ہم تمھیں مفت میں جو مل گئے ہیں تو یہ مت سمجھو کہ ہماری کوئی قیمت نہیں ہے ہماری قیمت ان سے پوچھوجن کے ہاتھ اور دامن حالی رہ گہۓ ہیں ترس اور محبت میں بہت فرق ہے اور جب تک تمھیں یہ نظر نہیں آئے گا ہم بھی نظر نہیں آئے گے محبت ہمیں حق سمجھ کہ دو 💔
کوئی رنجش مری ذاتی نہیں ہے
یہ دنیا راس بس آتی نہیں ہے
امیدیں ہیں تو ہیں ساری خزاں سے
بہار اچھی خبر لاتی نہیں ہے
بھروسہ خار پر ہے گل کی نسبت
کہ اس کی خو بدل پاتی نہیں ہے
سمجھ آئی ہے جب سے اس جہاں کی
کوئی شے اک نظر بھاتی نہیں ہے
تو اپنے خواب میں کیا دیکھتا ہے
ہمیں تو نیند اب آتی نہیں ہے
سرہانے رات میرے جاگتی ہے
اندھیرا ہی مرا ساتھی نہیں ہے
اندھیروں کو بھلا اب کوسنا کیا
دیے میں جب ترے باتی نہیں ہے
تھکن سے چور ہے خود نا خدا بھی
یہ کشتی ڈوب کیوں جاتی نہیں ہے