اعلامیہ
بلوچ راجی مچی میں شرکت کرنے کے لیے کوہ سلیمان، جھالاوان، سراوان اور رخشان کے لئے روٹ شیڈول جاری کیا گیا ہے۔ متعلقہ علاقوں کے ذمہ داران مرکزی روٹ میپ کو فالو کریں۔ جبکہ ان ریجن کے تمام لوگوں سے گزارش کی جاتی ہے کہ راجی مچی میں شرکت کے لیے اس شیڈول کو فالو کریں اور قافلوں میں شامل ہوکر گوادر آئیں۔
روٹ شیڈول کے حوالے سے کسی بھی قسم کی معلومات حاصل کرنے کے لیے اپنے علاقوں میں موجود بی وائی سی کے ذمہ داران سے رابطہ کریں یا آفیشل نمبر پر رابطہ کریں۔
#WeSupportBalochRaajiMuchi
#BalochNationalGathering
#بلوچ_راجی_مُچی
BYC Khi activist Meer Balach abducted from his house after being illegally detained by security forces. It should be remembered that 5 Activists of BYC Khi have been forcibly abducted from Khi.State forces crackdown against the BYC is continues to counter #BalochNationalGathering
آج عید الفطر کی مناسبت سے بلوچستان بھر میں لاپتہ افراد کی لیے احتجاج اور مظاہروں کا احتمام بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کیا جہاں تُمپ کی غیور عوام نے بھی احتجاج اور ریلیوں کا سلسلہ جاری رکھا جسکی کچھ تصویری جلیکیاں یہ ہیں
#BYCTump
تمپ جہاں لمہِ وطن بانک کریمہ کے نمازجنازہ میں لوگوں کو شرکت کرنے سے روکا گیا اس ڈر و خوف سے کہ تمپ کے لوگوں میں بیداری پیدا نہ ہو ، آج تمپ کے غیور عوام نے بانک کریمہ کے تعلیمات و کُربانی کو سر ، آنکھوں پر رکھ کر ہمیشہ کی طرح آج بھی بلوچ نسل کشی کےخلاف خاموشی کو مسترد کردیا
بی وائی سی تمپ کی جانب سے نکالی گئ احتجاجی ریلی سے لاپتہ عدنان بلوچ کی ماں اپنے بیٹے کے بازیابی کے لیےاپیل کرہی ہے ، جن کو چار مہینے پہلے تمپ دازن سے ریاستی فوج نے اُنکے گھر سے لاپتہ کیا ہے
#MarchAgainstBalochGenocide#IStandWithBalochMarch#byctump
بی وائی سی تمپ کی جانب سے نکالی گئ آج کی احتجاجی ریلی ریاست کے لیے پیغام ہیں ظلم و جبر کے سائے تلے تم بلوچ قوم کی آواز کو دبا نہیں سکتے
#IStandWithBalochMarch
#MarchAgainstBalochGenocide is the collective resistance of a nation against the inhumane policies of Genocide.
#IStandWithBalochMarch, because it is the cry of a nation to live. And this cry for justice must echo in the World to make the criminals accountable.
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے بلوچ نسل کشی کے خلاف جاری تحریک کو وسعت دیتے ہوئے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔
گزشتہ تین دنوں میں شال، ملیر، پنجگور ، کیچ ،سوراب ، قلات، منگوچر، مستونگ اور کُلدان دشت میں مظاہرے کئے جا چکے ہیں۔ آج کوھلو اور رکنی میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں جبکہ تونسہ شریف میں احتجاجی مظاہرین پر پنجاب پولیس کی جانب سے بد ترین کریک ڈاؤن کے بعد 40 سے زائد کارکناں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ کریک ڈاؤن میں بلوچستان میں ریاستی استعمار اور تشدد کی دیرینہ پالیسوں کا تسلسل ہے۔
اسی تحریک کو آگے بڑھاتے ہوئے کل دالبندین، چاغی، نوکنڈی، بیسیمہ، خاران , یک مچھ، برابچہ اور نوشکی میں احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کیا جائے گا۔ ہم متعلقہ علاقوں کی عوام سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنے گھروں سے نکل کر اس کاروان کا حصہ بنیں۔ اور اس ظلم و جبر کے خلاف یکمشت ہوکر نسل کشی کے خاتمے کہ خاطر ہمارا ساتھ دیں۔
دالبندین 11:30 بجے، 11 جنوری 📍پریس کلب
چاغی 11:30 بجے، 11 جنوری 📍ڈرم بازار
نوکنڈی 11:30 بجے، 11 جنوری 📍نوکنڈی میں بازار
نوشکے 11:00 بجے، 11 جنوری 📍میر گل خان نصیر پبلک لائیبریری
خاران 10:30 بجے، 11 جنوری 📍شہید نواب اکبر بگٹی اسٹیڈیم
بیسیمہ 11:30 بجے، 11 جنوری 📍بوائز ہائی سکول
یک مچھ 11:30 بجے، 11 جنوری 📍آر سی ڈی روڈ یک مچھ
برابچہ 11:30 بجے، 11 جنوری 📍کاریز بازار برابچہ
آئیں ہم سب مل کر اس ریاست کو یہ واضح پیغام دیں کہ بلوچ نسل کشی کے خاتمے کا مطالبہ ایک عوامی مطالبہ ہے، ریاست عوام سے مقابلے کا خیال ترک کردیں۔
#MarchAgainstBalochGenocide
#IStandWithBalochMarch