إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ اللہ تعالیٰ مرحوم فیض اللہ بگٹی کی مغفرت فرمائے اور ان کے بوڑھے والدین کو صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم عطا فرمائے آمین
فیض اللہ بگٹی روزگار کی خاطر پانی کے ٹینکر کے ساتھ جا رہا تھا مگر افسوس کہ وہ اپنے گھر والوں کے
@CMOBalochistan
کہ جو بھی حق انصاف اور مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرتا ہے اسے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر عوام کے سوالات کا جواب انصاف شفافیت اور قانون کی بالادستی سے نہ دیا جائے تو ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کمزور ہوتا جاتا ہے
حق کی آواز کو دبایا جا سکتا ہے، لیکن ختم نہیں کیا جا سکتا۔
زرداری نون لیگ اور بااثر حلقوں کے اتحاد نے ملک کے نظام پر ایسی گرفت قائم کر رکھی ہے کہ عام آدمی خود کو بے بس محسوس کرتا ہے۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے ادارے اور نظام عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے طاقتور طبقوں کے مفادات کے تابع ہو چکے ہیں
مریدکے میں تحریک لبیک کے کارکنوں کے خلاف ہونے والی کارروائیاں ہوں بلوچستان میں انسانی حقوق کے حوالے سے مسلسل اٹھنے والے سوالات ہوں یا آزاد کشمیر میں عوامی احتجاج کے دوران طاقت کے استعمال پر ہونے والی تنقید یہ سب ایسے معاملات ہیں جن پر عوام آج بھی جواب مانگتی ہے
لوگوں کا احساس ہے
عید الاضحیٰ محبت قربانی اور خوشیوں کا خوبصورت پیغام ہے۔ 🌙❤️
اللہ تعالیٰ سب کی دعائیں عبادات اور قربانیاں قبول فرمائے اور ہر گھر کو خوشیوں سے آباد رکھے۔ 🤲✨
سب کو دل کی گہرائیوں سے عید مبارک۔ 🐐
کیا کوئی علماء اہل سنت میں سے یہ سوال اٹھانے کی جسارت کرے گا کہ مسجد رحمت اللعالمین کا کیا بنا؟ کیا کسی نے ان کی تالے کھولنے کے لیے کوئی آواز اٹھائی ہے
آج وہ سیاہ رات یاد آ رہی ہے جسے گزرے پورے سات مہینے ہو چکے ہیں مگر ظلم کی داستان آج بھی ختم نہیں ہوئی۔ ناجائز حکومت نون لیگ اور پنجاب پولیس کی وردی میں موجود ظالموں نے تحریک لبیک کے مظلوم کارکنوں پر بے پناہ تشدد کیا ہزاروں شہداء کی لاشیں غائب کی گئیں اور آج بھی امیرِ محترم سمیت
مگر حق ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
آج کا مشکل وقت یقیناً ایک آزمائش ہے مگر یہ وقت بھی گزر جائے گا۔ حق اور سچ کا پرچم ہمیشہ بلند رہے گا اور وہ قوتیں جو عوام کی آواز کو دبانا چاہتی ہیں بالآخر ناکام ہوں گی۔
جب سیاست دلیل سے خالی ہو جائے تو پھر ہتھکنڈے بولتے ہیں اور جب حکمران اپنے مؤقف کو عوام کے سامنے ثابت کرنے میں ناکام ہو جائیں تو وہ جبر انتقام اور خوف کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ جبری گمشدگیاں اسی کمزوری اور سیاسی انتقام کی بدترین شکل ہیں جو نہ صرف انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں
بلکہ ریاستی انصاف پر بھی سوالیہ نشان بن جاتی ہیں۔
یہ طرزِ عمل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سچ اور حق کی آواز سے ڈر محسوس کیا جا رہا ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جبر کبھی بھی حق کو دبا نہیں سکا۔ جو لوگ ظلم کے ذریعے آوازوں کو خاموش کرنا چاہتے ہیں وہ یہ یاد رکھیں کہ خاموشی وقتی ہو سکتی ہے