رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
" جمعے کے دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ کو ئی مسلمان اللہ تعالیٰ سے کسی خیر کا سوال کرتے ہو ئے اس کی موافقت کرتا ہے تو اللہ تعا لیٰ اسے وہی خیر عطا کر دیتا ہے”
فرمایا یہ ایک چھوٹی سی گھڑی ہے ۔
(مسلم،کتاب الجمعہ ،۱۹۷۳)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو شخص اس حالت میں مرے کہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراتا تھا تو وہ جہنم میں جائے گا اور میں یہ کہتا ہوں کہ جو اس حال میں مرا کہ اللہ کا کوئی شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں جائے گا۔
(صحیح بخاری،۱۲۳۸)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دعا کرتےتو یہ بھی فرماتے:
“اے اللہ! میں گناہ اور قرض سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ کسی نےعرض کیا یا رسول اللہﷺ! آپ قرض سے اتنی پناہ مانگتے ہیں؟
فرمایا:
جب آدمی مقروض ہوتا ہےتو جھوٹ بولتا ہےاور وعدہ کر کے اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
(بخاری،۲۳۹۷)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا:
جس نے قرآن پاک پڑھا، سیکھا اور اسے حفظ کیا، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کریں گے اور اس کے گھر والوں میں سے ان دس افراد کے بارے میں اس کی سفارش قبول کریں گے، جن کے حق میں دوزخ واجب ہو چکی ہو گی۔
(مسند احمد،۸۳۳۰)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
صاحب قرآن (قرآن حفظ کرنے والے) کی مثال پاؤں بندھے اونٹوں ( کے چرواہے ) کی مانند ہے اگر اس نے ان کی نگہداشت کی تو وہ انھیں قابو میں رکھے گا اور اگر انھیں چھوڑ دے گا تو وہ چلے جا ئیں گے ۔
(صحیح مسلم ،۱۸۳۹)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
شہید پانچ قسم کے ہوتے ہیں۔
۱۔ طاعون میں مر جانے والا
۲- پیٹ کی بیماری میں ہلاک ہونے والا
۳- ڈوب کر مرنے والا
۴- دب کر مر جانے والا
۵- اور اللہ کے راستے میں شہادت پانے والا
(صحیح بخاری،۲۸۲۹)
قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں: ایک جنتی اور دو جہنمی، رہا جنتی تو وہ ایسا شخص ہو گا جس نے حق کو جانا اور اسی کے موافق فیصلہ کیا، اور وہ شخص جس نے حق کو جانا اور اپنے فیصلے میں ظلم کیا تو وہ جہنمی ہے ۔ اور وہ شخص جس نے نادانی سے لوگوں کا فیصلہ کیا وہ بھی جہنمی ہے۔
(سنن ابی داؤد،۳۵۷۳)
خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
“جو شخص کسی تنگ دست (قرض دار) کو مہلت دے یا اس کا کچھ قرض معاف کر دے، تو اللہ اسے قیامت کے دن اپنے عرش کے سایہ کے نیچے جگہ دے گا جس دن اس کے سایہ کے علاوہ کوئی اور سایہ نہ ہو گا“۔
(جامع ترمذی،۱۳۰۶)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
صاحب قرآن (قرآن حفظ کرنے والے) کی مثال پاؤں بندھے اونٹوں ( کے چرواہے ) کی مانند ہے اگر اس نے ان کی نگہداشت کی تو وہ انھیں قابو میں رکھے گا اور اگر انھیں چھوڑ دے گا تو وہ چلے جا ئیں گے ۔
(صحیح مسلم ،۱۸۳۹)
رسول اللہ ﷺ نےفرمایا :
اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔
صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ! ہم مظلوم کی تو مدد کر سکتے ہیں۔ لیکن ظالم کی مدد کس طرح کریں؟
آپ ﷺ نے فرمایا کہ ظلم سے اس کا ہاتھ پکڑ لو ( یہی اس کی مدد ہے ) ۔
(صحیح بخاری، ٢٤٤٤)
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :
قرآن پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اصحاب قرآن ( حفظ وقراءت اور عمل کرنے والوں ) کا سفارشی بن کر آئے گا۔
(صحیح مسلم، ۱۸۷۴)
ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ!
میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟
فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔
پوچھااس کے بعد کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔
پھر پوچھا اس کے بعد کون؟ آپ ﷺنے فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔
++
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
جو کوئی کسی روزہ دار کو افطار کرا دے تو اس کو روزہ دار کے برابر ثواب ملے گا، اور روزہ دار کے ثواب میں سے کوئی کمی نہیں ہو گی۔
(سنن ابن ماجہ،۱۷۴۶)
Prophet Muhammad (ﷺ) said,
"The worst of all mankind is the double-faced one, who comes to some people with one face and to others, with another face."
Sahih al-Bukhari 7179
Narrated Jarir bin `Abdullah (RA): Allah's Messenger (SAW) said, "Allah will not be merciful to those who are not merciful to mankind." (Bukhari)
Forgive others as you make your Duas in these final days of Ramadan, and hope for forgiveness too.