پنجاب صادق آباد !!
25 افراد بشمول بچوں کو گردوں میں پتھری کے آپریشن کا کہہ کر سب کے گردے نکال لئے گئے !!
طاقتور شیطانوں کا چہیتا ڈاکٹر فواد مختار اب تک 328 افراد کے گردے نکال چکا ہے جو روپورٹ ہوئے ہیں !!
🌡️ گرمی کی لہر اور موسمی صورتحال | پاکستان
🔥 ملک بھر میں گرمی اور ہیٹ ویو کی صورتحال برقرار، خاص طور پر جنوبی پنجاب، سندھ اور بالائی بلوچستان کے کئی علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے کئی ڈگری زیادہ ریکارڈ کیے گئے۔
🔥 آج بھی سندھ، جنوبی پنجاب، مشرقی بلوچستان اور وسطی پنجاب میں شدید گرمی برقرار رہنے کا امکان ہے۔
🌡️ اندرون سندھ، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور، رحیم یار خان، دادو، سبی اور جیکب آباد میں درجہ حرارت 45 تا 48°C تک جا سکتا ہے۔
🌆 لاہور، فیصل آباد، سرگودھا اور ملتان میں موسم نہایت گرم اور خشک رہے گا جبکہ درجہ حرارت 42 تا 45°C کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔
🌊 کراچی میں سمندری ہوائیں جزوی بحال رہنے کے باعث گرمی کی شدت نسبتاً کم مگر حبس زیادہ محسوس ہو سکتا ہے۔
⛰️ شمالی علاقوں، مری، گلیات اور کشمیر میں موسم نسبتاً خوشگوار رہے گا۔
📍 گزشتہ روز گرم ترین علاقے
🔥 ڈیرہ غازی خان: 47.7°C
🔥 کوٹ قیصرانی: 46.1°C
🔥 تونسہ شریف: 45.6°C
🔥 فورٹ عباس: 45.2°C
🔥 لیہ: 45.1°C
🏙️ بڑے شہروں کی صورتحال
🌆 لاہور: 42 تا 44°C
🌆 ملتان: 43.7°C
🌆 فیصل آباد: 43.2°C
🌆 اسلام آباد / راولپنڈی: 40 تا 41°C
🌆 پشاور: 39.4°C
🌆 کراچی: 32 تا 36°C
🌆 کوئٹہ: 34°C
🏔️ پہاڑی مقامات
🌲 مری: 28.3°C
🌲 نتھیا گلی: 27.3°C
🌲 گلیات: 23.6°C
☀️ آج کی گرمی کی پیشگوئی
⚠️ احتیاطی تدابیر
🥤 پانی، لیموں پانی اور ORS کا زیادہ استعمال کریں۔
🧢 دھوپ میں نکلتے وقت ٹوپی یا چھتری کا استعمال لازمی کریں۔
👕 ہلکے رنگ اور ڈھیلے کپڑے پہنیں۔
🚫 دوپہر 11 بجے سے شام 4 بجے تک غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کریں۔
🐦 جانوروں اور پرندوں کیلئے پانی اور سایہ ضرور فراہم کریں۔
مزید اپڈیٹس کے لیے ویدر والے کو فالو کریں
After returning from China without anything worthwhile, Trump talked to Netanyahu twice in less than a week.
Fresh attacks on Iran?
Same thing to get different results?
BTW, Ukraine has also been reactivated against Russia. Launched over 550 drones, some hitting buildings in Moscow.
Things could get out of hand now that “war has developed its own dynamics & is beginning to dictate its terms”to US & Israel.
اس شہزادی کے دل میں پوری دنیا کی دھڑکن تھی۔
اس وقت دنیا میں آٹھ ارب تیس لاکھ لوگ ہیں۔ جو بھی شہزادی کی
تصویر دیکھتا اس کا دل دھڑکے بنا رہ ہی نہیں سکتا۔ بہت مشکل ہے کوئی ایسا ہو گا جسے شہزادی پر پیار نہ آۓ۔ شہزادی کی مسکراہٹ یاد نہ آۓ۔ شہزادی کے لیے دل سے دعا نہ نکلے۔ شہزادی کو اپنے قریب محسوس نہ کرے۔ اور یہ نہ کہے۔
“اوہ میرے خدا… یہ کیا ہو گیا؟”
تقریباً تیس سال گزر چکے۔ لیکن وہ آج بھی بھلائی نہ جا سکی۔ مجھے وہ شہزادی بہت یاد آتی ہے۔ جو AIDS کے مریضوں کے پاس جاتی تھی۔
اُس وقت لوگوں کے دلوں میں ایسا خوف تھا جیسے ہم نے کرونا کے دنوں میں دیکھا۔لوگ مریضوں سے دور رہتے تھے۔
نرسیں اور ڈاکٹر بھی دستانے پہن کر جاتے، فاصلہ رکھتے۔
لوگ سمجھتے تھے کہ اگر AIDS کے مریض کو چھو لیا… تو شاید موت خود انسان کو چھو لے گی۔
مگر ڈیانا اُن کمروں میں جاتی تھی جہاں لوگ جانا پسند نہیں کرتے تھے۔
وہ دستانے پہننے سے انکار کر دیتی۔
مریض کے پاس بیٹھتی۔
اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتی۔
مسکرا کر بات کرتی جیسے اُسے بیماری نہیں… صرف محبت کی کمی ہو۔
مجھے وہ لیڈی ڈیانا بھی یاد آتی ہے…
جو انگولا کی اُس زمین پر چلی تھی جہاں ہر قدم کے نیچے بارود دفن تھا۔
لوگ دور کھڑے تھے۔ فوجی راستہ دکھا رہے تھے۔
اور دنیا کی سب سے مشہور عورت آہستہ آہستہ اُن بارودی سرنگوں کے درمیان چل رہی تھی۔
کوئی اور ہو��ا تو شاید صرف تقریر کر کے واپس آ جاتا…
مگر اُس عورت نے دنیا کو تصویروں سے ہلا دیا۔
مجھے وہ لیڈی ڈائنا بھی یاد آتی ہے…
جو اپنے بچوں کو لے کر عام لوگوں والے پارک میں جاتی تھی۔
وہ لائن میں کھڑی ہوتی۔ جھولے جھولتی، دوڑتی، بچوں کے ساتھ چیختی اور ہنستی۔
ایک شہزادی…جسے ��نیا تاج میں دیکھنا چاہتی تھی…
وہ اپنے بچوں کے ساتھ بھیگ کر ہنس رہی ہوتی تھی۔
مجھے وہ لیڈی ڈائنا بھی یاد آتی ہے…
جو بیمار بچوں کے ہسپتال جاتی تھی۔
چاکلیٹس لے کر۔
کھلونے لے کر۔
پھل لے کر۔
وہ بچوں کے بستروں کے کنارے بیٹھ جاتی۔ بچوں کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی۔ اور کچھ بچے تو اُسے دیکھ کر ایسے مسکراتے تھے جیسے درد چند لمحوں کے لیے کہیں چلا گیا ہو۔
اپنی ذاتی زندگی کے مشکل ترین وقت میں بھی وہ عوام کے سامنے مضبوط رہیں۔ میڈیا ہر لمحہ اُن کا پیچھا کرتا تھا، نجی زندگی خبروں کی زینت بنتی تھی، مگر اس سب کے باوجود وہ charity visits، بیمار بچوں اور جنگ متاثرہ لوگوں سے ملنا نہیں چھوڑتی تھیں۔
شاید اسی لیے دنیا آج بھی انہیں صرف “Princess Diana” نہیں بلکہ “People’s Princess” کے نام سے یاد کرتی ہے۔
شہزادی کے آخری الفاظ کے بارے میں مختلف روایات موجود ہیں، لیکن سب سے زیادہ مشہور بیان اُس فائر فائٹر ڈاکٹر کا ہے جو حادثے کے فوراً بعد موقع پر پہن��ا تھا۔
اُس کے مطابق، جب وہ گاڑی کے پاس پہنچا تو ڈیانا ابھی زندہ تھیں۔ انہوں نے آہستہ سے کہا تھا:
“اوہ میرے خدا… یہ کیا ہو گیا؟”
یہ الفاظ ایک شہزادی کے نہیں تھے۔ یہ ہر اُس شخص کے تھے جس کو پتہ لگتا تھا کہ شہزادی اس دنیا میں نہیں رہی۔ یہ اُن لوگوں کے بھی ہیں جنہوں نے کبھی شہزادی کو نہیں دیکھا لیکن اس کی باتیں سن کے اس کے متعلق پڑھ کے اس کی تصویر دیکھ کر کہتے ہیں۔ تو کیا یہ بات سچ نہیں کہ
اس شہزادی کے دل میں پوری دنیا کی دھڑکن تھی۔
محسن علی
۱۵ مئی ۲۰۲۶ء
------
🌎
محکمہ موسمیات کی ملک بھر میں ’ہیٹ برسٹ‘ کی وارننگ؛ راتوں میں اچانک گرمی بڑھنے کا خطرہ
محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف حصوں میں شدید ہیٹ ویو کے ساتھ ساتھ ایک نایاب موسمیاتی رجحان ’ہیٹ برسٹ‘ (Heat Burst) کی پیشگوئی کر دی ہے، جس کے باعث رات کے اوقات میں درجہ حرارت اچانک انتہائی بلند سطح پر پہنچ سکتا ہے۔
ہیٹ برسٹ کیا ہے؟
موسمیاتی ماہرین کے مطابق ’ہیٹ برسٹ‘ ایک ایسی صورتحال ہے جس میں بارش برسانے والے بادل (Thunderstorm) ختم ہوتے وقت فضا سے خشک اور ٹھنڈی ہوا کو تیزی سے زمین کی طرف دھکیلتے ہیں۔ جب یہ ہوا بلندی سے نیچے آتی ہے تو فضائی دباؤ کے باعث یہ سکڑ کر شدید گرم ہو ��اتی ہے اور زمین پر پہنچتے ہی کسی دھماکے کی طرح گرم ہوا کی لہر پیدا کرتی ہے۔ اس عمل کے دوران چند ہی منٹوں میں درجہ حرارت 10 سے 20 ڈگری تک بڑھ سکتا ہے اور ہوا میں نمی کا تناسب صفر ہو جاتا ہے۔
موجودہ صورتحال اور الرٹ:
محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق:
پاکستان میں سپر ال نینو کے اثرات کی وجہ سے رواں سال مئی اور جون میں گرمی کے پچھلے کئی ریکارڈ ٹوٹنے کا امکان ہے۔
جنوبی پنجاب (خصوصاً ملتان)، سندھ اور بلوچستان کے میدانی علاقوں میں ’ہیٹ برسٹ‘ کے بننے کے واضح امکانات موجود ہیں۔
شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ رات کے وقت بھی اچانک گرمی کی صورت میں احتیاطی تدابیر اختیار کری�� اور پانی کا زیادہ استعمال کریں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ غیر معمولی موسمی تبدیلی موسمیاتی تغیر (Climate Change) کا نتیجہ ہے، جس سے انسانی صحت کے ساتھ ساتھ فصلوں اور لائیو اسٹاک کو بھی شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ سے ایکشن لینے کی درخواست..!
ڈاکٹر نے شہ رگ کاٹ دی، ہنستی مسکراتی معصوم کو نا تجربہ کار قصائی نے موت کی بھینٹ چڑھا دیا۔
معصوم سی بیٹی 13 سالہ سائرہ احسن کے گلے کا آپریشن مبینہ طور پر ای این ٹی ڈاکٹر شاہد علی نے ساہیوال میڈیکل کمپلیکس پر کیا۔ مبینہ طور پر شہ رگ کاٹنے سے بلیڈنگ نہ رکی تو چھٹی دے دی طبیعت بگڑنے پر ساہیوال ٹیچنگ اسپتال لایا گیا دوبارہ آپریشن کیا اور ICU میں چھوڑ کر ذمہ دار رفو چکر ہوگیا، معصوم بچی تڑپ تڑپ کر خالق حقیقی سے جاملی۔
یہ وڈیو آپریشن تھیٹر میں جاتے ہو سائرہ نے خود اپنے بابا احسن کو کہہ کر بنوائی تھی💔😭
کیا پنجاب کی ماں معصوم بے گناہ سائرہ کو انصاف دلوا سک�� گی؟
@MaryamNSharif @hinaparvezbutt
Loadshedding is Back With a Vengeance:
1. Power Division is Pakistan’s most Dangerous Division
2. Power Division has the Power to Bankrupt the Economy
3. Pre-2006, Circular Debt ~ zero
4. In 2006, Circular Debt Rs111B
5. Today, power sector Circular Debt Rs2,000B
6. Today, gas sector Circular Debt Rs3,000B
7. Total Circular Debt ~ Rs5,000B
8. By 2030, Circular Debt ~ Rs9,000B
9. This is not a power crisis
10. This is a compounding debt machine
Pakistan’s most dangerous division
Business
By Dr Farrukh Saleem
April 16, 2026
📷
📷
📷A man sits outside his shop during a country-wide power breakdown in Karachi, on January 23, 2023. �� Reuters
Here’s the hard truth: Pakistan’s Power Division has the power to bankrupt the economy. Yes, the Power Division has formally announced more than two hours of daily loadshedding. Lo and behold, Pakistan does not have a power shortage, Pakistan has a power management failure.
Pakistan has an installed capacity of around 45,000 MW. Peak demand rarely crosses 25,000-28,000MW. That is a surplus of 17,000-20,000MW. And yet, the Power Division is switching off power. Why?
The Power Division offers a justification. Loadshedding, it says, is to “reduce the use of costly fuels” and “prevent a sharp increase in tariffs.” This is a deeply flawed argument. To begin with, it confuses price with cost. Switching off cheaper available electricity during peak hours does not eliminate cost. It merely reallocates cost. Capacity payments, now exceeding Rs 2 trillion annually,do not disappear when plants are shut. They continue to accrue.
The truth the Power Division won’t state: This policy does not control tariffs. It guarantees higher tariffs over time.The Power Division has made demand destruction its explicit policy. It admits the system can meet full demand. It cuts power regardless. Call it what it is: not load shedding, not shortage management, deliberate curtailment. Electricity exists, the Division simply decides you cannot have it.
Pre-2006, circular debt was essentially zero. In 2006, it stood at Rs111 billion. Today, power sector circular debt stands at around Rs2 trillion, with total energy sector debt (power plus gas) exceeding Rs5 trillion. That is a 17-fold increase in 20 years.
The reality: Circular debt has been compounding at an annual rate of 15 per cent per year for two decades straight. At its current rate of growth, Pakistan’s circular debt will cross Rs8 trillion by 2030. No war, no flood, no external shock, just 25 years of the same policy, compounding at 15 per cent a year. That is what makes the Power Division the most dangerous institution in Pakistan.
The Power Division is running a parallel fiscal deficit. It is hollowing out the federal budget. It is killing growth. None of this is abstract. Electricity at Rs50 per unit has pushed large parts of industry to the edge. Textiles, steel, chemicals -- scaling down. Households choosing between food and electricity -- scaling down. Pakistan is not facing a power problem. It is facing an economic contraction. And the Power Division is driving it.
Red alert: The Power Division is not just draining rupees. It is destroying dollar-earning capacity.Pakistan is not running out of electricity. Pakistan is running out of paying consumers. Pakistan is not running out of electricity. Pakistan is running out of money -- and the Power Division sits at the centre of that drain.
https://t.co/sCqE1NZhKT
بریکنگ نیوز
برطانوی میڈیا چینل BBC نے فلسطین میں 160 ایسے کیسز کی وڈیو شہادتیں اکٹھی کی ہیں جس میں اسرائیلی فوج IDF کے سپاہی شوقیہ فلسطینی بچوں کے سروں میں گولیاں مارتے ہیں.
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی بچوں کے سر میں گولی مار کر انہیں قتل کرنا اسرائیلی فوجیوں کا مشغلہ for fun بن چکا ہے.
🚨🚨انتہائی خطرناک خبر پنجاب حکومت کی غفلت ، ایک شہر میں 331بچے ایڈز کا شکار
بی بی سی کی ا��ک تحقیق سٹوری نے مریم نواز حکومت اور پنجاب کے محکمہ صحت پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں
پنجاب کے ایک شہر تونسہ میں 331بچوں کو HIV ہو گیا ہے جو بات خطرناک ترین ہے وہ یہ کہ یہ بات 2024نومبر میں سامنے آئی کہ تونسہ 106بچوں میں ایڈز ہے یہ بات ایک لوکل کلینک کے ڈاکٹر نے پکڑی جس کا نام ڈاکٹر گل قیصرانی ہے اس کے کلینک پر 70بچے شیرخوار یا چھوٹوں کو ڈایگنوز ہوا سب تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال تونسہ سے علاج کروا چکے تھے یہ نومبر 2024کئ بات ان کی ماؤں کو ایڈز نہی تھا صرف چار ایسے کیسز تھے اس کے بعد پنجاب حکومت نے اعلان کیا وہ سب ذمہ داروں کو سزا دے گئ مگر جب بی بی سی نے اس خبر کے عام ہونے اور ایکشن کے علان کے بعد بتیس گھنٹے کی بچوں کی ایمرجنسی وارڈ کی فلم بنائی دس دفعہ اسی سرنج سے دوسرے بچے کو انجیکشن دیا گیا یہ ایک انتہائی خطرناک بات ہے سرکاری ہسپتال ایڈز ب��نٹ رہا ہے
جب پنجاب حکومت نے ایکشن لیا اس وقت 106کیسز تھے آج 331کیسز ہیں کچھ بچے مر بھی چکے ہیں وزیر صحت سے مریم نواز سے سوال ہے یہ سب کیسے ہو رہا ہے کیوں سرکاری ہسپتال استعمال شدہ سرنج استعمال کر رہے ہیں ؟ کیا یہ ��ڈ گورنس ہے ؟
جبر کا مکمل لنک دوسری پوسٹ میں موجود ہے