عمران خان جیسے مضبوط انسان کو فوج جیل میں مرسی کی طرح مارنا چاہتی ہے تبھی پہلے آنکھ خرابی کا مسلہ ہوا اور اب ٹارچر تنہائی کی وجہ مزید بیماریوں کا شکار کرنا چاہتے ہیں مرسی کی طرح
دو قومی نظریہ!
قوم کی بیٹی اپنے حق کیلئے آواز اٹھانے پر گریبان سے گھسیٹی جاتی ہے جبکہ کرنل کی بیوی پولیس سے ڈنڈا چھین کر سویلینز پر جھپٹنے پر بھی مظلوم ہے!
#پاکستان_کی_کہانی
Join my Patreon Site, as “Strategic Insider” or Free Member, whatever suits you, but join to support my journalism & better understanding of the world: https://t.co/odqSe2O4Ia?
رینجرز نے کراچی میں سرفراز شاہ کو گولی ماردی ، خون بہتا رہا ہسپتال نہیں لیجانے دیا نوجوان کی وفات ہوگئی۔ ان میں سے کسی رینجرز اہلکار کو پھانسی نہیں ہوئی۔ اس نے کس کی ماں کو چھیڑا تھا؟
سہیل آفریدی کے نام
اگلے روز آپ کی گفتگو کا ایک ٹکڑا سنا۔ آپ فرما رہے تھے اگر میرا یہ خواب ہوتا کہ میں نے وزیر اعلیٰ بننا ہے تو وہ میں بن گیا تو کیا میری زندگی کا مقصد ختم ہو گیا؟ نہیں، یہ ایک سیڑھی ہے اس حد تک جانے کے لیے جس کا میں نے خواب دیکھا ہے۔ آفریدی صاحب اللہ آپ کو مستقبل میں اس ملک کا وزیراعظم بنائے۔ اللہ آپ کے خوابوں کو پورا کرے لیکن ہماری اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمارے خوابوں کو بھی پورا کرے۔
جناب ، سیاست آپٹکس کا کھیل ہے۔ آپ کیا کرتے دکھائی دے رہے ہیں بس اسی کی اہمیت ہے۔ آپ ایک فوجی کی میت کو کاندھا دے رہے ہیں۔ جبکہ انہی لوگوں نے عمران خان کو قید تنہائی میں ڈال رکھا ہے۔ انہی کی ڈھٹائی کی وجہ سے عمران خان کی بینائی خطرے میں ہے۔ جس کی وجہ سے آپ آج وزیراعلی ہیں اسکو اسکی سگی بہنوں نے کئی ہفتوں کی وجہ سے نہیں دیکھا اور ملاقات کی کوششوں کا نتیجہ ہفتہ وار تشدد کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہ تو فرد واحد کی کہانی کے چند پہلو ہیں۔
انہی لوگوں نے ہمارا مینڈیٹ چھین رکھا ہے۔ انہی لوگوں مے درجنوں نہتے لوگ شہید کیے ہیں۔ انہی لوگوں نے عزتیں پامال کی ہیں۔ انہی لوگوں کی وجہ سے اس ملک میں ہزاروں لاکھوں لوگ بھوکے ننگے غربت کی زندگیاں گزار رہے ہیں۔ انہی لوگوں کی وجہ سے ہم عالمی ذلت و رسوائی کے آخری دہانوں تک جاپہنچے ہیں۔
یہ ملک بھی ہماری ہے اور یہ فوج بھی ہماری ہوگی جب یہ ہماری تذلیل کرنا بند کردے گی ، اپنے آئینی دائرہ کار میں واپس چلی گئی گی۔ اس ملک کو لاحق خطرات ، فوج کی اہمیت اور ملک کی ضرورت پر سو نمبر کا مضمون ابھی لکھوا لیجیے ، لیکن اس وقت جب یہ الفاظ لکھے جارہے ہیں تو کراچی سے لیکر اسلام آباد تک فوج آٹھ فروری کے احتجاج کے پیش نظر تحریک انصاف سے وابستہ لوگوں کے گھروں پر حملے کروا رہی ہے۔ انکے اہلخانہ کو بے عزت کر رہی ہے۔ ان کی املاک کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
تو ان سبھی حالات میں جو آپٹکس آپ جنریٹ کرنا چاہتے ہیں یہ سب سے پہلے تو آپ کے لیے نقصان دہ ہوں گے۔ آپ نے جو خواب دیکھے ہیں وہ چکنا چور ہوجائیں گے۔ اسکے بعد یہ سب اس شخص کے لیے سخت نقصان دہ ہے جو معلوم نہیں کن حالات میں ہے اور کئی ہفتوں سے قید تنہائی میں ہے۔ پھر اسکے بعد یہ آپٹکس پہلے سے مرتی عوام کے لیے باعث عذاب ہیں۔ فوج اسی ہمدردی کو ، انہی آپٹکس کو اپنا ناجائز قبضہ برقرار رکھنے کے لیے استعمال کرے گی۔ فوج کا یہ قبضہ مرتی جاتی عوام کے سینے میں برچھیاں گھسا رہا ہے۔
آپ پر توقعات کا بوجھ اور حالات کا بوجھ آپکی عمر اورتجربے سے زیادہ ہے لیکن آپ کے حوصلوں سے زیادہ نہیں ہے۔ آپ اپنے اس کردار کو احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں۔ عوام کو موبلائز کررہے ہیں۔ مزاحمت کا جھنڈا ہر دن بلند کررہے ہیں۔ لیکن عوام کی توقعات کا بوجھ بتاتا ہے کہ آپ کے پاس بہت زیادہ وقت نہیں بچا۔ عمران خان کی قید تنہائی کی طوالت ، فوج کی جانب سے جبر کا نہ رکنے والا سلسلہ ، بڑھتا ہوا عوامی دباؤ اور حسب روایت یہاں کی ٹانگیں کھینچنے کی روایت آپ پر پوری شدت سے حملہ آور ہوں گی۔
ہم کوئی مسلح جدوجہد نہیں کررہے۔ ہم نے فوج کے خلاف کوئی بندوقیں نہیں اٹھا رکھیں۔ ہم فوج پر حملوں کی ترغیب نہیں دیتے پھرتے۔ ہم سوال کرتے ہیں ، تنقید کرتے ہیں اور کبھی کبھار تضحیک کرتے ہیں۔ کیونکہ ہم بتانا چاہتے ہیں کہ فوج ہمارے ساتھ جو کررہی ہے ، عمران خان کیساتھ جو کررہی ہے اور اس ملک کے ساتھ جو کررہی ہے ہمیں اس سے نفرت ہے۔
ہم نے سوال سے، احتجاج سے ، دلیل سے ، ووٹ سے ، تنقید سے ، اپنا پیغام پہنچانے کی کوشش کی۔ لیکن جواب میں ہمیں گولی ، برہنہ ویڈیوز ، تشدد ، گمشدگیاں اور تضحیک ملی۔ اب ہمارے پاس نفرت ہے۔ آپ اسکے درمیان میں آکر اپنا نقصان کریں گے۔ ہمارا نقصان کریں گے۔ اگر پاک فوج کو اپنے شہداء کی ، اپنی ساکھ کی ، اس ملک کی ترقی اور عزت عزیز ہوئی تو وہ اس ملک کی اکثریت کی خواہشات اور مفادات کو عزت دینا شروع کردے گی تو پھر ہم بھی ان سے نفرت بند کردیں گے اور انکی عزت کرنا شروع کردیں گے۔
مجھے یہ بھی اندازہ ہے کہ ایک بے نامی اکاونٹ کے پیچھے بیٹھ کر یہ کہنا آسان ہے۔ میدان میں رہ کر اس چیز کو فیس کرنا ، سنبھالنا بہت مشکل ہے۔ لیکن شاید یہ بات اس ملک کے جذباتی عوام کی اکثریت نہیں سمجھتی۔ شاید وہ سمجھ سمجھ کر تھک گئے ہیں۔ بہرحال آپ اپنے آپٹکس تباہ کررہے ہیں۔ آپ اپنے پیروں پر وہی کلہاڑی مار رہے ہیں جو علی امین گنڈاپور نے ماری۔ آپ اپنے خواب تباہ کررہے ہیں۔ صحیح اور غلط کا فیصلہ وقت کرے گا ، حالات کس نہج تک جائیں گے اللہ جانے ، لیکن جو دیوار پر لکھا ہے وہ آپ کو پڑھ کر سنا دیا ہے۔
خیر اندیش
ادارہ ہذا
My brother and I are trying to travel to Pakistan to see our father. For 914 days, he has been held in solitary confinement while his health deteriorates and he is denied access to independent medical care.
Now the government is deliberately refusing to process our visas. Denying a prisoner treatment is cruel. Denying his children the right to see him is collective punishment. I call on international human rights organisations and governments to speak out and act before irreversible harm is done.
خودساختہ فیلڈ مارشل کے ساتھ ہاتھ ہو گیا! دکاندار بن کے معدنیات بیچ رہے تھے، مگر ھندوستان بازی لے گیا! مودی کا وزیر خارجہ واشنگٹن میں معاملات طے کر رہا ہے! جرنل کے ملازم، اسحاق ڈار کو بلایا ہی نہیں! کہانی ختم، پیسہ ہضم! مودی کی اپنے بھائی ٹرمپ سے ڈیل ہو گئی! اور ہم دیکھتے رہ گئے! ... https://t.co/h4MoCgLIcK via @YouTube
8 فروری وہ تاریک دن
جب عوام کے ووٹ کو بوٹوں تلے بے دردی سے روندا گیا
جب جمہور کی آواز کو بزور طاقت دفن کیا گیا
جب نوجوانوں سے
ان کے روشن مستقبل کی پر امن امید چھین لی گئی
آج وقت ہے غلامی کے اس زندان سے نکلنے کا
اور اپنی حقیقی طاقت کے پرامن اظہار کا
ہم غلامی ہرگز قبول نہیں گے
ہم جعلی مینڈیٹ ہرگز تسلیم نہیں کریں گے
8 فروری پورا پاکستان بند
#فوکس_8فروری_سب_بند