شکیب جلالی کی غزل
حُسنِ فردا، غمِ امروز سے ضَو پائے گا
چاند ڈُوبا ہے تو سورج بھی اُبھر آئے گا
آندھیوں میں بھی فروزاں ہے چراغِ اُمّید
خاک ڈالےسے یہ شُعلہ کہیں بُجھ جائےگا
کُو بہ کُودام بچھےہوں کہ کڑکتی ہو کماں
طائرِ دل، پرِ پرواز تو پھیلائے گا
توڑ کر حلقہِ شب،ڈال کے تاروں پہ کمند
آدمی عرصہِ آفاق پہ چھا جائے گا
ہم بھی دو چار قدم چل کے اگر بیٹھ گئے
کون پھر وقت کی رفتار کو ٹھہرائے گا
راہ میں جس کی،دیاخونِ دل و جاں ہم نے
وہ حَسیں دَور بھی آئے گا، ضرور آئے گا
کارِ کمالِ عشق میں صرفۂ چشم و دل نہیں
لٹ بھی چکی متاعِ جاں، اور کریں تباہ کیا
ہم تو سرِ مشاعرہ خود سے ہی ہم کلام تھے
آپ کی بزمِ شعر کیا، آپ کی واہ واہ کیا
میرِ مشاعرہ کوئی ہے تو بلا سے ہو یہاں
ایک فقیر کے لیے دادِ جہاں پناہ کیا
اختر عثمان
بادباں کھُلنے سے پہلے کا اشارا دیکھنا
میں سمندر دیکھتی ہوں تم کنارا دیکھنا
یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اُس سے مگر
جاتے جاتے اُس کا وہ مڑ کر دوبارہ دیکھنا
کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند
اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا
کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پسپا ہوئے
اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا
جب بنامِ دل گواہی ہم سے مانگی جائے گی
خون میں ڈوبا ہوا پرچم ہمارا دیکھنا
جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے*
ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا
آئینے کی آنکھ ہی کچھ کم نہ تھی میرے لئے
جانے اب کیا کیا دکھائے گا تمہارا دیکھنا
ایک مشتِ خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہے
زندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا
(پروین شاکر)
دوش دیتے رہے بیکار ہی ___ طغیانی کو
ہم نے سمجھا نہیں دریا کی پریشانی کو_!
شرمساری ہے کہ ___ رکنے میں نہیں آتی ہے
خشک کرتا رہے کب تک کوئی پیشانی کو __!
یہ نہیں دیکھتے کتنی ہے ریاضت کس کی
لوگ آسان سمجھ لیتے ہیں آسانی کو __!
“Be always restless, unsatisfied, unconforming. Whenever a habit becomes convenient, smash it! The greatest sin of all is satisfaction.”
—Nikos Kazantzakis
محترمہ عنبرین حسیب عنبر کی غزل
اس عارضی دنیا میں ہر بات ادھوری ہے
ہر جیت ہے لا حاصل ہر مات ادھوری ہے
کچھ دیر کی رم جھم کو معلوم نہیں شاید
جل تھل نہ ہو آنگن تو برسات ادھوری ہے
کیا خوب تماشہ ہے یہ کار گہ ہستی
ہر جسم سلامت ہے ہر ذات ادھوری ہے
محروم تمازت دن شب میں بھی نہیں خنکی
یہ کیسا تعلق ہے ہر بات ادھوری ہے