مکان گھر نہیں بنتے اور رقبوں سے ملک نہیں بنتے ان دونوں کے لیے مکینوں کا ہونا ضروری ہے رقبے تو قبرستانوں کے بھی ہوتے ہیں کسی ملک کے رقبے کو ہی ملک نہیں کہتے بلکہ اس کی عوام کو اس کی معیشت ثقافت معاشرت اور سماجی حالت کو ملک کا تشخص سمجھا جاتا ھے
پاکستان کی پہچان خطہ نہیں عوام ہیں
چھوٹی گاڑیوں پہ لائف ٹائم ٹوکن ادا کرنے کے بعد نیا اضافی ٹیکس لگانا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ پنجاب حکومت کے پاس سوائے عوام کی کھال کھینچنے سے امدنی کا کوئی اور ذریعہ نہیں چالان جرمانے ہرجانے اسی طرح پبلک ٹوائلٹ پر ٹیکس بے انتہائی ظالمانہ اور کمینگی سے بھرا فیصلہ ہوگا
جس دائرے میں قصر قدامت کا ہو طواف
جدت کے ’’جرم‘‘ کو کوئی کرتا نہ ہو معاف
بگڑے ہوئے رسوم کا ذہنوں پہ ہو غلاف
آواز کون اٹھائے وہاں جہل کے خلاف
آواز اٹھائے موت کی جو آرزو کرے
ورنہ مجال ہے کہ یہاں گفتگو کرے
جوش
مرکزیت کا حسن یہ ہے کہ سوال پوچھنے والے غدار کہلاتے ہیں،
اور اس کا زہر یہ کہ ایک غلط فیصلہ نسلوں کی سزا بن جاتا ہے۔
قبرستان ہمیشہ خاموش ہوتے ہیں، مطمئن نہیں۔
آزاد معاشروں میں غلطیوں کی قیمت افراد چکاتے ہیں،
مرکزی قوتوں میں حکمران کی حماقت نسلوں کا مقدر بن جاتی ہے۔
طاقت کا ارتکاز اکثر عقل کا ارتکاز نہیں ہوتا۔
راولاکوٹ آزاد کشمیر میں حالات کشیدہ ہیں
یاد رکھیں کشمیر کے لوگ پاکستان کی خاطر 77 سال سے قربانی دے رہے ہیں
یہ حزب المجاہدین حرکت انصار دعوتہ ارشاد کے ذریعے ہزاروں نوجوان کشمیر کاز کیلئے شہید ہوئے
ان تنظیموں کے اپنے بچے یورپ میں پڑھ رہے ہیں
کشمیریوں سے محبت کرو نفرت نہیں
@Taimoor74209 آپ عوام پر پٹرولیم لیوی اور بجلی کے نرخوں کا غیر ضروری بوجھ ڈال رہے ہیں آپ کے لیڈر گلگت بلتستان کی عوام سے پوچھتے رہے کہ کراچی بننا ہے یا لاہور ۔۔۔ لاہور اور پنجاب بھر میں ہونے والے چالانوں کو گلگت بلتستان کی عوام نے ۔مسترد کر دیا ۔۔
آپ عوام پر پٹرولیم لیوی اور بجلی کے نرخوں کا غیر ضروری بوجھ ڈال رہے ہیں آپ کے لیڈر گلگت بلتستان کی عوام سے پوچھتے رہے کہ کراچی بننا ہے یا لاہور ۔۔۔ لاہور اور پنجاب بھر میں ہونے والے چالانوں کو گلگت بلتستان کی عوام نے ۔مسترد کر دیا ۔۔
ابتدا عشق ھے روتا ھے کیا
آگے آگے دیکھیے ہوتا
خوف دیواریں کھڑی کرتا ہے، رحمت دروازے کھولتی ہے،
جو خدا کو صرف خوف میں ڈھونڈتے ہیں وہ فاصلے بڑھاتے ہیں،
خدا کی کاریگری سمجھنی ہو تو کتابِ فطرت کے اوراق پڑھو۔