افغانستان کۍ د ننه امریکه خانه جنګی غواړی; دلته د چین د واخان پروژه ته خنډ د داخلۍ خانه جنګی د لارې چین ته مشکل پیدا کول دی
@NajeebNangyal@ManzoorPashteen@realZalmayMK @Xqueenoo7 @simplyme_herre
ہیلو @OfficialDGISPR
آپ سے پہلے 2019 میں ایک غفورا ماچھی ھوا کرتا تھا اور تب مجھے اس دن اغواء تشدد گیا اور کہا کہ PTM اور بلوچ کی حمایت چھوڑ دو اور میری زندگی تباہ کردی لیکن میں آج تک اپنے موقف پر قائم ھوں لہذا اغواگردی سے کچھ نہیں ھوسکتا،اپنی حرکتیں بدلو
#HumanRightsDay2024
The use of violence to silence peaceful protesters violates Article 21 of the ICCPR, which guarantees the right to peaceful assembly and protest. #BalochFightForHumanRights
پرامن احتجاج اور دھرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے سمجھ نہیں آتی کہ احتجاج سے اتنا ڈر اور خوف کیوں ہے ؟
ہم دونوں اطراف سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہیں
#PtiFinalCall
بالکل ترجمان صاحب ہمیں نظر آرہی ہیں ۔
بلوچستان میں امن و امان -چوبیس گھنٹے بجلی اور گیس ـ بہترین سڑکیں ـاچھی تعلیم اور بہترین صحت کے مراکز۔
مگر پھر بھی چند نادان لوگ پتہ نہیں کیوں نہیں مانتے۔ان لوگوں کو یہ سب کچھ کیوں نظر نہیں آرہی ؟؟
د مشر علي وزير په اړه له څو مياشتو وروسته نن ملګري په دې بريالي شول چې د هغه سره يې ملاقات وکړل
د علي وزير روغتيايي وضعيت هيڅ د ډاډ وړ نه ده او له څو مياشتو راهيسې يې د پنجاب رياست په زندانونو ګرځوي
په علي وزير ډير سخت تشدد شوی او اوس هم د پنجاب رياست د ظلم او جبر لاندې ده
انسانی حقوق کے علمبرداری کے دعوے کرنے والے بہت ہیں احمد نورانی حامد میر وغیرہ لکن یہ ہوائی فائرنگ ہے حامد میر دیکھیں پشتون وطن پر دہشت گردی وغیرہ پر بات نہیں کرتے ہیں البتہ بلوچ لاپتہ افراد کے لیے توانا آوازہے
واحد عاطف توقیر بھائی جو ہمیشہ ہر مظلوم کے لیے اواز بلند کر رہے ہیں
موجودہ حکومت دستور کی پامالی کرکے وفاقی اکائیوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈال رہی ہے۔فوج کی خوشنودی کیلئے دستور کو پاوں تلے روند رہی ہے۔اٹھارویں ترمیم نے مشترکہ مفادات کونسل (CCI) کو ایک اہم آئینی ادارہ بنایا،جو وفاق،صوبوں کے درمیان معاملات اور بین الصوبائی معاملات، پالیسی اور مسائل کو حل کرنے کے لیے ہر 90 دن بعد اجلاس بلانے کا پابند ہے۔ تاہم مختلف حکومتوں نے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس کو نظر انداز کیا۔
موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد، قانون اور آئین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے CCI کا ایک بھی اجلاس نہیں بلایا۔جس سی سی آئی کا اجلاس 3 ماہ میں ایک دفعہ ہونا تھا وہ 34 ماہ میں 11 اجلاسوں کے بجائے صرف 2 اجلاس منعقد کرسکی،اس کے نتیجے میں وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان طاقت کا توازن برقرار نہ رہا،جس سے صوبوں کے مسائل نظر انداز ہوئے۔خاص طور پر، موجودہ حکومت نے دو مواقعوں پر CCI کو غیر دستوری طور پر بائی پاس کیا، ایک بار ارسا قانون میں غیر جمہوری تبدیلیاں کی گئیں اور دوسری بار چولستان کینال پروجیکٹ کے معاملات کو زیر بحث لانے سے انکار کیا گیا۔اور یہ فوج کے زیر انتظام کارپوریٹ فارمنگ کی سہولت کاری کیلئے کیا گیا۔
حکومت کی یہ پالیسیاں وفاقی نظام کو نقصان پہنچا رہی ہیں اور مرکز کو زیادہ طاقتور بناتے ہوئے صوبوں کے حقوق عصب کر رہی ہیں۔
جرنیل اور ان کے سیاسی سہولت کار عدلیہ کے ساتھ میچ کھیل رہے ہیں اور اس دوران علی وزیر کو پنجاب کی مختلف جیلوں کی جبری سیر کرائی جا رہی ہے
#ReleaseAliWazir