ستارے اگر بتاتے سفر کتنا کٹھن ہو گا
پیالے شہد کے پیتے ،تلخ ایام سے پہلے
یہ جو ہم لفظ لکھتے ہیں ہماری آپ بیتی ہے
کہ دکھ کب تحریر ہوتے ہیں کسی الہام سے پہلے
ایک دن میری وال پہ لکھے گئے الفاظ بوسیدہ ہو جائیں گے۔۔۔۔۔
کبھی جو مجھے یہاں نا پاؤ تو سمجھ جانا کہ یہ میری بیزاری کی انتہا تھی یا سب کچھ ختم ہو چکا ہے ۔۔۔۔۔
اگر روشنی ، روشنی میں ملے بھی تو کیا فائدہ ہے ؟
اندھیرے میں آو !
یہاں آ کے چمکو !
قسم ہے !
مصلّوں سے بھٹکے ہوئے آنسووں کی !
سیہ کار لوگوں کے دل قیمتی ہیں
جو اک بار یہ روشنی میں نہا لیں
تو پھر عمر بھر یہ اجالوں کا معنی نہیں بھولتے ہیں
سو ہم جو سیاہی بھرے صف بہ صف ہیں
تمھاری تجلّی کا عمدہ ہدف ہیں
سو تم !روشنی
لا تخف اپنی پوری توانائی لاو
بھلا اُن بتائے ہووں کو بتانے میں کیوں مر رہی ہو ؟
ادھر آ کے دیکھو !
کہ ہم جو ازل سے زمانے کی دھتکار پر ہیں
جنہیں بد دعاوں کے چرخوں پہ کاتا گیا ہے
یہاں سے اُٹھائے، وہاں سے ہٹائے،اچھوتوں کے مانند
دھکّوں پہ پلتے
سوالی بنے
اپنے اَسوَد دلوں کی سیاہی لئے اب درِ یار پر ہیں !
سو تم روشنی !
ہم سیاہی بھروں کو منوّر بناو
ہم ان پڑھ دلوں کو اجالوں کا معنی بتاو
محبّت
ذرا اس اندھیرے میں آو
یہاں آ کے چمکو !!
علی زریون
کتابوں کی خوبی یہ ہے کہ وہ ناقابلِ یقین کہانیاں اس وقت سناتی ہیں جب سننے کو دل چاہتا ہے انسانوں کا معاملہ عجیب ہے وہ بعض اوقات ایسی باتیں کرتے ہیں کہ گفتگو جاری رکھنا مشکل ہو جاتا ہے