2011 میں جب پروجیکٹ عمران خان پہ کام کیا جا رہا تھا تو تب میرا ایک دوست تھا جس کے ساتھ میں نے دو ٹی وی چینل پہ کام کیا اور باقی بھی بڑے بڑے تجزیہ نگار کالم لکھتے تھے احمدی نژاد اور عمران خان کا موازنہ کیا جاتا تھا پاکستان کو بھی ایسا لیڈر چاہیے جو احمدی نژاد جیسا ہو جو سادہ مزاج ہو جس کے کپڑوں میں سوراخ ہوں جو زمین پہ سوتا ہو آج نیویارک ٹائمز بتا رہا ہے جس کے کپڑوں میں سوراخ تھا جو زمین پہ سوتا تھا جو بڑا سادہ تھا جس نے خطے کی تقدیر بدلنی تھی وہ تو موساد کا ایجنٹ تھا ابصار عالم
جب ہم نے کہا جموں اور لداخ ریجن کے لوگ خود کو کشمیری نہیں سمجھتے، یہ صرف وادی کے لوگوں کو کشمیری سمجھتے ہیں تو کچھ دوستوں کو اعتراض ہوا کیونکہ آزاد کشمیر کے کچھ علاقے جموں ریجن میں شامل ہیں، ڈاکٹر کرن سنگھ مہاراجہ ہری سنگھ کی اکلوتی اولاد ہے، جموں و کشمیر کے شاہی حکمران خاندان کے واحد چشم و چراغ ہیں خود کو اب بھی ریاست کا اعزازی مہاراجہ سمجھتے ہیں، ان کا خاندان ڈوگرہ راجپوت "جموال" قبیلے سے ہے، کہتے ہیں مجھے کشمیری نہ کہیں کیونکہ میں ڈوگرہ ہوں، ریاست کا نام اسی لئے جموں اینڈ کشمیر ہے۔
پاکستان کی کشمیر پالیسی سے سو اختلاف کریں، یہاں کے حکمرانوں کی بے حسی پر لاکھ سوالات اٹھائیں، کشمیری قیادت کے کردار پر بھی جی بھر کے تنقید کریں، لیکن کشمیر کو لیکر پاکستان اور بھارت کا کوئی موازنہ نہ کریں، جو یہ موازنہ کررہے ہیں وہ بحیثیت کشمیری دلی یا بھارت کے کسی دوسرے شہر میں دو دن رہ کر آئیں ساری غلط فہمی دور ہوجائے گی۔
وفاقی وزیر خواجہ آصف نے جن حالات میں راولاکوٹ یا پونچھ کے رہنے والوں کی شناخت پر سوال اٹھایا ہے، یہ حالات شاید اس بحث کے لیے موزوں نہیں تھے، تاہم تاریخی طور پر یہ بات درست ہے کہ جموں و کشمیر کے مختلف خطوں میں رہنے والے تمام لوگ کشمیری نہیں کہلاتے اور نہ ہی خود کو کشمیری کہلوانا پسند کرتے ہیں، جموں، لداخ اور گلگت کے میرے کئی دوست یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جب بھی "کشمیر" کا ذکر کیا جائے تو "جموں و کشمیر" کہنا زیادہ درست ہے، کیونکہ جموں، لداخ اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے اپنی الگ علاقائی شناخت پر زور دیتے ہیں۔
خواجہ آصف کے بیان کے سیاسی اور سفارتی پہلوؤں سے اختلاف تو کیا جا سکتا ہے، تاہم جغرافیائی تناظر میں انکی بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا، تاریخی طور پر سابق ریاست جموں و کشمیر ایک متنوع خطہ تھا جس میں وادی کشمیر، جموں، لداخ اور گلگت بلتستان جیسے مختلف علاقے شامل تھے، اور ان سب کی الگ الگ زبانیں، ثقافت، تہذیب روایات اور علاقائی شناخت موجود رہی ہے اب بھی ہے، روایتی معنوں میں "کشمیر" سے مراد بنیادی طور پر وادی کشمیر اور آزاد کشمیر کا مظفرآباد ڈویژن لیا جاتا ہے، جبکہ جموں کے لوگ خود کو ڈوگرہ، لداخ کے لوگ لداخی اور گلگت بلتستان کے لوگ اپنی الگ علاقائی شناخت کے ساتھ پہچانتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ تاریخی طور پر ریاست کو "جموں و کشمیر" کہا جاتا رہا، نہ کہ صرف "کشمیر" اسی طرح زبان، ثقافت، لباس، رسوم و رواج اور تاریخی پس منظر کے اعتبار سے وادی کشمیر، جموں، لداخ، گلگت بلتستان اور پونچھ کے درمیان نمایاں فرق موجود ہے۔
کشمیری پہناوے کی بات ہو، کھانے کی بات ہو، موسیقی کی بات ہو، زبان کی بات ہو دنیا میں جب کشمیری ثقافت کی بات ہوتی ہے تو عموماً اس سے وادی کشمیر کی تہذیب اور ثقافتی روایت مراد لی جاتی ہے، تاریخی طور پر بھی موجودہ ریاست کے تمام علاقے ہمیشہ سے کشمیر کا حصہ نہیں رہے بلکہ مختلف ادوار میں فتوحات اور سیاسی تبدیلیوں کے نتیجے میں انہیں ایک انتظامی و سیاسی اکائی کی شکل میں جوڑا گیا، جسے بعد ازاں ریاست جموں و کشمیر کہا گیا، اس لیے مختلف علاقوں کی الگ شناخت، زبان اور ثقافت کو تسلیم کرنا کسی کی نفی نہیں بلکہ ایک تاریخی حقیقت ہے اور اس پر فخر ہونا چاہیے، البتہ اس نوعیت کے حساس معاملات پر گفتگو کرتے وقت موقع محل اور الفاظ کے انتخاب کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے تاکہ غیر ضروری غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں۔
سید عاصم منیر جب تمام فرقوں کے علامہ کی مجلس میں بیٹھے تو ان سے سوالات کیے گئے کافی سارے،
جب کوی ایک مولوی ایک آیت پڑھتے تھے تو فیلڈ مارشل جواب میں چار آیت ترجمےکے ساتھ پڑھ کر انکو چپ کراتے تھے
کسی میں اتنی جرت نہیں ہوی ک یہ کہے اپ تو فوجی ہیں آپکے پاس. مدرسے کی ڈگری کہاں ہے
ڈی چوک کے کنٹینر کے سائے تلے حب الوطنی کے گانوں پر جو ناچ گانا ہوتا ہے، وہ کوئی آزادی کی تحریک نہیں ہے۔ وہ ایک سستا جنسی اور نفسیاتی زنا ہے جسے 'شعور' کا نام دے کر حلال کر لیا گیا ہے
اس ملک میں جب طوائف اپنے کوٹھے پر ناچتی ہے تو اسے گناہ کہا جاتا ہے لیکن جب وہی ناچ ڈی چوک میں سیاسی جھنڈا اٹھا کر کیا جائے تو اسے 'شعور کی بیداری' کہہ دیا جاتا ہے۔ میاں! اس سے بڑی منافقت اور کیا ہوگی
اور اخر میں
جس شعور کی قیمت گھر کا سکون باپ کی پگڑی اور خاوند کی عزت ہو وہ شعور نہیں وہ خارش زدہ کتے کی وہ باؤلی نسل ہے جو اپنے ہی مالک کو کاٹنے دوڑتی ہے
پاکستان میں آپ کے پاس ایک فیلڈ مارشل ہیں، جو بہت شاندار شخصیت ہیں۔ اور ایک وزیرِ اعظم ہیں، اور دونوں کے درمیان انتہائی بہترین ہم آہنگی ہے۔ فوجی رہنما وزیرِ اعظم کا مکمل احترام کرتے ہیں۔ یہ ایک خوبصورت منظر ہے
روسی فارن منسٹر نے انڈین صحافی کے پاکستان کے خلاف بار بار سوال کرنے پر اس کو نکل جانے کا مشورہ دے دیا انڈیا اور ہندوستانی ہر جگہ اور موقع پر ذلیل ہو رہے ہیں ۔۔۔۔
پاکستان سے زیادہ گھٹیا میڈیا پوری دنیا میں کسی کا بھی نہیں ہوگا اور جس طریقے کی چیزوں کو یہ پروپیگنڈا کرتا ہے اس ملک کی تباہی میں سب سے بڑا ہاتھ پاکستان کی میڈیا کا بھی ہے اور رہی سی کثر ان یوتھیوں نے پوری کر دی ہے اس ویڈیو کو غور سے دیکھیں اور حکومت نے جو 8 ہزار کچھ کا فگر دیا غربت کی لکیر سے نیچے والوں کا اس کو کس طریقے سے میڈیا کے پیش کیا گیا اس ویڈیو کو پورا دیکھیں اس میں خان صاحب کا دور میاں صاحب کا دور ہم موجودہ دور سب شامل ہیں
آزاد کشمیر میں فسادی ایکشن کمیٹی کو دلائل سے دانیال عزیز نے پچھاڑا ھے باقی جس جماعت کی حکومت ھے آزاد کشمیر میں وہ پیپلزپارٹی تو چاھتی تھی فساد برپا ھو،اور کسی وفاقی حکومت کے کرتا دھرتا نے اس واضع الفاظ میں ان کی حقیقت بیان نہیں کی
@ShabbirDar5@JAAC__Official اس بیچارے کو خود بھی پتہ نہی یہ کیا کیہ رہا ہے ۔میں یقین سے کہہ سکتا ہوں اس نے خود کبھی آئین پڑھا ہی نہیں ہے نہ اسکو اتنی سمجھ ہےب
چلیں انگریزی چھوڑ دیتے ہیں شاید @JAAC__Official کے چارٹر آف ڈیمانڈ میں شامل حلف برداری سے متعلق مطالبہ ہم نہیں سمجھے ہونگے، یہ سنیں اور ہمیں بھی سمجھائیں موصوف کیا کہنا چاہ رہے ہیں جبکہ ان سے بار بار پوچھا جارہا ہے ایک چیز جو پہلے سے موجود ہے اسکو تبدیل کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ موصوف آخر میں کہتے ہیں ہم اسے renew کرنا چاہتے ہیں، بھائی ریاست سے حلف کی بات ہورہی ہے کوئی ڈرائیونگ لائسنس یا پاسپورٹ تھوڑی ہے جسے renew کیا جائے۔ جن لوگوں نے اس حلف نامے کو تحریر کرکے آزاد کشمیر کے آئین اور الیکشن ایکٹ میں شامل کیا ٹھا کیا وہ اندھے یا آپ سے کم عقل تھے، دوسری بات مذاکرات میں شامل لوگوں کا کہنا ہے یہ مطالبہ حلف نامے میں اضافے کیلئے نہیں تھا بلکہ پہلے سے موجود حلف نامے میں ترمیم کی ڈیمانڈ تھی۔
کچھ لوگ مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کی تحریک کا موازنہ کررہے ہیں اور پاکستان اور بھارت کو ایک ترازو میں تولنے کی کوشش کررہے ہیں، ان سے عرض ہے ایک طرف تہاڑ جیل کی کال کوٹھریاں ہیں، اجتماعی قبریں ہیں، لاپتہ افراد کا المیہ ہے، لاکھوں کشمیریوں کی شہادتیں ہیں، پھانسی گھاٹ ہیں، عمر قید کی سزائیں ہیں، عقوبت خانے ہیں اور نسلوں پر محیط قربانیوں کی داستان ہے، ماؤں کی اجڑی گودیں ہیں اور بیواؤں کی سسکیاں ہیں، یتیم بچوں اور بچیوں کی آہیں ہیں، دوسری طرف اسمبلی کی چند نشستوں کے حساب کتاب کی لڑائی ہے۔