بیرونی طاقتوں کے مفادات کے لئے پاکستان کومشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں ملوث کیاجارہا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لبنان میں اسرائیل کے حملے میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ اوران کے ساتھیوں کی شہادت اور جنگی حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں جنگ کادائرہ بڑھتاجارہاہے ۔ لبنان کے بعد اسرائیل کی جانب سے یمن اورشام پربھی حملے کئے گئے۔دوسری جانب حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ کی ایران میں شہادت اورحسن نصراللہ کی شہادت کے بعد جواب میں ایران کی جانب سے اسرائیل پرجو میزائلوں کے حملے کئےگئے ہیں اس سےخطے کی صورتحال مزید سنگین ہوگئی ہے اوراب مشرق وسطیٰ کےخطے پر ایک بھیانک جنگ کےسائےمنڈلارہے ہیں۔
یہ وقت انتہائی ہوشمندی سے کام لینے کاہے لیکن سوشل میڈیاپر یہ خبریں تواترکے ساتھ گردش کررہی ہیں کہ پاکستان بیرونی طاقتوں کےمفادات کےلئے اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کےاس تنازعے میں بالواسطہ یابلاواسطہ طور پر ملوث ہورہاہے۔
سوویت یونین اورامریکہ مغربی ممالک کے مابین سردجنگ کے دوران بھی پاکستان کی اس وقت کی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے بیرونی طاقتوں کے مفادات کی خاطر اس سردجنگ میں پاکستان کو ملوث کر دیااور ڈالروں کے عوض سوویت یونین کے خلاف امریکہ اورمغربی ممالک کاساتھ دیا۔افغانستان سے سوویت یونین کو نکالنے کے لئے جہاد کے نام پر مجاہدین کے گروپ بنائے جنہیں اسلحہ ٹریننگ دیکرافغانستان بھیجاگیا اور افغانستان کوتباہ کیاگیا۔ اب پھر بیرونی طاقتوں کےمفادات کےلئےپاکستان کومشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں ملوث کیاجارہاہے۔ دوروزقبل ایران میں جیش العدل نامی عسکری گروپ کی جانب سے ایران کی افواج پر حملہ کیاگیاجس میں کئی ایرانی فوجی ہلاک ہوگئے۔جیش العدل کے بارے میں یہ کہاجاتاہےکہ یہ عسکری گروپ پاکستان سے آپریٹ ہوتاہے اوراسے بیرونی طاقتیں فنڈ فراہم کرتی ہیں جبکہ چائناخوب جانتاہےکہ پاکستان اس کے ساتھ ڈبل گیم کھیل رہاہے۔ایران اوراسرائیل کے مابین اگرتنازعہ ہے توپاکستان اس میں کیوں ملوث ہورہاہے؟یوکرین اورروس کی جنگ میں بھی یہ بات میڈی�� میں آچکی ہے کہ بیرونی طاقتوں کے کہنے پر پاکستان کی جانب سے یوکرین کو اسلحہ فراہم کیا جاتا ہے۔بیرونی طاقتوں کے مفادات کےلئےتشکیل دی گئی خارجہ پالیسی کی وجہ سے انڈیاسےپہلے ہی دشمنی تھی مگراب ایران اورافغانستان سے بھی تعلقات اچھےنہیں ہیں ۔
میں پاکستان کے عوام کوآگاہ کرناچاہتاہوں کہ بیرونی طاقتوں کے مفادات کوپوراکرنے کےلئے ایک بار پھر پاکستان کوآگ اورخون میں جھونکاجارہاہے۔اس پالیسی سے فوج کے جرنیلوں کو تو ڈالر مل جائیں گے لیکن پاکستان کو نقصان پہنچےگا۔ آصف زرداری اورنوازشریف، شہبازشریف بھی ملک کو نقصان پہنچانے کے اس عمل میں برابرکے شریک ہیں۔ایک طرف یہ صورتحال ہے، دوسری طرف پاکستان کے عوام کوان کے پرامن احتجاج کے جمہوری حق سے محروم کیاجارہاہے، طاقت کے ذریعے انہیں کچلا جارہاہےکیونکہ فوج نہیں چاہتی کہ پاکستان کےعوام فلسطینیوں کی حمایت میں احتجاجی مظاہرے کریں۔
مشرق وسطیٰ ایک بھیانک جنگ کے دہانے پر پہنچ گیاہےلہٰذا میں پاکستان کے حکمرانوں خصوصاً فوج کے جرنیلوں سے کہنا چاہوں گاکہ خدارا پاکستان کواب مزیدکسی کی جنگ میں نہ جھونکیں اور ملک کونقصان پہنچانے والی پالیسی سے گریز کریں۔
الطاف حسین
(ٹک ٹاک پر 122ویں فکری نشست سے خطاب)
2 اکتوبر 2024
#PashtunNationalCourt11Oct#PashtunNationalCourt11October#PashtunNationalJirga11Oct
پشتون تحفظ موومنٹ کے زیراہتمام 11 اکتوبر کو ہونے والے پشتون گرینڈ جرگہ کے انعقاد کو روکنےکے لئے پولیس اورسیکوریٹی فورسزکی جانب سے @PashtunTM_Offi کے خلاف جوظالمانہ کارروائیاں کی جارہی ہیں میں ان کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتاہوں۔گزشتہ روز بھی پشتون قومی عدالت کے سلسلے میں لگائے گئے کیمپوں پر حملہ کیاگیا، عوام کومنتشرکرنے کے لئے فائرنگ کی گئی اور ان کے متعدد خیموں کوآگ لگادی گئی تھی۔اس ظالمانہ کارروائی کے باوجود بھی جب پشتون عوام خیبرکے علاقے میں جمع ہوئے تو تازہ ترین اطلاعات کے مطابق آج بروزجمعرات 3 اکتوبر کو بھی پشتون گرینڈجرگہ کے مقام پرپولیس اور سیکوریٹی فورسز کی جانب سے دوبارہ کریک ڈاؤن کیاجارہاہےاور پشتونوں کےمزید کیمپوں کوآگ لگائی جارہی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ میں مطالبہ کرتاہ��ں کہ یہ کریک ڈاؤن بند کیاجائے ۔
#PashtunNationalCourt11Oct#PashtunNationalCourt11October
خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہےاوروہاں کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور ہیں، ان کی موجود گی میں پشتون تحفظ مووومنٹ کی جانب سے 11 اکتوبر کو خیبرمیں ہونے والے پشتون گرینڈ جرگہ کے سلسلے میں لگائے گئے کیمپوں پر حملے اورانہیں آگ لگانے کے واقعات سوالیہ نشان ہیں؟
PTMوالے پرامن طورپر اپنے گرینڈ جرگہ کے سلسلے میں تیاریوں میں مصروف ہیں لیکن خیبرپختونخوا کی پولیس PTM کےکیمپوں پر بلاج��از اور بلااشتعال فائرنگ کررہی ہے، شیلنگ کررہی ہے اورانہیں آگ لگارہی ہے۔
میں تحریک انصاف @PTIofficial کی قیادت خصوصاً خیبر پختونخواکے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور سے سوال کرتاہوں کہ خیبر پختونخوا کی پولیس آپ کی ماتحت ہے پھر آپ کی حکومت میں PTMکے کیمپوں پر حملے کیوں ہورہے ہیں؟ ان کیمپوں کو آگ کیوں لگا ئی جارہی ہے؟آپ پشتون تحفظ مووومنٹ اوراس کے سربراہ منظورپشتین سے سیاسی ونظریاتی اختلاف رکھیں لیکن سیاسی ونظریاتی اختلاف کی بنیادپر @PashtunTM_Offi کے اجتماعات کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا، ان کے کیمپوںپر حملے کرنا، انہیں آگ لگادینا کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہے۔ آپ کی حکومت پشتون تحفظ موومنٹ کے خلاف جو کچھ کررہی ہے ، اگراسی طرح مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت ، پنجاب ، سندھ اوربلوچستان کی حکومتیں بھی تحریک انصاف کے جلسوں، جلوسوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کریں،آپ کے کیمپوں پر حملے کریں، انہیں آگ لگائیں تو کیا وہ جائز ہوگا ؟
میں وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور @AliAminKhanPTI سے اپیل کرتاہوں کہ وہ PTM کے کیمپوں پر حملوں کافوری نوٹس لیں اوراپنے آئی جی، ایس پی، ڈی ایس پی اور پولیس کے دیگرحکام سے جواب طلب کریں اوراس بارے میں عوام کو حقائق سے آگاہ کیاجائے۔
میں پشتون تحفظ مووومنٹ کے تمام رہنماؤں اوراس کے سربراہ منظورپشتین @ManzoorPashteen کو یقین دلاتاہوں کہ میں PTM کےخلاف کی جانے والی زیادتیوں اورمظالم کی بھرپور مذمت کررہاہوں اورکرتارہوں گا۔
الطاف حسین
(ٹک ٹاک پر 123ویں ہنگامی فکری نشست سے خطاب)
3 اکتوبر 2024
عوام کوپُرامن احتجاجی مظاہرےسےروکناکھلی فسطائیت ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
4،اکتوبر2024ء
میں ،موجودہ وفاقی حکومت کی ایماء پر اسلام آباد پولیس کی جانب سے @PTIofficial کے پُرامن مظاہرین پر وحشیانہ شیلنگ، ان پر بہیمانہ تشدد اور تحریک انصاف کے سربراہ جناب عمران خان صاحب @ImranKhanPTI کی بہنوں محترمہ علیمہ خان صاحبہ اورڈاکٹرعظمیٰ خان صاحبہ سمیت سینکڑوں پُرامن مظاہرین کی بلاجواز وغیرقانونی گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ #DChowkProtest
کیا حکومت کی ایماء پرپولیس کا یہ عمل آئین وقانون کی خلاف ورزی اور چادروچہاردیواری کا تقدس پامال کرنے کے مترادف نہیں ہے ؟
موجودہ حکومت نے آئینی ترمیم کے خلاف ڈی چوک اسلام آبادمیںPTI کے احتجاجی مظاہرے کو روکنے کیلئے ریاستی طاقت کا بدترین مظاہرہ کیا، اسلام آباد آنے والے تمام راستوں کو سینکڑوں کنٹینرز کھڑے کرکے بندکردیا اورریاستی طاقت کے ذریعے شہریوں کو پُرامن احتجاج کے جمہوری ، آئینی اورقانونی حق سے روکا،آنسوگیس کے ہزاروں شیل برسائے ، پرامن مظاہرین کو بہیمانہ تشدد کانشانہ بنایا، عمران خان کی بہنوں سمیت مختلف علاقوں سےآنے والے سینکڑوں مردو خواتین مظاہرین کو اندھادھند گرفتارکرلیا جوکہ انتہائی قابل مذمت ہے۔
حکومت کے اس ظالمانہ وسفاکانہ عمل نے اس بات پر مہرثبت کردی ہے کہ موجودہ حکومت ایک فاشسٹ حکومت ہے جس نے عوام کوان کے آئینی ، قانونی اور جمہوری حق سے محروم رکھنے کیلئے طاقت کا بلاجواز اور ناجائز استعمال کرکے کھلی فسطائیت کامظاہرہ کیاہے ۔
پُرامن مظاہرین کی گرفتاریاں نہ صرف غیرقانونی ہیں بلکہ ظالمانہ وسفاکانہ بھی ہیں۔
میں،موجودہ حکومت کے اس فاشسٹ اقدام کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تمام پاکستانیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ بھی حکومت کے اس فاشسٹ اقدام کی کھل کرمذمت کریں۔
میں ،انسانی حقوق کی ملکی اور ایمنسٹی انٹرنیشنل @amnestysasia ,@amnesty ،ہیومن رائٹس واچ @hrw سمیت تمام بین الاقوامی انسانی حقوق کی انجمنوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ پی ٹی آئی کے پُرامن مظاہرین کی ظالمانہ گرفتاریوں کا فوری نوٹس لیکر حکومت پاکستان پر دباؤ ڈالیں کہ عمران خان کی بہنوں محترمہ علیمہ خان ، محترمہ عظمیٰ خان سمیت تمام گرفتارشدگان کو فی الفور رہا کیاجائے۔
حکومت کے یہ سفاکانہ مظالم دیکھ کر یہ بات زبانِ زد ِ خاص وعام ہے کہ
''یہ کیسا اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ؟''
''یہ کیسا اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ؟''
الطاف حسین
STOPPING PEACEFUL PROTEST IS THE EMBODIMENT OF FASCISM
October 4, 2024:
#DChowkProtest
Under the directives of the current federal government, the #Islamabad police unleashed a barrage of ruthless tear gas on peaceful demonstrators associated with @PTIofficial, inflicting severe violence upon them. Among the hundreds of protesters subjected to this brutality were female members of the party, including the sisters of PTI leader @ImranKhanPTI
I vehemently denounce the unjust and unlawful arrests of these peaceful protesters.
Isn’t this violent suppression by the police, in obedience to the government, a blatant violation of both the constitution and the rule of law? Does it not desecrate the sanctity of homes and civil liberties?
The current regime has showcased an alarming abuse of state power in its desperate attempt to stifle PTI’s protest at “D Chowk” in Islamabad. In retaliation against a demonstration opposing a constitutional amendment, the government erected a blockade of hundreds of containers, obstructing all routes leading into Islamabad. This tyrannical display of authority deprived the citizens of their democratic, constitutional, and legal right to peaceful assembly. Instead of engaging, they attacked—deploying thousands of tear gas shells, brutally assaulting peaceful protesters, and arresting hundreds indiscriminately, including Imran Khan’s sisters. This is an outrage and must be condemned in the strongest terms.
The government's draconian actions confirm its fascist tendencies. By unlawfully deploying excessive force, the regime has stripped the people of their fundamental rights. Such undemocratic actions are not only unconstitutional but also morally reprehensible.
The arrests of peaceful demonstrators are both illegal and cruel. I resolutely condemn this fascist maneuver and urge all Pakistanis to rise against this violation of civil liberties.
I also call upon international human rights organizations, including Amnesty International @amnestysasia, @amnesty and Human Rights Watch @hrw to take immediate notice of the government's brutal crackdown on peaceful PTI protesters. These organizations must exert pressure to ensure the immediate release of all detainees, including Imran Khan’s sisters, Ms. @Aleema_KhanPK and Ms. Uzma Khan.
Faced with such brazen tyranny, one must question:
“What kind of Islamic Republic is this?"
“What has become of Pakistan, once a sanctuary of justice and freedom?"
ALTAF HUSSAIN
پی ٹی آئی کے پُرامن احتجاج کوکچلنے کے لئے گرفتاریاں،تشدد، شیلنگ اورطاقت کااستعمال فسطائیت ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
#DChowk#DChowkProtest#PTIProtest4October#PTIProtestIslamabad
نوازش��یف، شہبازشریف اور آصف زرداری سمیتPDM کی مخلوط حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے پُرامن احتجاج کوکچلنے کےلئے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں، تشدد، شیلنگ اورطاقت کااستعمال فسطائیت اور فاشزم ہے۔ یہ ظلم بند کیاجائے اورتمام گرفتارشدگان کو فی الفوررہا کیاجائے ۔
جمعہ کو@PTIofficial کی جانب سے اسلام آباد میں ڈی چوک پر پُرامن احتجاج کااعلان کیا گیاتھا لیکن حکومت نے پورے اسلام آباد کوکنٹینرزلگا کرseal کردیا، خیبرپختونخوا اور پنجاب سے اسلام آباد آنے والی تمام شاہراہوں اورراستوں کوبند کردیا گیا او رجولوگ ان تمام تررکاوٹوں کوعبورکرکے اسلام آباد پہنچے ان کی گرفتاریاں کی گئیں، ان پر شدیدشیلنگ کی گئی جس کےنتیجے میں کئی نوجوان، بزرگ، خواتین اوریوتھ زخمی ہوگئے۔عوام کے احتجاج کودبانے کےلئے رات کواسلام آباد میں فوج تعینات کردی گئی ۔
پوری دنیامیں عوام اپنے مطالبات کے لئے مظاہرے، جلسے جلوس کرتے ہیں، پاکستان کاآئین بھی عوام کواپنے مطالبات کے لئے پُر امن احتجاج کرنے کاحق دیتاہے لیکن اگرآپ طاقت استعمال کرکے عوام کوان کے احتجاج کے بنیادی حق سے محروم کریں گے توکیایہ آئین کی خلاف ورزی نہیں ہوگی؟یاتوآپ آئین میں دیے گئے عوام کے حق کوتسلیم کریں یاپھر ایسے آئین کوپھاڑ دیجئے اورپاکستان کےسرکاری نام '' اسلامی جمہوریہ پاکستان '' میں سے '' اسلامی '' اور'' جمہوریہ '' کے الفاظ نکال دیجئے کیونکہ نہ تو اسلام میں ریاست کی جانب سے عوام کوظلم کانشانہ بنانے کی اجازت ہے اورنہ ہی عوام کو ان کے احتجاج کے جمہوری حق سے محروم کرنا جمہوری طرز عمل ہے۔
حکومت کی جانب سے عوام کے احتجاج کودبانے کے لئے فوج کوطلب کرنابھی انتہائی غلط اقدام ہے۔ یہ عمل عوام اورفوج کوایک دوسرے سے متصادم کرنے کاعمل ہے۔فوج کی غلط پالیسیوں اوراقدامات کی وجہ سے پاکستان کی فوج اورعوام کے مابین پہلے ہی نفرتیں پیدا ہوگئی ہیں، خدارا پاکستان کے عوام کوفوج سے مزید متنفر نہ کرائیں۔ اگرحکومت نے تہیہ کرلیا ہےکہ اسے ہر معاملے میں فوج کوآگے کرنا ہے تووہ آج عوامی ریفرنڈم کرالے کہ عوام، عمران خان یافوج میں سے کسے زیادہ پسند کرتے ہیں۔ اگرعمران خان کو 10فیصد ووٹ ملیں تو عمران خان کواپنی شکست تسلیم کرلینا چاہیے اوراگراس ریفرنڈم میں فوج کے حق میں صرف 10فیصد ووٹ آئیں توفوج کوبھی اپنی شکست تسلیم کرلیناچاہیے اوراپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے اپنے آئینی کردارکی طرف لوٹ جاناچاہیے۔ لیکن اگرفوج سیاست میں مداخلت کرے گی، انتخابات کے عمل میں ملوث ہوگی، الیکشن میں دھاندلی کرائے گی، انتخابی نتائج کوتبدیل کرائے گی تواس عمل کودیکھ کرفوج سےکون محبت کرے گا؟
حکومت نے فائرنگ،شیلنگ اورتشدد کے جوہتھکنڈے عوام کے احتجاج کودبانے کے لئےکئے ہیں، سوش�� میڈیاپر اس کے مناظر دیکھ کرمجھے بہت د کھ ہواہے۔ نوازشریف، شہبازشریف اورزرداری نے اپنے عمل سے ثابت کردیاہے کہ وہ ظالموں اورقاتلوں کے یارہیں۔ ان کانعرہ عوام میں '' ووٹ کوعزت دو'' ہوتاہے لیکن ان کاعمل '' بوٹ کوعزت دو'' ہوتا ہے۔
تحریک انصاف کی قیادت کومیرامشورہ ہے کہ وہ حکومتی مظالم کے خلاف اورحقیقی آزادی کےلئے پورے ملک میں پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال کی کال دیں اور ملک بھر کے تمام عوا م کواس کےلئے کنوینس کریں۔ اگروہ ایسی کال دیتے ہیں تومیں خود بھی اس کی کھل کرحمایت کروں گا۔
میں تحریک انصاف کے نوجوان کارکنوں سے بھی کہتاہوں کہ قوموں کی زندگی میں آزمائشیں آتی ہیں، آپ کانعرہ ''حقیقی آزادی'' ہےاور آزادی کوئی پلیٹ میں سجاکرنہیں دیتا بلکہ اس کےلئے جدوجہد کرنی پڑتی ہے اور قربانیاں دینی پڑتی ہیں لہٰذا آپ حکومتی مظالم، گرفتاریوں اورتشدد کے باوجود ہرگز مایوس نہ ہوں،اور اپنے غصب شدہ جمہوری حقوق کے حصول اورملک کی حقیقی آزادی کےلئے جہاد کریں، یعنی تمام تررکاوٹوں کے باوجود اپنی جدوجہد کریں اورNo Retreat...No Surrender کے سلوگن کو اپنائیں جوزمانہ طالبعلمی سے میرا س��وگن ہے۔کامیابی کے حصول تک اس ایمان پر قائم رہیں اورجدوجہد کرتے رہیں،فتح آپ کی ہوگی۔
الطاف حسین
(ٹک ٹاک پر 124ویں اسٹڈی سرکل سے خطاب)
4 اکتوبر 2024
پشتون تحفظ موومنٹ پر پابندی کا اقدام پشتون قوم کے خلاف بہت بڑی سازش ہے، پشتون قوم اس پابندی کو نہیں مانتی ۔
میں اس پابندی کو یکسر مسترد کرتا ہوں ۔
جنہوں نے پابندی کا نوٹیفیکیشن نکالا وہ ظالم ہیں، جابر ہیں۔PTM پر پابندی کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے
@PashtunTM_Offic@ManzoorPashteen
#PashtunNationalCourt11October
#PashtunNationalJirga11Oct
تحریک انصاف کے رہنمااور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور 48 گھنٹوں تک پراسرار طورپر غائب رہنے کے بعد جس طرح پختونخوا کی اسمبلی میں اچانک نمودار ہوئے اوراپنے غائب رہنے کے بارے میں انہو ں نے اسمبلی میں جو کہانی پیش کی ہے اسے سن کربچپن میں سنی گئیں طلسماتی کہانیاں یاد آگئی ہیں۔
علی امین گنڈاپور8 ستمبر2024ء کو بھی اسلام آباد کے جلسے کے بعد پراسرار طور پر غائب ہوگئے تھے اوردوروز تک غائب رہنے کے بعد جب وہ منظرعام پر آئے تھے تواس وقت بھی انہوں نے اس کے بار�� میں بھی قوم کو کچھ نہیں بتایاتھا۔ اس مرتبہ پھر وہ پراسرار طورپرغائب ہوگئے اور 48گھنٹوں تک غائب رہے، وہ اپنے قافلے کے ساتھ اسلام آباد تک توآئے لیکن پھروہ غائب ہوگئے،کہاگیاکہ وہ خیبرپختونخوا ہاؤس میں قیام کےلئے گئے تھے۔ بتایا گیا کہ خیبرپختونخواہاؤس میں ان کے لئے رینجرزنے چھاپہ بھی ماراتھا۔اس حوالے سے بھی متضاداطلاعات آئیں ، @PTIofficial کے رہنماؤں کا کہنا تھاکہ انہیں گرفتار کرلیا گیاہے جبکہ حکومت کی جانب سے اس کی تردیدکی گئی۔علی امین گنڈاپور 48 گھنٹوں تک غائب رہنے کےبعد اتوار کو اچانک خیبرپختونخوا کی اسمبلی میں نمودارہوئے، انہوں نے اسمبلی سے اپنے خطاب میں یہ دعویٰ کیا کہ وہ پختونخوا ہاؤس میں ہی تھے، انہوں نے 48گھنٹوں تک پراسرارطور پرغائب رہنے اوراسمبلی تک پہنچنے کے بارے میں جس طرح کی کہانی پیش کی ہے وہ ایک طلسماتی کہانی معلوم ہوتی ہے، اسے سنکر اڑن کھٹولے، فضاء میں اڑنے والے جادوئی قالین، بزرگوں کی کمالات دکھانے والی جادوئی انگوٹھی اورجادوگروں کی طلسماتی کہانیاں یاد آگئی ہیں۔
یہ بھی قابل غوربات ہے کہ علی امین گنڈاپور اس وقت اچانک اسمبلی میں منظرعام پرآئے کہ جب حکومت نے پشتونوں کی سب سے مؤثراورطاقتورآواز پشتون تحفظ موومنٹ پر پابندی لگائی لیکن میڈیانے @PTMOfficial_ پر پابندی کے فیصلے کے بجائے ساری توجہ @AliAminKhanPTI کے ڈرامائی اندازمیں نمودار ہونے پررکھی ۔ جس سے ایسالگتاہے کہ یہ سب کچھ ایک طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت ہواتاکہ علی امین گنڈاپور کانمودار ہونازبان ِزدِعام ہوجائے، میڈیااسی کونمایاں کرے اور پشتون تحفظ مووومنٹ پر پابندی کے آمرانہ اقدام کامعاملہ دب جائے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کو پشتونوں کے حقو ق کے لئے آواز اٹھانے والی کوئی بھی مؤثراور سرگرم تنظیم قابل قبول نہیں ہے۔
ہفتہ کوہونے والے عوامی احتجاج سے تحریک انصاف کی لیڈرشپ کے غائب رہنے، علی امین گنڈاپورکی پراسرارگمشدگی اوراچانک نمودارہونے کے معاملے کے بعد مجھے لگتا ہےکہ اب جیل میں تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی زندگی شدید خطرے میں ہے۔لہٰذا اب عمران خان سے پیارکرنے والوں کو سوچناچاہیے کہ اگرعمران خان کے آس پاس ایسے لیڈرز ہوں گے تو @ImranKhanPTI کی زندگی اورتحریک انصاف کاوجود کس طرح محفوظ رہ سکتا ہے؟
الطاف حسین
(ٹک ٹاک پر 126 ویں اسٹڈی سرکل سے خطاب )
6 اکتوبر 2024
خیبرپختونخوا میں پشتونوں کے خلاف پولیس کاکریک ڈاؤن انتہائی قابل مذمت ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج 9اکتوبر2024کی تاریخ اور بدھ کادن ہے۔ لندن وقت کے مطابق صبح ساڑھے پانچ بجے مجھے صوبہ خیبرپختونخوا سے ایک ساتھی نے فون کرکے بتایا ہے کہ صوبے کے وزیراعلی علی امین گنڈا پور اور کے پی کے کی پولیس نے پشتون تحفظ موومنٹ کے تحت گرینڈ پشتون قومی جرگے اور پشتونوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کردیا ہے اور متعدد پشتون کارکنوں کے علاوہ اس کریک ڈاؤن کی کوریج کرنے کی پاداش میں ایک صحافی احسان نسیم کو بھی گرفتار کرکے لاک اپ میں بند کردیا ہے۔
میں KPKپول��س کی جانب سے پشتون قوم کے اظہار رائے کے حق پر ڈاکہ ڈالنے اور پشتونوں کواظہار رائے کے حق سے محروم رکھنے کے اس عمل کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔
میں، وزیراعلی علی امین گنڈا پور اور PTIکے رہنماؤں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ کو جلسے جلوس اور احتجاج کاحق حاصل ہے تو اس حق سے مظلوم پشتونوں کو کیوں محروم رکھاجارہا ہے؟ گزشتہ دنوں پی ٹی آئی کے رہنمااحتجاج کیلئےاسلام آباد کے ڈی چوک پر کیوں جمع تھے؟ اس احتجاج میں شرکت کرنے والے علی امین گنڈا پور اسلام آباد پہنچنے کے باوجود ڈی چوک پر پُرامن مظاہرین کے ساتھ کیوں دکھائی نہیں دیئے؟ اور اسلام آباد سے کیوں بھاگے؟
ایک جانب PTIاحتجاجی مظاہرے اور جلسے جلوس کرنا اپنا آئینی، قانونی اور جمہوری حق قرار دیتی ہے اور دوسری جانب KPKکی پولیس کے ذریعےپشتونوں کو اس حق سے محروم رکھا جارہا ہے،کیا یہ تحریک انصاف کی دہری پالیسی نہیں ہے؟
جب مجھے PTMکے خلاف کریک ڈاؤن کی اطلاع ملی تو میں نے فوری اس اطلاع کی تصدیق کرائی اور تصدیق کے بعد اس ظالمانہ عمل کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کررہا ہوں۔
@PTIofficial کے تمام رہنماءاور وزیراعلی خیبرپختونخوا پوری پشتون قوم کو جواب دیں کہ آپ کی حکومت میں پولیس نے پشتون قوم کے خلاف اتنا بڑا آپریشن کیوں اور کیسے شروع کیا ہے؟
میں، علی امین گنڈا پور سےمطالبہ کرتا ہوں کہ پشتونوں کے خلا�� یہ ظالمانہ آپریشن بند کرائیں ، پشتونوں کو جلسے جلوس کا حق دیا جائے، پشتونوں کے خلاف سرکاری غنڈہ گردی بند کرائی جائے، تمام گرفتار شدگان کو فی الفور رہا کیاجائے اور اگر وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور،پشتونوں کے خلاف ظالمانہ اورسفاکانہ آپریشن بند نہیں کرا سکتے تو وزارت اعلیٰ سے استعفیٰ دے دیں ۔
الطاف حسین
#StateDeclaresWarOnPashtuns
@ManzoorPashteen@ PTMOfficial
#PashtunNationalJirga11Octobe
پشتونوں پر گولیاں چلانے اوران کا خون بہانے کا سلسلہ فی الفوربند کیا جائے
‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️
#StateDeclaresWarOnPashtuns#PashtunNationalCourt11October#PashtunNationalCourtIsUnderStateAttack#په_خیبر_ننګ_وکړئ
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
میں خیبرپختونخوا کے معروف عل��قے خیبر ایجنسی میں پشتون تحفظ موومنٹ کے پشتون قومی امن جرگہ میں شرکت کے لئے پہنچنے والے پشتونوں پر پولیس اورسیکوریٹی فورسز کی وحشیانہ فائرنگ کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتاہوں۔ اس وحشیانہ فائرنگ کےنتیجے میں اب تک تین بے گناہ پشتون شہید اوردرجنوں شدیدزخمی ہوچکے ہیں اورریاستی بربریت کاسلسلہ جاری ہے ۔
11 اکتوبر کو ہونے والایہ گرینڈ قومی جرگہ صرف پشتون تحفظ موومنٹ کانہیں بلکہ تمام پشتون قبائل کاہےجس کے انعقاد پر ملک میں کوئی طوفان نہیں آجائے گا لیکن حکومت پاکستان اوراس کے ریاستی ادارے امن کے لئے ہونے والے اس جرگہ کوروکنے کے لئے ریاستی طاقت کا ��یدریغ استعمال کررہے ہیں، وہ پہلے پشتونوں کے خیموں کوآگ لگاتے رہے اور آج پولیس اورفوج نے خیبرکے علاقے میں امن جرگہ میں شرکت کےلئے آنے والے پشتونوں پر بیدریغ گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں اطلاعات کے مطابق تین پشتون خلیل افغان،رمضان اورسکندر شہید اور درجنوں زخمی ہوچکے ہیں۔ اسی طرح وزیرستان کے علاقے واناسے جرگہ میں آنے والوں پر بھی شدیدفائرنگ کی گئی، وہاں بھی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔
میں آج پولیس اورسیکورٹی فورسزکی جانب سے پرامن پشتونوں پرکی جانے والی اس وحشیانہ فائرنگ کی شدیدمذمت کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان میاں شہبازشریف، حکومت پاک��تان ،آرمی چیف جنرل عاصم منیر، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور، مسلح افواج او رریاستی اداروں کے حکام کومتنبہ کرتاہوں کہ پشتونو ں پرگولیاں چلانےاوران کاخون بہانےکایہ سلسلہ فی الفور بندکیاجائے اوریاد رکھاجائےکہ پشتون قوم ایک بہادراورنڈرقوم ہے جس نے انگریزوں کا ڈٹ کرمقابلہ کیااو ر پاکستان کے لئے بھی ہزاروں کی تعداد میں جانی ومالی قربانیاں پیش کیں، آج جب وہ اپنے حقوق اورامن کےلئے آوازبلند کررہے ہیں توان کی آواز کو طاقت سے دبانے کی کوشش کی جارہی ہے اوران پر گولیاں چلائی جارہی ہیں لیکن پشتون قوم ا�� کسی بھی قسم کے ظلم، گولیوں اورگولہ بارود سے ڈرکردبنے والی نہیں ہے۔ میں متنبہ کرتاہوں کہ اگراپنے حقوق اورامن مانگنے والے بے گناہ پشتونوں کا خون بہانے کایہ سلسلہ فی الفوربند نہیں کیا گیا تو پشتونوں کابہایا جانے والایہ خون سب کچھ بہاکرلے جائے گا۔
میں پشتونوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے پر خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت کی بھی شدیدمذمت کرتاہوں اوروزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور @AliAminKhanPTI سے بھی کہتاہوں کہ وہ حکومت پاکستان اورفوج کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے امن جرگہ میں شرکت کرنے والے پشتونوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں خیبرپختونخوا کی پولیس کو استعمال کرنے سے بازر ہیں ،ورنہ یا��رکھیں کہ پشتونوں کوپولیس کے ذریعے کچلنے کے اقدامات سے خود پی ٹی آئی حکومت بھی پشتونوں میں اپنے لئے نفرت پیداکرے گی۔
میں پولیس اورسیکوریٹی فورسز کی فائرنگ سے پشتونوں کی شہادت پر پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین @ManzoorPashteen ، دیگر رہنماؤں، @PTMOfficial_ کےکارکنوں، شہیدوں کے لواحقین اورتمام پشتونوں سے دلی تعزیت کااظہارکرتاہوں، میں اورمیری ایم کیوایم کے تمام کارکنان اورعوام پشتونوں کی شہادت پرپشتون قوم کے غم میں برابرکے شریک ہیں۔
پی ٹی آئی کے انصاف پسند رہنماپشتون قومی امن جرگہ کےخ��اف کریک ڈاؤن کو رکوائیں ورنہ خیبرپختونخوا کی حکومت سے احتجاجاً باہر آجائیں یاکم از کم علی امین گنڈاپور کووزارت اعلیٰ کے منصب سے فارغ کردیں۔
‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️
#StateDeclaresWarOnPashtuns
#PashtunNationalCourt11October
#PashtunNationalCourtIsUnderStateAttack
#په_خیبر_ننګ_وکړئ
میں انتہائی افسوس کے ساتھ پاکستان کے 98 فیصد مظلوم قوموں کےحقوق کے حصول کےلئےجدوجہد کرنے والے تمام عوام کے علم میں یہ بات لاناچاہتاہوں کہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبہ خیبرپختونخوا کی حکومت پشتون تحفظ موومنٹ کے خلاف سفاکانہ آپریشن میں پی ڈی ایم کی وفاقی حکومت کے ساتھ مکمل طور پر مل چکی ہے اوروہ پولیس اوردیگر سی��وریٹی فورسز کے ذریعے پشتون قوم کے قتل عام میں خود بھی پوری طر ح شریک ہوگئی ہے۔
میں تحریک انصاف کے رہنماؤں سے سوال کرتا ہوں کہ آپ کی جماعت خود تو PDM کی ناجائز وفاقی حکومت کے خلاف احتجاجی جلسے،جلوس اوراحتجاج کررہی ہے اور اسے جائز اور اپنا جمہوری حق قرار دیتی ہے لیکن پشتون تحفظ موومنٹ 11 اکتوبر 2024ء کوخیبر ایجنسی میں تمام پشتون قبائل کے مشرانوں، بزرگوں اورعوام کاجوگرینڈامن جرگہ کررہی ہے، آپ کی KPK میں قائم صوبائی حکومت پشتون قوم کے اس گرینڈ جرگہ کونہ صرف ناجائزقرار دے رہی ہے بلکہ وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر پشتون تحفظ موومنٹ کے خلاف بڑا بے رحمانہ، ظالمانہ اورسفاکانہ آپریشن کررہی ہے اور پشتون قوم کے معصوم لوگوں پر بیدریغ گولیاں چلاکربے رحمانہ طریقے سے ان کاقتل عام کررہی ہے۔
تحریک انصاف کے رہنماقوم کے بتائیں کہ یہ کونسا انصاف ہے کہ پی ٹی آئی کاجلسے جلوس اوراحتجاج کرنا تو جائز اور حلال ہے لیکن پشتون قوم کے سینکڑوں قبائل کے مشرانوں اورعوام کا قومی امن جرگہ اس کی نظر میں ناجائز اور حرام ہے؟ کیا یہ PTIکی سیاست کی دوعملی نہیں ہے؟ کیایہ پی ٹی آئی کادہرامعیارنہیں ہے؟
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے اپنے تازہ بیان میں ہے کہ '' میں نے آئین کاحلف اٹھایا ہے لہٰذ ا میں PTM پر پابندی کے خلاف نہ توکچھ کرسکتاہوں اورنہ ہی میں پشتون قومی جرگہ کے خلاف کئے جانے والے کریک ڈاؤن کورکواسکتاہوں''۔
میں پوچھتاہوں کہ آخر پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے یہ اقدامات اوروزیراعلیٰ گنڈاپور کایہ بیان پشتون قوم کوکیاپیغا م دے رہاہے؟ میں پاکستان کی تمام مظلوم قومیتوں سے اپیل کرتاہوں کہ وہ پشتون قومی گرینڈ امن جرگہ کے خلاف کئے جانے والے کریک ڈاؤن اورمعصوم پشتونوں کے قتل کی کھل کرمذمت کریں۔
میں آخر میں PTI کےسچے اورانصاف پسند رہنماؤں سےاپیل کرتاہوں کہ وہ پشتون قومی امن گرینڈ جرگہ کے خلاف کئے جانے والے کریک ڈاؤن کورکوائیں ورنہ پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت سے احتجاجاً باہرآجائیں یاکم از کم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کووزارت اعلیٰ کے منصب سے فارغ کردیں۔
@PTMOfficial_ @ManzoorPashteen @PTMOffical @PashtunNJirga @PTIofficial @AliAminKhanPTI
میں ،جبری گمشدگیوں کےخلاف بلوچ وائس فار جسٹس @BalochV4Justice کی آن لائن مہم کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
جبری گمشدگیاں غیرآئینی،غیرقانونی اور غیرانسانی عمل ہیں ،میں جبری گمشدگیوں کی ہمیشہ مذمت کرتا رہا ہوں اور اس عمل کو ظلم اور بربریت قرار دیتا رہا ہوں۔
بلوچ وائس فارجسٹس 13اکتوبر 2024کورات 8بجے سے 12 بجے تک سوشل میڈیا پرجبری گمشدگیوں کےخلاف ایک آن لائن احتجاج کرے گی۔
میں تمام سچے قوم پرست بلوچوں اور @OfficialMqm کے تمام ذمہ داروں، کارکنوں اور ہمدردوں سمیت تمام مظلوموں سے پرزور اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس مہم میں بھرپور حصہ لیکر مظلوموں کی آواز میں آواز ملائیں اور ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں۔
میں مطالبہ کرتا ہوں کہ تمام مظلوم بلوچوں،سندھیوں، پشتونوں اور مہاجروں سمیت تمام لاپتہ افراد کو فی الفور بازیاب کیا جائے اور جبری گمشدگیوں کاسلسلہ بند کیا جائے۔
الطاف حسین
2/2
‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️
#StateDeclaresWarOnPashtuns#PashtunNationalCourt11October#PashtunNationalCourtIsUnderStateAttack#په_خیبر_ننګ_وکړئ
میں پشتون بھائیوں سے پوچھتاہوں کہ آپ ان بزرگوں کی اولادیں ہیں جنہوں نے انگریز سامراج کامقابلہ کیااوراپنی سرزمین پر ان کاقبضہ نہیں ہونے دیا، انہوں نے دیگربیرونی طاقتوں کوبھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبورکیا، کیا آج آپ اپنی سرزمین پر انگریزوں کے ایجنٹوں کے آگے سرینڈر کردیں گے؟ کیاآپ اپنے بزرگوں کی قربانیوں اوران کے ناموں پر کوئی داغ لگنے دیں گے؟ کیاغیرت مند پشتون آج ظالموں سے ڈرجائیں گے؟میں آپ سے یہی درخواست کروں گا کہ اپنی قوم کوظالموں کاغلام نہیں بننے دیں۔
میں آج ایک بارپھر وفاقی حکومت، خیبرپختونخوا کی صو��ائی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ارباب اختیار کو متنبہ کرتاہوں کہ وہ ہوشمندی سے کام لیں، اگر انہوں نے پشتون قومی جرگہ کے خلاف ظالمانہ ہتھکنڈے اختیار کرنا بند نہیں کئے اور طاقت کے ذریعے پشتون قومی جرگہ منعقد ہونے نہیں دیا توایساکرکے وہ ملک کی مکمل تباہی کے پروانے پر دستخط کریں گے۔ لہٰذا 11اکتوبر کو پشتون قبائل کاقومی گرینڈامن جرگہ ہونے دیاجائے اوراس کے انعقاد کی راہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹیں کھڑی کرنابند کی جائیں ۔
الطاف حسین
( ٹک ٹاک پر تازہ ترین صورتحال پرہنگامی خطاب)
10 اکتوبر2024ئ
آج پشاورمیں وزیراعلیٰ ہاؤس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی صدارت میں ہونے والا جرگہ دراصل پشتونوں کےقاتلوں کاجرگہ تھا جوپشتون تحفظ موومنٹ کے زیراہتمام 11اکتوبر کو ہونےوالے پشتون قبائل کے جرگہ کا انعقاد نہیں ہونے دینا چاہتے۔
‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️
#StateDeclaresWarOnPashtuns
#PashtunNationalCourt11October
#PashtunNationalCourtIsUnderStateAttack
#په_خیبر_ننګ_وکړئ
گزشتہ چندروزسے خیبرایجنسی کے علاقے میں پشتون گرینڈقومی امن جرگہ کے سلسلے می�� لگائے گئے خیموں کو پولیس اور سیکوریٹی فورسزکی جانب سے اکھاڑا جارہا ہے،انہیں آگ لگائی جارہی ہے،ان کی گرفتاریاں کی جارہی ہیں، خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت ہے اورمیں نے اپنےبیانات میں وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سے اپیلیں کیں کہ پشتون قومی جرگہ کے انعقاد میں رکاوٹیں کھڑی نہ کی جائیں لیکن وزیراعلیٰ نے بیان دیاکہ یہ وفاق کی پالیسی ہے، میں کچھ نہیں کرسکتا۔ وفاقی حکومت نے پشتون قومی جرگہ کوروکنےکے لئے پشتون تحفظ موومنٹ پر پابندی لگادی، وزارت داخلہ نے اس سلسلے میں نوٹیفیکیشن جاری کیاکہ پی ٹی ایم سے امن اورملکی سلامتی کو خطرہ ہے۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی ن�� چنگیزی اعلان کیاکہ پشتون جرگہ کسی بھی قیمت پر نہیں ہونے دیاجائےگا اور اس کو طاقت سے روکاجائے گا۔ وزیرداخلہ نے یہ الزام بھی لگایاکہ پی ٹی ایم کو غیرملکی فنڈ ملتے ہیں اوریہ ریاست کے خلاف ��رگرم ہیں۔ یہ وہی الزامات ہیں جوفوجی اسٹیبلشمنٹ نے MQM پر لگائے تھے اور جو اسٹیبلشمنٹ کی اس سہ جہتی حکمت عملی (Three Pronged Strategy) کاحصہ ہیں جن کامقصد کسی بھی تحریک کو کچلنا ہوتا ہے۔
اسٹیبلشمنٹ کی اس سہ جہتی حکمت عملی کوسمجھنے کےلئے میں نئی نسل کے نوجوانوں اورطلبہ وطالبات سے کہتاہوں کہ وہ اس سلسلے میں میرے لیکچرزپر مبنی کتاب ''اسٹیبلشمنٹ کی سہ جہتی حکمت عملی''(Three Pronged Strategy of Establishment) پڑھ سکتے ہیں۔ یہ کتاب @OfficialMqm کی ویب سائٹ https://t.co/dKZOMY7QSz پر دستیاب ہے۔ وہ یہ کتاب ویب سائٹ پر ڈاؤن لوڈکرکے پڑھ سکتے ہیں یااس کاپرنٹ نکال کرزیادہ آسانی کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں اور اپنی لائبریری ی��کتابوں کے ریکارڈ میں بھی محفوظ کرسکتے ہیں۔
میں سوال کرتاہوں کہ پشتون تحفظ موومنٹ نے اپنے قیام کے بعد کب اورکہاں کسی مسجد یا امام بارگاہ پر کوئی خودکش دھماکہ کیا ہے؟ @PTMOfficial_ نے کس فوجی ہیڈکوارٹر، کورکمانڈرہاؤس، تھانے یاکس دفاعی تنصیبات پر حملہ کیا ہے؟ اس نے کونسی دہشت گردی کی کارروائی کی ہے جس کی بنیاد پر وفاقی حکومت نے پشتون تحفظ موومنٹ پر پابندی لگادی ہےاور وفاقی وزیر داخلہ نے پی ٹی ایم پر دہشت گردی اور ریاست کے خلاف سرگرم ہونے کاالزام لگایا ہے؟ منظورپشتین نے اپنے ہر خطاب میں امن کی بات کی ہے، پرامن جدوجہد کی بات کی ہے، @ManzoorPashteen نے ہمیشہ پاکستان کے آئین وقانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پشتونوں کے حقوق کی بات کی ہے، انہوں نے کہیں بھی ملک توڑنے یاریاست کے خلاف بات نہیں کی، پھر PTM پر پابندی کیوں لگائی گئی ہے؟
گزشتہ روزوفاقی وزیرداخلہ کی دھمکی آمیز پریس کانفرنس کے بعد پولیس اور سیکوریٹی فورسزنےجرگہ میں آنےوالے بےگناہ پشتونوں پر بیدریغ گولیاں چلائیں، تین پشتونوں کو شہید اوردرجنوں کو زخمی کردیا۔گولیاں چلانے والوں میں سیکوریٹی فورسز کے ساتھ ساتھ KPK کی پولیس بھی شریک تھی جوصوبائی حکومت کے ماتحت ہے۔
بے گناہ پشتونوں کاخون بہانے کے بعد آج علی امین گنڈاپور نے پشاورمیں وزیراعلیٰ ہاؤس میں سیاسی جماعتوں کاایک اجلاس کیاجسے انہوں نے امن جرگہ کانام دیا۔اس جرگہ میں پیپلزپارٹی ، مسلم لیگ ن، عوامی نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی کے رہنماؤں اوردیگر تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کوبھی خصوصی طورپر مدعوکیا گیا تھا جنہو ں نے 11 اکتوبرکے پشتون قومی جرگہ کو طاقت سے روکنے اور پشتونوں کوکچلنے کے دھمکی آمیز اعلانات کئے تھے اورجن کے احکامات پر بے گناہ پشتونوں پر گولیاں چلائی گئیں تھیں ۔
میں پاکستان تحریک انصاف کے تمام سچے رہنماؤں اورکارکنوں سے کہتاہوں کہ وہ اس بات پر غورکریں کہ کیاان کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور پشتون قومی جرگہ کے خلاف جواقدامات کررہے ہیں وہ عمران خان کی مرضی اوراجازت سے کررہے ہیں؟ کیا علی امین گنڈاپور نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو قید کرنے، @PTIofficial کے رہنماؤں اورکارکنوں،بزرگوں اور خواتین کو ریاستی تشددکانشانہ بنانےوالوں اور پشتونوں کے قاتلوں سے اتحادکرلیاہے؟ کیا @ImranKhanPTI کے سچے چاہنے والے علی امین گنڈاپور کے اقدامات کودرست اور جائزتصورکرتے ہیں؟ 1/2
چور کی داڑھی میں تنکا
‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️
کسی ملک کاٹوٹ جانا ، ٹکڑے ٹکڑے ہوجانا یادولخت ہوجانا کوئی معمولی واقعہ یاسانحہ نہیں ہوتا بلکہ ایک انتہائی سبق آموز یاغیرمعمولی واقعے یا سانحے سے کم نہیں ہوتا۔ ایسے سانحات روز مرّہ ظہورپذیرنہیں ہوتے ہیں بلکہ وہ برسوں اور صدیوں پر محیط ہوتے ہیں۔ سانحہ گزرنے کے بعد سال بیتتے رہتے ہیں اورآدھی صدی تک پہنچنے کے بعد آگے بڑھتے رہتے ہیں اوربالآخر ایک صدی بھی گزرجاتی ہے اورپھر اسی طرح صدیاں بیتتی رہتی ہیں مگرسانحے کی تاریخ اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔
اسی طرح سانحہ کے وقت موجود لوگ بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس دنیا ئے فانی سے کوچ کرتے رہتے ہیں۔ اورساتھ ساتھ نئی نسل درنسل بھی پیدا ہوتی رہتی ہے اوروہ نئی نسل کسی بھی انتہائی غیرمعمولی سانحے یاواقعے کے اصل اسباب سے ناواقف ہوتی ہے ۔ اسی لئے تاریخ لکھنے والے اس سانحے یاواقعے کوقلمبند کرکے اس کی تفصیلات ، اس کے بارے میں ناقابل تردیدحقائق اوراس سانحے کے اسباب کوبھی بیان کرتے ہیں تاکہ آنے والی تمام نئی نسلیں بھی اس واقعے یاسانحے سے نہ صرف آگاہ ہوسکیں بلکہ اس واقعے یا سانحے کے اسباب بھی جان سکیں۔
اسی طرح جب پاکستان 16دسمبر1971ء کو ٹوٹ کردولخت ہوگیا تو اس کے ٹوٹنے کے اسباب کیا تھے، اوراصل کردار کون تھے، یہ جاننے کے لئے ایک تحقیقاتی کمیشن '' حمودالرحمن کمیشن '' کے نام سے بنایا گیا تھا۔جس نے گواہان کے بیانات اوراس وقت کےتمام واقعات بمعہ تاریخ ، سن کوسامنے رکھتے ہوئے ایک رپورٹ مرتب کی جس نے دیگر متعلقہ افرادکوذمہ دار قراردیتے ہوئے سب سےاصل کردار اوربڑاملزم (Main Accused) فوج اورفوج کے جرنیلوں کو قراردیا تھا مگرافسوس کہ کسی بھی حکومت نے آج تک سرکاری سطح پر اس حمودالرحمن کمیشن کی رپورٹ کوشائع نہیں کیا۔آج جب پاکستان تحریک انصاف @PTIofficial اس رپورٹ کے بعض اہم اقتباسات کوشائع کررہی ہے تومسلم لیگ ن کی حکومت اوراس کے اتحادی نہ صرف سخت نالاں ہیں، ان کے رہنما بڑاشورووایلا بھی مچارہے ہیں ۔ان کے واویلااورشور شرابہ کرنے کاعمل ہرذی شعور فرد کی سمجھ سے باہر ہے۔
میں سمجھتاہوں کہ اس شوروواویلا کے پسِ منظرمیں کچھ نہ کچھ ایساراز چھپاہے کہ حمودالرحمن کمیشن کی رپورٹ کے اقتباسات پران کاچیخنا،چلانااس مشہور کہاوت کی نشاندہی کررہاہے کہ،
چور کی داڑھی میں تنکا
شکریہ
الطاف حسین
27مئی 2024
اسلام آباد میں @PTIofficial کے مرکزی سیکریٹریٹ کو ناجائز قرار دیکر بلڈوز کرنا قابل مذمت اور سراسر ظلم ہے۔
پی ٹی آئی کے وفادار کارکنوں !
یہ وقت سرد احتجاج کا نہیں بلکہ گرم احتجاج کا ہے۔
اسی طرح عزیز آباد میں MQM کے خورشید بیگم پبلک سیکریٹریٹ کو سیل کیا گیا تھا، بلڈوز کیا گیا تھا، MQM کے مرکز نائن زیرو کو سیل کیا گیا تھا،اسے آگ لگائی گئی تھی ۔اس وقت دوسروں کو اسکی مذمت کرنی چاہئے تھی۔ہم PTI کے مرکزی سیکریٹریٹ پر ہونے والے ظلم کے واقعہ پر پی ٹی آئی سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں
سندھ کےمعروف صحافی نصراللہ گڈانی کاقتل قابل مذمت ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
#JusticeForNasurullahGadani
میں ،گزشتہ 46 برسوں سے پاکستان اور اس کے عوام پر مسلط فرسودہ جاگیردارانہ اوروڈیرانہ نظ��م کے خلاف عملی جدوجہد کررہا ہوں ۔
یہ جاگیرداروڈیرےکھلے عام سچائی بیان کرنے والےصحافی عزیزمیمن اور جان محمد مہر سمیت درجنوں صحافیوں کو قتل کریں،کسی کے گھرکی چادرچہاردیواری کا تقدس پامال کریں اور ماں ،بہن، بیٹی کی بے حرمتی کریں لیکن ان کرپٹ جاگیرداروں اوروڈیروں کو کسی عدالت سے ان کے ظلم وجبراور زیادتیوں کے خلاف سزا دینا توکجا ان پر کبھی مقدمہ تک نہیں چلایاگیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تین روز قبل سندھ کے شہرمیرپورماتھیلو میں حق اور سچ کی آواز بلند کرنے والے سندھ کے ایک اورمعروف صحافی اور ویڈیولاگر نصراللہ گڈانی کو گولیاں مارکر شدید زخمی کردیا گیا تھا جوآج زخموں کی تاب نہ لاتےہوئے جاں بحق ہوگئے ۔ (اناللہ وانا الیہ راجعون)
مقامی جاگیرداروں اوروڈیروں نے نصراللہ گڈانی کواس لئے بہیمانہ طریقے سے قتل کروایاکیونکہ وہ تمام وڈیروں ، جاگیر داروں اورکرپٹ سیاستدانوں کی کرپشن پر کھل کر تنقید کیاکرتے تھے اور غریب سندھی عوام میں شعوری بیداری پھیلایاکرتے تھے۔نصراللہ گڈانی کا یہ عمل ظالم جاگیرداروں اوروڈیروں کو پسند نہیں آیا لہٰذا انہیں سفاکی سے راستے سے ہٹادیاگیاتاکہ دوسرے صحافیوں کو بھی خاموش کرادیاجائے۔
میں ،سندھ کےعوام سےاپیل کرتاہوں کہ وہ ظالم جاگیرداروں ، وڈیروں اورکرپٹ سیاستدانوں کے خلاف متحد ہوجائیں، سندھ بھرکے ہاری ،کسان ، مزدوراور مڈل کلاس سندھی عوام ان ظالم جاگیرداروں اوروڈیروں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں، غریب عوام کو انقلاب لاناہوگا ورنہ نصراللہ گڈانی کے ساتھ ہونے والے ظالمانہ سلوک کو دیکھ کر کوئی بھی صحافی ان کرپٹ عناصر کی کرپشن اورمظالم کو اجاگر کرنے کی جرات نہیں کرے گا۔
میں ،کرپٹ جاگیرداروں ، وڈیروں اور سیاستدانوں کے ہاتھوں سندھی صحافی نصراللہ گڈانی کے قتل کے گھناؤنے عمل کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں ، نصراللہ گڈانی کے سوگوارلواحقین سے دلی تعزیت کرتا ہوں اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ نصراللہ گڈانی کےقتل کا سنجیدگی سے نوٹس لیاجائے،قتل میں ملوث وڈیروں اوران کے کارندوں کوگرفتار کیاجائےاورمقتول کے اہل خانہ کی کفالت کی جائے ۔
الطاف حسین
#سانحہ_پکا_قلعہ پاکستان کی تاریخ کاایک بڑاسانحہ ہے جو ریاستی ظلم وبربریت کی ایک بدترین مثال ہے۔ 26 اور27 مئی 1990ء کو اس وقت کی پیپلزپارٹی حکومت نے حیدرآبادکے پکا قلعہ میں جوظالمانہ آپریشن کیا اس کے دوران علاقے کا پانی، بجلی، گیس بند کیا گیا ، پکاقلعہ پر ریاستی فورسز کے ذریعے حملہ کیا گیا، تلاشی کے نام پر گھروں میں لوٹ مار کی گئی، ماؤں بہنوں کی بے حرمتی کی گئی، بزرگوں، نوجوانوں بچوں تک کوتشدد کا نش��نہ بنایا گیا، بےگناہوں کو گرفتارکیا گیا،جب دوسرے دن پکاقلعہ کی مائیں بہنیں اپنے ہاتھوں میں پاکستان کے پرچم اورسروں پر قرآن مجید رکھ کر گھروں سے باہرآئیں اورسیکوریٹی فورسز سے آپریشن بند کرنے کی فریادیں کررہی تھیں توان پر بھی اندھادھند گولیاں چلائی گئیں جس کے نتیجے میں درجنوں مائیں بہنیں شہید ہوگئیں۔ ان شہداء کی متیں دفنانے کےلئے قبرستان لیجانے تک کی اجازت نہیں دی گئی جس کی وجہ سے شہداء کوپکاقلعہ کے احاطے میں ہی دفنایا گیا۔
بینظیربھٹو کے دورِ حکومت میں کئے جانے والے اس پکاقلعہ آپریشن کے نام پر جو وحشیانہ مظالم ڈھائے گئے ، پاکستان کی تاریخ میں ان کی مثال نہیں ملتی۔ یہ بھی ایک المیہ ہے کہ اس ظالمانہ آپریشن اورظلم وبربریت کی تاریخ رقم کرنے والے ظالموں ، اس آپریشن کاحکم دینے ��الے، اس کی منظوری اورمنصوبہ بندی کرنے والوں اوراس ظالمانہ آپریشن میں براہ راست ملوث پولیس اوردیگرسیکوریٹی فورسز کے افسران واہلکاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
میں سانحہ پکاقلعہ کے شہیدوں کی 34 ویں برسی کے موقع پر تمام شہداکوخراج عقیدت پیش کرتاہوں، شہداء کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہارکرتاہوں۔ اللہ تعالیٰ شہدائے پکاقلعہ کے درجات بلند فرمائے اوران کی قربانیوں کے طفیل ہماری تحریک کوکامیاب فرمائے۔
فوج اور آئی ایس آئی کے تشکیل کردہ ملاّ ، مذہبی انتہا پسند جماعتیں اوران میں شامل افراد پاکستانی شہریت رکھنے والی مذہبی اقلیتوں کے لوگوں پر جھوٹے الزامات اور بہتان لگا کران کا قتل اوران کی عبادت گاہوں اوراملاک کونقصان پہنچانے کا تواتر کے ساتھ گھناؤناعمل کررہے ہیں لہٰذا ایسے شرپسند عناصر کوپولیس یاسول انٹیلی جنس ایجنسیاں گرفتارکرنے سے قاصر ہیں حتیٰ کہ پولیس اہلکاروں کوتشدد کا نشانہ بناکرانہیں قتل کرنے والے ان قاتلوں اور مذہب کے نام پر ہشت گردی کرنے والوں میں فوجی جرنیل کھلے عام رقوم بھی تقسیم کرتے ہیں۔ فوج اورآئی ایس آئی کے تشکیل کردہ اس گروہ نے ایک مرتبہ پھ�� گزشتہ روز صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا #Sarghodha میں توہینِ مذہب کاالزام لگا کرمعصوم عیسائیوں کوقتل وغارتگری کا نشانہ بنایا۔ میں عیسائیوں خلاف کئے گئے قتل وغارتگری اورلوٹ مارکے اس تازہ ترین واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتاہوں اورمتاثرین سے دلی ہمدردی کا اظہارکرتا ہوں۔ میں ایک مرتبہ پھر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینٹونیو گوٹرس @antonioguterres سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ پاکستان میں اقلیتوں سےتعلق رکھنے والوں کی جان ومال اورعبادت گاہوں کو نقصان پہنچانے والے عناصر کی سرکوبی کے لئے اپنے اختیارات کااستعمال کرتے ہوئے فوج اورآئی ایس آئی کے سربراہوں سے رابطہ کرکے مذہبی اقلیت��ں کی اس روز مرّہ کی جانے والی قتل وغارتگری کے سلسلے کوفوی الفور بند کرائیں ۔
میں پاکستان کے تمام افراد سے پرزوراپیل کرتاہوں کہ وہ توہینِ مذہب کی آڑ میں مذہبی اقلیتوں کوقتل وغارتگری،املاک پر حملوں اور لوٹ مار کانشانہ بنانے والے عناصر کا سوشل بائیکاٹ کریں اورایسے عناصر کی مذمت بھی کریں۔
الطاف حسین
26 مئی 2024