اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ ؕ
میں گواہی دیتاہوں اللہ کےسوا کوئی معبودنہیں وہ اکیلا ہےاسکا کوئی شریک
نہیں میں گواہی دیتاہوں بیشک محمدصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں
مشکے میں گزشتہ رات معروف صحافی اور انتخاب اخبار کے نمائندے عبداللطیف ولد جان محمد کو ریاستی اہلکاروں نے ان کے گھر میں رات تین بجے سوتے ہوئے، اہلِ خانہ کے سامنے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل 28 فروری کو عبداللطیف بلوچ کے گھر سے ایک ہی خاندان کے آٹھ نوجوانوں کو آرمی کیمپ بلا کر حراست میں لیا گیا تھا۔ ان میں سے پہلے چار، پھر باقی چار افراد کو قتل کر کے ان کی لاشیں پھینک دی گئیں۔ ان مقتولین میں عبداللطیف کا بیٹا، نوجوان سیف بلوچ بھی شامل تھا۔
بلوچستان میں انسانیت سوز اور المناک واقعات کا سلسلہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے، مگر پاکستانی صحافی، انسانی حقوق کے علمبردار اور ریاستی ادارے اس سنگین صورتحال پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ اگر کسی شہری کا قتل جرم ہے، تو یہ بھی تو سویلین ہی تھے جنہیں ان کے گھروں میں، سوتے ہوئے مارا گیا پھر اس پر خاموشی کیوں؟ کیا صرف اس لیے کہ وہ بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں؟ یا اس لیے کہ ان کا تعلق طاقتور اداروں یا اثر و رسوخ رکھنے والے خاندانوں سے نہیں ہے؟
جب ہم ان مظالم کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں، تو ہمیں “پراکسی” اور “دہشتگرد” جیسے القابات دیے جاتے ہیں۔ حالانکہ ہم نے ہمیشہ سویلین کے ہر قتل کی مذمت کی ہے چاہے وہ ریاستی اداروں کے ہاتھوں ہو یا غیر ریاستی عناصر کے لیکن جو ہم سے پرتشدد واقعات کی مذمت کا مطالبہ کرتے ہیں وہ ریاستی اداروں کی طرف سے ہونیوالی انسانی حقوق کے پامالیوں پر کیوں خاموش ہیں، کیوں وہ ریاستی نمائ��دوں سے ان جرائم پر سوال نہیں اٹھاتے؟
وہ لوگ، جو ریاستی اداروں کے ان غیر انسانی جرائم پر خاموش ہیں، درحقیقت جانبدار ہیں۔ ان کی صحافت انسانی حقوق کا محض یک طرفہ ہے۔ انہیں غیر ریاستی عناصر کے مظالم تو نظر آتے ہیں، لیکن ریاستی اہلکاروں کے جرائم پر ان کی آنکھیں بند ہو جاتی ہیں۔
بی ��ائی سی (BYC) پر پروپیگنڈہ اور گمراہ کن بیانیہ نشر کرنے کے بجائے، پاکستانی مین اسٹریم میڈیا کو چاہیے کہ وہ بلوچستان آکر زمینی حقائق کی شفاف رپورٹنگ کرے اور بی وائی سی جو الزام لگا رہی ہے وہ سچ اور حقیقت ہیکہ نہیں۔ صرف اسی صورت میں ہم مان سکتے ہیں کہ آپ کی صحافت اور سیاست غیر جانبدار ہے۔ ورنہ خاموشی، جانبداری اور ظلم کی حمایت ہی سمجھی جائے گی۔
تاریخِ اُمَم کا یہ پیامِ اَزلی ہے
’صاحب نظَراں! نشّۂ قُوّت ہے خطرناک،(اقبال)
ڈی جی آئی ایس پی آر کی یہ تینوں بیانات،حقیقت، سچائی، انصاف اور حکمت سے دور ہیں، یہ کون سا طاقت کا نشہ ہے جس میں اپنے پڑوسی ملک کو،اپنے شہریوں کو دھمکیاں دینا اور اپنے صحافیوں کے سامنے پابہ زنجیر میڈیا کو آزاد کہا جاتا ہے؟؟؟
ماہرنگ جبری گمشدگی، مسخ شدہ لاشوں کیخلاف جدوجہد کررہی ہے اگر آپ کے پاس ثبو�� ہیں تو پریس کانفرنس میں بھی لیکن پارلیمنٹ اور عدالتوں میں پیش کیجئے ثابت کیجئے، سب پاکستانی واہ واہ کرینگے( اور آپ ابھی تک نہیں کرسکے)ورنہ یہ الزام تراشی کہلائے گی۔لوگوں کو دل سے لگائیے دیوار سے نہیں، تاریخ سے سبق سیکھئے۔
ایک پاکستانی ایک ہزار افغانی یہ قطعی غیر ضروری بیان ہے جو سراسر پاکستان کےوجود کی بنیاد ،نظریہ اسلام کیخلاف ہے۔افغانستان ہمارا برادر ملک ہے اس کیساتھ اختلاف کو بات چیت ،گفتگو سے حل کیجئے نہ کہ توہین و تذلیل اور دھمکیوں سے۔
اور پاکستان میں میڈیا آزاد ہے؟؟واہ صاحب ،آپ مذاق بھی خوب کرتے ہیں۔
صاحب !حکمت،تدبر، صبر سے کام لیجئے۔
Congratulations to the newly elected Prime Minister of #Australia, Mr. Anthony Albanese @AlboMP! We hope you will raise your voice against the atrocities being committed in Balochistan by Pakistan. The people of Balochistan deeply respect you and look forward to your support. #Balochistan #HumanRights
گزشتہ شب رات 3 بجے ریاستی اداروں نے کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں واقع بلیز ٹاور پر چھاپہ مار کر بی ایس ایف کے چیئرمین جاوید بلوچ کو ماورائے عدالت گرفتار کر کے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔
جاوید بلوچ ایک پرامن سیاسی کارکن اور بلوچ طلبہ کی نمائندہ آواز ہیں۔ ان کی گرفتاری نہ صرف آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے، بلکہ ایک پوری نسل کی سوچ کو خاموش کرنے کی کوشش ہے۔
جاوید بلوچ کی فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔
#ReleaseJavedBaloch
#StopEnforcedDisappearances
I am disturbed and concerned about the detention of Mahrang Baloch. She represents millions of voiceless people — women and children — who are facing human rights violations in Baluchistan and Khyber Pukhtunkhwa. It is her right to protest and speak out for the most vulnerable people — and she must be immediately released. I stand with Mahrang Baloch. #ReleaseMahrangBaloch
بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی اور اِن کے اَغواہ کاروں کو کَیفَرِ کِردار تَک پَہُنچانا صد در صد ریاست پاکستان کی ذمہ داری ہے !♨️. بلوچ سیاسی رہنما جو اپنی جائز حقوق اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے پُر امن جہد کر رہے تھے اُن کی گرفتاری قابلِ مذمت حرکت ہے ، گرفتار شدہ رہنماؤں کو فوری رہا کیا جاے اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی فوراً بند کیا جاے ♨️