اطہر کے قربی زرائع سے پتہ چلا ہے کہ ایک مرتبہ سخت گرمی میں ایک فقیر نے اطہر کاظمی سے پانی مانگا جو اس نے نہیں دیا اس پر فقیر نے بدعا تھی کہ “تو ٹی وی پر زلیل ہوگا “ توبہ
یہ افعانستان ہے اور وہاں کی رجیم جو اسلام کی شریعت کی ٹھیکیدار بنی پھرتی ہے ان کا مکروہ چہرہ اس ویڈیو میں دیکھیں کیسے طالبان پولیس کے اہلکار نوجوان افغان لڑکیوں کو کپڑے اتارنے کا کہہ رہے ہیں۔
@Asad_Umar پہلے مجھے لگا کوئی ڈمی اکاؤنٹ ہے لیکن چیک کرنا پڑا اور اب یقین ہو گیا ہے جنرل باجوہ نے تمہیں ٹھیک نکلوایا تھا تمہاری تو سوچ ہی دو ٹکے کی ہے اور تم وزیر حزانہ بنے رہے تم دونوں بھائی نمک ھرام ہی ہو ویسے
میرا بلال غوری سے کوئی خاص تعلق نہیں بس ایک منہ دیکھے کی عزت ہے جو ہم دونوں ملنے پر نبھا لیتے ہیں ۔۔۔ مگر میرا ایک اصولی موقف ہے کہ صحافی کی رائے کے اختلاف پر اس پر فوجداری ( یعنی کریمنل لا کے تحت مقدمہ اور گرفتاری) کسی مہذب معاشرے میں نہیں ہو سکتی۔ پ��ا چلا ہے کہ ایک تقرری پر ان کی رائے کو حقائق کے منافی قرار دیا جا رہا ہے تو اس کا سادہ سا طریقہ ہے کہ کوئی دوسرا "دوست" حقائق بیان کر دے۔
مجھے اس وقت حیرت ہوتی ہے کہ وہ تمام لوگ کبھی گرفتار نہیں ہوتے جو کھلم کھلا جھوٹ بولتے ہیں۔ بتاتے ہیں کہ جرنیلوں نے رات کے اندھیرے میں اڈیالہ کے پچھلے دروازے سے جا کے عمران خان کے پاؤں پکڑ لئے۔ ان سے سچ نہیں پوچھا جاتا جو برملا کہتے ہیں کہ آٹھ استعفے آ گئے مگر کتنے استعفے آئے ہیں وہ نہیں بتاؤں گے۔ ایسے کئی داڑھی والے سے گنجے والے تک مجھے اعلیٰ ترین بریفنگ میں دھڑلے سے بیٹھے نظر آتے ہیں جو ہر جگہ پاکستان کے خلاف مقدمہ پیش کرتے ہیں۔
بیوروکریٹ ہو، فوجی ہو یا صحافی، اگر وہ پیشہ ورانہ ڈیوٹی سرانجام دے رہا ہے تو اسے رائے کے اختلاف پر گرفتار نہیں کیا جانا چاہئے۔ اس پر نان کریمنل کارروائی ہونی چاہیئے۔ نوٹس جاری ہو، اسے موقع دیا جائے کہ وہ اپنے موقف یا الزام جو بھی ہو اسے ثابت کرے اور اگر ثابت نہ کر سکے تو اس کی تردید یا وضاحت دے ۔۔ اس سے بھی انکار ہو تو کارروائی ہو، سزا ہو۔
دوست بنائیں، دوست بڑھائیں۔ ہم پہلے ہی صحافت کے لئے خطرناک قرار دئیے گئے ملک کے کارکن صحافی ہیں۔ بلال غوری اس سے پہلے ہوائی اڈے سے بھی تحویل میں لئے گئے۔ وہ کس مکتبہ فکر سے ہیں وہ آج کل تنقید کے موڈ میں ہے اور یہ موڈ بدلتے رہتے ہیں۔ م��را خیال ہے کہ بلال غوری کو حقائق بتائے جاتے تو وہ دوسرا موقف بھی اپنے ویلاگ میں بیان کر دیتا کیونکہ صحافی رائے ضرور رکھ سکتا ہے مگر خبر یا تجزیے پر موقف دینے سے انکار نہیں ہو سکتا۔
پاکستان ہم سب کا ہے ، ہم سب جو پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔ ہمارا طریقہ الگ الگ ہو سکتا ہے مگر نیت پر شبہ مت کیجئے۔ اگر آپ واقعی سوشل میڈیا کے جوہڑ کو صاف کرنا چاہتے ہیں تو کن کھجوروں اور سانپوں کو پکڑیں، مچھلیوں کو نہیں۔ جو زہر پھینک رہے ہیں وہ آزاد ہیں، کیا یہ عجیب بات نہیں ہے؟
آپکو پارٹی سے فارغ کیا جارہا ہے اور یہ فارغ کرنے کا فیصلہ عمران خان کا ہے
اگر سلمان اکرم راجہ ایک والد کی اولاد ہیں تو مجھے فارغ کرکے دکھائیں
اور ناظرین لڑائی اپنے عروج پر ہے اور مورخ اس لڑائی میں مشعال کے ساتھ ہے اور اب چاہے تو مجھے پارٹی سے فارغ کر دیں
شکریہ