اس ملک کی سب سے بڑی بدنصیبی یہ ہے کہ اس ملک کے عوام نے تباہی اور بربادی کو اپنا نصیب سمجھ لیا ہے۔ نہیں شریف انسانو نہیں ! یہ نصیب نہیں ہے ، تمہاری مجرمانہ خاموشی کا جرمانہ ہے۔
قائدِاعظم نے کوئٹہ اسٹاف کالج میں تقریر کی تھی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جرنیل پاکستانی عوام کے نوکر ہیں!
اس کے بعد انہیں زیارت بھیج دیا گیا۔ دنیا سے کٹ آف کر کے وہاں انہیں مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ وہاں کونسا حکیم تھا، کونسا ہسپتال تھا؟ اگر تھا، تو قائدِاعظم کے علاوہ زیارت کی چار ہزار سالہ تاریخ میں کوئی ایک اور مریض ہی بتا دیں۔
مطالعۂ پاکستان میں جو تم نے پڑھایا گیا ہے، وہ جھوٹ ہے۔
پاکستان میں غدار وہ ہے جو ووٹ کی طاقت کو نہیں مانتا۔ جرنیلو! تم کس حق سے حکمرانی کر رہے ہو؟ تمہاری حیثیت قائدِاعظم نے طے کر دی تھی۔ اب اسی کی پاسداری کرو!
ابھی کل تک فائز عیسی کو انصاف کا دیوتا کہا جاتا تھا۔ اس کے بھجن گانے والوں کی قطار نہیں ٹوٹتی تھی۔ آج اسکے فیصلے تھوک لگا لگا کر واپس دیے جارہے ہیں اسکا کہیں نشان بھی نہیں۔ ایسا ہی وقت عاصم منیر پر بھی آئے گا۔ زیادہ شدت اور بوجھ کیساتھ آئے گا۔ اسکے حق میں بولنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ اسکا ساتھ دینے والے جھوٹی شکلیں بنا بنا کر معافیاں مانگیں گے۔ یہ تاریخ اور وقت کا سبق ہے۔
بلوچستان کے حالات دیکھ کر ہر آنکھ اشک بار ہے۔ یہ تو ایک SHO کی مار نہیں تھے؟
عاصم منیر صاحب، آپ کو بھی اپنی تقریریں بھول گئیں؟
بلوچستان، آزاد کشمیر اور پختونخوا کے حالات کی ذمہ داری عاصم منیر پر ہے۔
جلد آپ پاکستان کی عوام کے آگے، ان کے ووٹ کے آگے سرنڈر کریں گے! باقی ڈکٹیٹروں کی طرح آپ بھی صدر بننا تو چاہتے ہیں، آپ کے نہ بننے کا افسوس رہے گا۔
attention, about turn quick march, go back' to your barracks and never come again'
عاصم منیر جو ایک سرکاری ملازم ہے اسکا نام لینے سے ڈرتے ہیں کیونکہ اسکے ہاتھ میں بندوق ہے لیکن ہم نہیں ڈرتے اس سے ،زیادہ سے زیادہ مار دے گا ہمیں شہادت قبول ہے مگر اسکا کوئی ڈر نہیں ۔۔علیمہ خان صاحبہ🔥
ان کے تو ووٹ بھی نہیں بنے
انہیں PTI کے کھاتے میں ڈالا جائیگا
یا خوارج کے ؟اور انہیں ڈرون مارا جائیگا یا سی سی ڈی کے حوالے کیا جائیگا ؟
ان میں سے تو کوئی ڈار بھی نہیں۔ 🤕