قابض قوم کا کوئی بھی اقدام اچانک نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک منظم اور پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت عمل میں لایا جاتا تھا ہے خواہ وہ جبری گمشدگیاں ہوں گھروں کی مسماری ہو یا لوگوں کو ڈرا دھمکا کر خاموش کرانا ہو.
#BalochUnderSiegeInKarachi#EndEnforcedDisappearances
یہ ریاست بلوچ کی نسل کشی پر کمر بستہ ہے۔
جس گلی میں بلوچ کا نام گونجےجس چھت کے نیچے بلوچ سانس لے صبح کو وہ گھر ملبے کا ڈھیر بن چکے ہوتے ہیں۔
بچوں کو یتیم کیا جاتا ہے اور جوانوں کو لاپتہ
کراچی میں ریاستی جبر اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ لوگوں کے لیے سانس لینا بھی مشکل بنا دیا گیا ہے
کراچی میں بلوچ شہریوں کے گھروں پر مسلسل چھاپے، لوگوں کو اٹھا کر لاپتہ کرنا، خاندانوں کو بے خبری کے عذاب میں مبتلا رکھنا اور پوری بلوچ آبادی میں خوف کی فضا پیدا کرنا کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ایک انتہائی سنگین سوال ہے۔
#BalochUnderSiegeInKarachi#EndEnforcedDisappearances
کراچی میں حالیہ چھاپوں کے دوران مقدس مقامات کی بے حرمتی ایک تشویشناک امر ہے۔ جہاں رات کے اندھیرے میں لوگوں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، وہیں دوسری جانب مقدس مقامات، بالخصوص ذکر خانوں، کے تقدس کو بھی پامال کیا جا رہا ہے،
1/2
And sleep peacefully in their own home.
True security can only be achieved through the rule of law, due process, & respect for human dignity. The provincial authorities must intervene immediately to stop arbitrary intrusions, ensure accountability, & protect the fundamental.
3/3
Breaching the sanctity of homes without lawful authority, particularly when women and children are subjected to fear and intimidation, is a serious violation of fundamental constitutional and human rights. No citizen should be deprived of the basic freedom to live, move, 2/3
While the whole of Pakistan celebrates Independence Month with pride & patriotism, Baloch people across Karachi, particularly in areas such as Lyari, Mauripur, & Malir, continue to face the bitter reality of midnight raids, unlawful home intrusions, & heavy-handed blockades.
1/3
مستونگ میں عام عوام پر ڈرون حملہ ریاستی دہشتگردی اور سفاکیت ہے
بلوچ یکجہتی کمیٹی
مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ، گیت میں باغ میں کام کرتے ہوئے مزدوروں پر ڈرون حملہ بغیر کسی اگر مگر کے ریاستی دہشتگردی اور سفاکیت ہے۔ چند روز قبل سوراب میں شہری آبادی پر فضائی حملے میں بچوں، خواتین اور عام شہریوں کی شہادت نے پورے بلوچستان کو صدمے سے دوچار کیا، آج پھر محنت مزدوری کرنے والے شہریوں کو ڈرون حملے کے ذریعے نشانہ بنانا بلوچ عوام کے خلاف ریاستی سفاکیت اور جبر میں بدترین اضافہ ہے۔
اس حملے میں گل خان مغیری، عمران بلوچ، عبیداللہ بلوچ اور جہانزیب ابڑو قتل کر دیے گئے، جبکہ علی رضا مینگل، نصیب اللہ ابڑو اور خالد حسین زخمی ہوئے۔ یہ محض ناموں کی ایک فہرست نہیں، یہ وہ محنت کش انسان تھے جو باغات میں مزدوری کرکے اپنے خاندانوں کے معاشی سہارے بنے ہوئے تھے۔ ان کے قتل سے صرف چار زندگیاں نہیں چھینی گئیں بلکہ چار خاندانوں کے سہارے، امیدیں اور مستقبل بھی ریاستی دہشتگردی کی نظر ہوگئے۔
بلوچستان میں جنگی طیاروں، ڈرونز اور دیگر عسکری ذرائع کے ذریعے عام شہریوں کو نشانہ بنانا اس ریاستی پالیسی کو بے نقاب کرتا ہے کہ ریاست بلوچستان میں بلاتفریق محض بلوچ ہونے کی بنیاد پر بلوچ عوام کا قتل عام کررہی ہے۔ ریاست کی اس پالیسی میں باغ میں اپنے روزگار کے لیے کام کرنے والا مزدور سے لیکر جھولوں میں سونے والے بچے بھی محفوظ نہیں ہیں۔
ہم بلوچ عوام پر واضح کرتے ہیں کہ ریاست نے بلوچ عوام کی بلاتفریق قتل عام کی پالیسی میں بدترین شدت لائی ہے۔ اس نسل کشی کو روکنا کا واحد ذرائع صرف اور صرف قومی مزاحمت ہے۔ بلوچ عوام کو اجتماعی طور پر لاکھوں کی صورت میں سڑکوں پر نکلنا ہوگا اور ریاستی طاقت کو شکست دینا ہوگا۔
کراچی کی بلوچ بستیوں میں خوف اور انسانی حقوق کی پامالی۔
کراچی کی بلوچ بستیوں میں آج کئی گھروں کی کہانی ایک جیسی ہے دروازے پر کسی انجانی دستک کا خوف، کسی عزیز کے اچانک اٹھائے جانے کی خبر، اور پھر ایک طویل انتظار جس کی کوئی مدت معلوم نہیں۔ بلوچ شناخت رکھنے والے شہری چھاپوں، گرفتاریوں، ہراسانی اور جبری گمشدگیوں کے باعث خود کو مسلسل غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ کسی ماں کے لیے اس سے بڑا عذاب کیا ہو سکتا ہے کہ اسے اپنے بیٹے کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہو، اور کسی بچے کے لیے اس سے بڑا خوف کیا کہ گھر سے جانے والا باپ یا بھائی واپس آئے گا یا نہیں۔ ماری پور، لیاری، ملیر اور دیگر بلوچ آبادیوں میں پیدا کیا جانے والا یہ خوف محض قانون و امن کا مسئلہ نہیں، بلکہ انسانی وقار اور بنیادی حقوق کا سوال ہے۔
ریاستی بے لگام طاقت کے سائے میں کراچی کی بلوچ بستیوں میں خوف نے زندگی کے معمولات کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ یہاں ایک گھر سے نوجوان کے اٹھائے جانے کا دکھ دوسرے گھر کے لیے بھی خوف بن جاتا ہے ماؤں کو اپنے بیٹوں کی خبر نہیں، بہنیں اپنے بھائیوں کی واپسی کی منتظر ہیں۔
ماری پور، لیاری، ملیر اور دیگر بلوچ آبادیوں میں چھاپوں، گرفتاریوں اور جبری گمشدگیوں نے شہری زندگی کو بے یقینی میں بدل دیا ہے۔ جب کسی انسان کی شناخت ہی اسے مشکوک بنا دی جائے، تو مسئلہ صرف ایک فرد کا نہیں رہتا، یہ پوری آبادی کے حقِ زندگی، آزادی اور عزت کا سوال بن جاتا ہے۔
#BalochUnderSiegeInKarachi
#EndEnforcedDisappearances
𝗞𝗔𝗥𝗔𝗖𝗛𝗜 𝗧𝗨𝗥𝗡𝗘𝗗 𝗜𝗡𝗧𝗢 𝗔 𝗣𝗟𝗔𝗖𝗘 𝗢𝗙 𝗙𝗘𝗔𝗥 𝗙𝗢𝗥 𝗧𝗛𝗘 𝗕𝗔𝗟𝗢𝗖𝗛.
In just two weeks, several Baloch people have been forcibly disappeared from Maripur, Malir, Lyari and other Baloch settled areas of Karachi.
9 NAMES. 9 FAMILIES. NO ANSWERS.
Amir, 28, shopkeeper
Sabir, 28, labourer
Abdul Aziz, 30, labourer
Muhammad Khalid, 20, fisherman
Shahbaz Ahmed, 20, student
Sakhi, 25, fisherman
Amir Ahmed, 30, fisherman
Dost Muhammad, 25, labourer
Allah Bux, 28, teacher
These are only nine documented cases. Many more Baloch have been forcibly disappeared, but their families cannot speak openly. Some cases remain undocumented, while families have been threatened into silence.
NIGHT RAIDS HAVE TURNED SLEEP INTO FEAR
The pattern is familiar: raids after dark, homes surrounded, doors forced open and men taken away without charge or explanation.
CTD, police and Rangers are the forces in uniform carrying out this repression.
THE BALOCH ARE NOT SAFE EVEN IN KARACHI
Students and ordinary Baloch people continue to be forcibly disappeared.
From Maripur to Lyari and Malir, the geography of enforced disappearances continues to expand, turning Karachi a city where generations of Baloch have built their lives and homes into another place of fear.
WHERE ARE THE FORCIBLY DISAPPEARED BALOCH?
The law allows three responses: charge them, produce them, or release them.
Pakistan has chosen a fourth — silence.
That silence leaves families without answers. Enforced disappearance violates fundamental rights and constitutes a grave human rights abuse prohibited under international law.
KARACHI MUST NOT BECOME ANOTHER BLACK HOLE
Decades ago, Asad Mengal was forcibly disappeared from Karachi. His family has spent decades waiting for answers.
The machinery may have changed names and uniforms, but the pattern remains: disappear a person, deny responsibility, and leave the family waiting.
We will Never accept this silence.
Never, Ever !
#BalochUnderSiegeInKarachi
#EndEnforcedDisappearances
کراچی کے تمام بلوچ علاقوں میں باشعور بلوچ نوجوانوں کی جبری گمشدیوں کا مقصد بلوچ آبادیوں کی فکری ، سیاسی و سماجی ترقی کے عمل کو روکنا ہیں ۔ جہاں محض بلوچ شناخت کو بنیاد بناکر معذور ، استاد ، سماجی ورکروں کو بغیر کسی گناء کے زندانوں میں مقید کیا جارہا ہیں تاکہ کوئی ایسا انسان نہ بچ سکے جو شعور رکھتا ہوں ۔
#BalochUnderSiegeInKarachi
#EndEnforcedDisappearances