ہم گورنر ہاؤس پہنچے، میری بیٹی اور اس کی انا ساتھ تھے، ہمیں صدارتی سویٹ میں ٹھہرایا گیا، مصطفی کھر نے کھانا میرے ساتھ کھایا، میں نے کہا اگر شیری ( مصطفی کھر کی بیوی) کو پتہ چل گیا تو؟ مصطفی کھر نے جواب دیا کہ وہ پریشان نہیں کرے گی، اس بتا آیا ہوں کہ میں نے علمائے کرام سے مذاکرات کرنے ہیں، خاصی رات گزارنے کے بعد مصطفی رخصت ہوا، مینڈا سائیں
گورنر پنجاب مصطفی کھر کو وزیراعظم زوالفقار علی بھٹو کے ساتھ پنجاب کے دورے پر جانا پڑا تو لاہور میں کوئی آب و تاب نہ رہی، میں کسوال میں اپنی ایک عزیزہ کے گھر چلی گئی وہاں نہ سڑکیں تھیں، نہ بجلی اور نہ ہی ٹیلی فون تو مجھے ایسی ہی جگہ درکار تھی جہاں مصطفی کھر کی رسائی نہ ہو.
وہ لاہور واپس آیا تو اس نے گورنر کا طیارہ اوکاڑہ پہنچانے کا حکم دیا ،اپنی سرکاری مرسڈیز، پانچ سو ایس ای ایل سڑک کے زریعے اس نے اکاوڑہ بھجوائیں،
گاڑیوں کا شور سن کر باہر نکلی تو وہ باہر کھڑا تھا اس نے کہا تمھیں لاہور واپس چلنا ہوگا ابھی، میں تمھارے بغیر زندگی نہیں گزار سکتا.
رشتے داروں کے سامنے بہانہ کیا کہ گورنر میرے میاں کا دوست ہے، مجھے جانا ہی پڑے گا، ہم پہلے اوکاڑہ اور پھر وہاں سے گورنر کے طیارے میں لاہور پہنچے.
لاہور پہنچ کر مصطفی پروٹوکول میں اور میں ایک رنگین شیشیوں والی گاڑی میں پہنچے.
میرے شوہر انیس کو مصطفی نے ایک انتہائی خفیہ مشن پر پشاور چلتا کر دیا تھا کہ اسے وہاں '' صرف آپ کے پڑھنے کیلئے ' خط کسی کو پہنچانا تھا، اس شخص سے ملوانے میں ٹال مٹول سے کام لیا جاتا رہا تاکہ وہ پشاور رکا رہے ،مصطفی کا دوست اسے خود ائیر پورٹ چھوڑ کر آیا تھا تاکہ اس کی روانگی کے بارے میں کوئی شبہ نہ رہے. وہ اب اپنا مشن مکمل کیے بغیر واپس نہیں آ سکتا تھا اور ادھر مصطفی بدنصیب انیس کو واپس بلانے سے پہلے خود اپنے مشن کو یقینی طور پر تکمیل تک پہنچانے کیلئے تلا بیٹھا تھا، مینڈا سائیں ( تہمینہ درانی)
گورنر پنجاب مصطفی کھر کو وزیراعظم زوالفقار علی بھٹو کے ساتھ پنجاب کے دورے پر جانا پڑا تو لاہور میں کوئی آب و تاب نہ رہی، میں کسوال میں اپنی ایک عزیزہ کے گھر چلی گئی وہاں نہ سڑکیں تھیں، نہ بجلی اور نہ ہی ٹیلی فون تو مجھے ایسی ہی جگہ درکار تھی جہاں مصطفی کھر کی رسائی نہ ہو.
وہ لاہور واپس آیا تو اس نے گورنر کا طیارہ اوکاڑہ پہنچانے کا حکم دیا ،اپنی سرکاری مرسڈیز، پانچ سو ایس ای ایل سڑک کے زریعے اس نے اکاوڑہ بھجوائیں،
گاڑیوں کا شور سن کر باہر نکلی تو وہ باہر کھڑا تھا اس نے کہا تمھیں لاہور واپس چلنا ہوگا ابھی، میں تمھارے بغیر زندگی نہیں گزار سکتا.
رشتے داروں کے سامنے بہانہ کیا کہ گورنر میرے میاں کا دوست ہے، مجھے جانا ہی پڑے گا، ہم پہلے اوکاڑہ اور پھر وہاں سے گورنر کے طیارے میں لاہور پہنچے.
لاہور پہنچ کر مصطفی پروٹوکول میں اور میں ایک رنگین شیشیوں والی گاڑی میں پہنچے.
میرے شوہر انیس کو مصطفی نے ایک انتہائی خفیہ مشن پر پشاور چلتا کر دیا تھا کہ اسے وہاں '' صرف آپ کے پڑھنے کیلئے ' خط کسی کو پہنچانا تھا، اس شخص سے ملوانے میں ٹال مٹول سے کام لیا جاتا رہا تاکہ وہ پشاور رکا رہے ،مصطفی کا دوست اسے خود ائیر پورٹ چھوڑ کر آیا تھا تاکہ اس کی روانگی کے بارے میں کوئی شبہ نہ رہے. وہ اب اپنا مشن مکمل کیے بغیر واپس نہیں آ سکتا تھا اور ادھر مصطفی بدنصیب انیس کو واپس بلانے سے پہلے خود اپنے مشن کو یقینی طور پر تکمیل تک پہنچانے کیلئے تلا بیٹھا تھا، مینڈا سائیں ( تہمینہ درانی)
Salman Akram Raja could not hold back his emotions over the tragic PIMS incident.
He is truly expressing the pain and anger felt by every conscientious and sensible Pakistani.
@RShahzaddk اس نفسیاتی مریض کو کوئی یاد دلائے اسکے سیریل بھگوڑے نے اپنے ایم پی ایز اور ایم این ایز کو ہدایت دے رکھی ہے کہ محسن نقوی کے خلاف کچھ نہ بولنا
بے اختیار پمز ہسپتال اسلام آباد پہنچا۔ ۱۵ نومولود معصوم پھولوں کی شہادت پر اللہ تعالیٰ سے اجتماعی معافی و مغفرت کا طالب ہوں۔ الفاط ادا نہیں ہوتے۔ وہ نظام جو عام انسانوں کو بھیڑ بکری بھی نہیں سمجھتا، جہاں عوام ناانصافی اور غربت تلے پسے ہیں، نہ آواز اٹھانے کی اجازت ہے نہ چادر اور چاردیواری کی حرمت ہے وہاں ہسپتالوں میں موت اور سکولوں میں جہالت ہی ملے گی۔ اللہ تعالیٰ لواحقین کو صبر عطا فرمائے۔