوال کریں!
گلی، محلوں، چوک، چوراہوں، سڑکوں پر۔ گھروں میں۔ انفرادی طور پر، اجتماعوں میں۔ زبان سے۔ عمل سے۔ پوچھیں کہ وہ کس جرم کی پاداش میں قید ہے۔ پوچھیں کہ اس کو پابندِ سلاسل رکھ کر قوم کی کیسی نیک نامی، کون سی خدمت ہورہی ہے۔ بتائیں کہ اس کا گناہ اپنی ملت کا سودا نہ کرنا ہے۔ بتائیں کہ اس کا قصور ہماری غیرت پر سمجھوتا نہ کرنا ہے۔ بتائیں کہ یہ نظام اس کو نیچا دکھانے کے لیے کتنا گر چکا ہے۔ بتائیں کہ اس کو ہرانے کے لیے کیسے جائز اور نا جائز کے معیار تلپٹ کر دیے گئے ہیں۔
بولیں! آواز اٹھائیں۔ اس سے پہلے کے اس کا حوصلہ، ہمارا پچھتاوا بن جائے۔
اِس سے پہلے کہ مائیں بچوں کو لوریوں میں اس کی کہانی سنائیں اور ان میں ہماری حیثیت کسی بدنما کیدو جتنی بھی نہ رہی ہو۔