In Abbotabad, a man slaughtered his wife over a property dispute. Everyday it’s another woman getting killed by the man of the house. Men? Who were supposed to be protectors?
کراچی پولیس نے پہلے میری رضا کو زبردستی خودکشی کا کیس بنایا۔
کراچی پولیس نے خاتون کے ساتھ مل کر عام شہری پر تشدد کروایا۔
کراچی پولیس کی حراست میں نوجوان قتل ہوگیا۔
لیکن سندھ حکومت کہتی ہے سب ٹھیک !
کراچی، ملیر پولیس کی جانب سے 16 سالہ لڑکے اور 8ویں جماعت کے طالب علم ارشاد کو مبینہ طور پر ایس ایچ او کی پرائیوٹ پارٹی نے گھر سے اٹھایا اور تشدد سے وہ جان سے گیا
اہل خانہ کے مطابق ارشاد کو بدترین کرنٹ لگایا اور جسم پر شدید تشدد کے نشانات تھے۔ لواحقین کا پریس کلب پر احتجاج
A 13-year-old girl who sold flowers and toys in Chaklala III, Rawalpindi, was allegedly ra*ed by a rickshaw driver near a graveyard while she was returning home. According to police, the driver offered her a lift, took her to the graveyard, and allegedly sexually assaulted her.
کراچی بریکنگ اپڈیٹ
ڈیفنس فیز 6 خیابان بخاری کے ایک اپارٹمنٹ میں خاتون نور العین اور ان کے بھائی علی حسن پر تشدد کا معاملہ
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تشدد کے واقعے کے بعد متاثرہ فیملی شدید خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور انہوں نے تحفظ کی خاطر اپنا فلیٹ خالی کر کے سامان کسی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا
ذرائع کے مطابق متاثرہ خاندان کو مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور ان پر کیس ختم کر کے صلح کرنے کے لیے شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
میررضا واقعے کے بعد میررضا کی والدہ مضبوط ترین ماں کے طور پر سالنے آئی ہیں، جنہوں نے واقعے کے بعد اپنی بیٹی کو نہ رونے کا مشورہ دیا
#ZarayeNews#MirRaza
آیت نور کیس میں سوال صرف یہ نہیں کہ ملزمان گرفتار ہوگئے یا لاش برآمد ہوگئی اصل سوال یہ ہے کہ 10 اگست کو پانچ سالہ بچی کے لاپتا ہونے کے بعد ابتدائی اور فیصلہ کن گھنٹوں میں پولیس نے کیا کیا؟ آیت نور کے والد محمد شفیق کا کہنا ہے کہ انہوں نے پولیس کو قریبی سی سی ٹی وی کیمرے اور اس میں نظر آنے والے مشتبہ لڑکے کے بارے میں ابتدائی مرحلے میں ہی بتا دیا تھا، حتیٰ کہ اس کے گھر کی نشاندہی بھی کی، مگر ان کے مطابق پہلے تین چار روز کوئی مؤثر پیش رفت نہیں ہوئی اور تقریباً دس روز بعد احتجاج کے نتیجے میں پولیس زیادہ متحرک ہوئی۔
دوسری طرف ہری پور پولیس کا سرکاری مؤقف ہے کہ ابتدا ہی سے مکمل تفتیش کی گئی، خاندان کو ہر مرحلے پر ساتھ رکھا گیا اور کسی قسم کی غفلت نہیں ہوئی۔ یہ دونوں بیانات بیک وقت درست نہیں ہوسکتے۔ اس تضاد کا فیصلہ خود پولیس نہیں بلکہ ایک آزاد عدالتی فورم کو کرنا چاہیے۔
دوسرا بڑا سوال سی سی ٹی وی فوٹیج کا ہے۔ پولیس خود بتاتی ہے کہ تقریباً 200 کیمروں کا ریکارڈ حاصل کیا گیا، جن میں سے 12 کیمروں کی فوٹیج ایسی تھی جس سے بچی کے گھر سے نکلنے، اسے لے جانے اور مشتبہ افراد کی نقل و حرکت کا سراغ ملا۔ لیکن پولیس کے اپنے بیان کے مطابق پہلی گرفتاریاں 21 اور 22 اگست کو ہوئیں، یعنی واقعے کے تقریباً گیارہ بارہ دن بعد۔
اب یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ وہ اہم فوٹیجز پولیس کو کس تاریخ اور کس وقت ملیں، انہیں پہلی مرتبہ کس افسر نے دیکھا، ان سے مشتبہ افراد کی شناخت کب ہوئی، اور اگر شناخت پہلے ہوگئی تھی تو گرفتاری میں اتنے دن کیوں لگے؟ اور اگر اہم فوٹیجز کئی دن بعد حاصل ہوئیں تو پھر سوال یہ ہے کہ جائے وقوعہ اور بچی کے گھر کے اردگرد موجود DVR اور کیمروں کا ریکارڈ پہلے ہی دن محفوظ کیوں نہیں کیا گیا؟ یہ سب کچھ زبانی وضاحتوں سے نہیں بلکہ seizure memos، DVR logs، روزنامچے اور تفتیشی ریکارڈ سے چند گھنٹوں میں واضح ہوسکتا ہے۔
تیسرا اور شاید سب سے سنگین سوال یہ ہے کہ عثمان سمیت تین ملزمان گرفتار ہوچکے تھے، عثمان کا اغوا اور زیادتی سے متعلق اقبالی بیان عدالت میں ریکارڈ ہونے کا دعویٰ بھی پولیس نے خود کیا، لیکن اس کے باوجود آیت نور نہ مل سکی۔ بالآخر چوتھے ملزم حسن کو گرفتار کرنے کے بعد اس کی نشاندہی پر یونیورسٹی روڈ کے قریب ایک کنویں سے لاش برآمد ہوئی۔ پولیس کے مطابق پہلے گرفتار تین ملزمان نے یہ نہیں بتایا تھا کہ جرم کے بعد بچی کو آخری مرتبہ کہاں چھوڑا گیا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں دفعہ 164 کے اصل بیانات، پولیس کی interrogation notes، ملزمان کی نشاندہیوں، سرچ آپریشن کے مقامات اور سی سی ٹی وی کی مکمل chronological chain سامنے آنی چاہیے۔ آخر تین گرفتار ملزمان اور ایک عدالتی اعتراف کے باوجود پولیس اصل مقام تک کیوں نہیں پہنچ سکی؟ تفتیش کس اطلاع کی بنیاد پر کھاد فیکٹری گراؤنڈ اور دوسرے علاقوں میں گھومتی رہی، جبکہ لاش بالآخر ایک دوسرے مقام سے برآمد ہوئی؟
اسی لیے آیت نور کیس میں آزاد جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ پولیس کو پہلے سے مجرم قرار دینے کے لیے نہیں بلکہ حقیقت معلوم کرنے کے لیے ہونا چاہیے۔
کمیشن 10 اگست کی شام سے 24 اگست کی رات تک پولیس کارروائی کی گھنٹہ وار ٹائم لائن مرتب کرے ایف آئی آر اور روزنامچے کا ریکارڈ، ابتدائی اطلاع پر پہنچنے والے اہلکاروں کے بیانات، تمام CCTV seizure records، جیو فینسنگ اور CDR کی تاریخیں، والد کی جانب سے کی گئی ابتدائی شناخت، ملزمان کی گرفتاریوں کا وقت، دفعہ 164 کے اصل بیانات، سرچ آپریشن کی سمت اور لاش کی برآمدگی تک پوری chain of investigation کا جائزہ لے۔
اگر پولیس نے واقعی پہلے دن سے ہر ممکن اقدام کیا تو جوڈیشل کمیشن اس کا نام بھی صاف کردے گا لیکن اگر پانچ سالہ بچی کے کیس میں ابتدائی غفلت، غلط سمت میں تفتیش یا قابلِ عمل اطلاع کو نظر انداز کرنے کا ثبوت نکلتا ہے تو ذمہ دار افسران کا تعین بھی ہونا چاہیے۔ آیت نور کے والد اور عوام کو پولیس کی اپنی انکوائری نہیں، ایک آزاد جواب چاہیے۔
#JusticeForAyatNoor
Back when people would post a random photo with zero anxiety, see only your friends' posts in chronological order and influencers didn’t exist. We really lost a golden era
آیت نور کیس میں اب تک جو حقائق سامنے آئے ہیں، ان کے بعد میرے نزدیک پولیس کی تفتیش پر بہت سنجیدہ سوالات موجود ہیں۔ سب سے پہلا سوال یہی ہے کہ بچی کے لاپتا ہونے کے بعد ابتدائی گھنٹوں میں پولیس نے کیا کیا؟
آیت نور کے والد محمد شفیق مسلسل یہ کہتے رہے ہیں کہ انہوں نے شروع ہی میں مشتبہ لڑکے کی نشاندہی کردی تھی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود تھی، لیکن اس کے باوجود فوری کارروائی نہیں ہوئی۔ پھر احتجاج ہوا، معاملہ میڈیا پر آیا اور اس کے بعد پولیس کی کارروائی تیز ہوئی۔
دوسرا اہم سوال سی سی ٹی وی فوٹیجز کا ہے۔ پولیس خود کہتی ہے کہ سینکڑوں کیمروں کا ریکارڈ دیکھا گیا اور کئی اہم فوٹیجز سے ملزمان کی نقل و حرکت سامنے آئی۔ تو پھر یہ بتایا جائے کہ یہ فوٹیجز پولیس کو کب ملیں؟ پہلی مرتبہ کس افسر نے دیکھیں؟ ملزمان کی شناخت کب ہوئی؟
اور اگر شناخت پہلے ہوگئی تھی تو گرفتاری میں اتنے دن کیوں لگے؟ آیت نور کے والد کو اہم فوٹیجز پہلے کیوں نہیں دکھائی گئیں؟ یہ تمام سوالات صرف بیانات سے نہیں بلکہ پولیس کے روزنامچے، DVR ریکارڈ اور تفتیشی دستاویزات سے واضح ہوسکتے ہیں۔
پھر تین ملزمان گرفتار ہوئے۔ پولیس کے مطابق ایک ملزم کا اعترافی بیان بھی عدالت میں ریکارڈ ہوا، لیکن اس کے باوجود آیت نور کی لاش نہیں مل سکی۔ آخرکار ایک اور ملزم کی گرفتاری کے بعد لاش برآمد ہوئی۔
سوال یہ ہے کہ پہلے گرفتار ملزمان سے پولیس کیا معلومات حاصل کرتی رہی؟ تفتیش کس سمت میں جارہی تھی؟ مختلف مقامات پر سرچ آپریشن کس بنیاد پر کیے گئے؟ اور اگر ملزمان پولیس کی تحویل میں تھے تو اصل مقام تک پہنچنے میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟
میرے نزدیک اب اس کیس کی تحقیقات صرف پولیس کے اندرونی نظام پر نہیں چھوڑی جاسکتیں۔ ہائیکورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن بنایا جائے جو پہلے دن سے لاش کی برآمدگی تک پوری تفتیش کا ریکارڈ دیکھے۔
سی سی ٹی وی فوٹیجز، والد کی ابتدائی نشاندہی، پولیس روزنامچہ، ملزمان کی گرفتاریوں کا وقت، دفعہ 164 کے بیانات، سرچ آپریشن اور تمام تفتیشی فیصلوں کی جانچ کی جائے۔
اگر پولیس نے درست کام کیا ہے تو یہ بھی سامنے آجائے گا، لیکن اگر کہیں غفلت ہوئی، کسی اطلاع کو نظر انداز کیا گیا یا تفتیش غلط سمت میں گئی تو ذمہ داروں کا تعین بھی ہونا چاہیے۔ آیت نور کو انصاف اسی صورت ملے گا جب اس کیس کے اصل حقائق کسی آزاد فورم کے ذریعے سامنے آئیں گے۔
Victim's fam forced to flee home😢
Their aged mom had to visit police for bail on frivolous FIRs filed by asshole who tried to kill woman with dumbbell💔
Areas' residents say thug prevents lift use
Dangerous precedent set
@ZiaLanjar@KarachiPolice_ must address taxpayers!!
TW
کراچی کے ضلع وسطی کے علاقے لیاقت آباد میں مبینہ طور پر بینائی سے محروم خاتون کے گھر پر قبضہ کرلیا گیا۔ خاتون کے مطابق وہ کئی گھنٹے سے تھانے میں ہیں لوئی شنوائی اور انصاف نہیں ہورہا۔ اعلی حکام سے نوٹس کی اپیل
#ZarayeNews#Karachi
پوری فیملی مل کرماتون کو مارنے دوڑی آرہی ہے۔ عجیب بے حس لوگ ہیں۔ بہت اچھا ہوا کے CCTV فوٹیج سامنے آئی۔ اس ملک میں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، صرف حکمرانوں کو کیوں کوسیں؟
یہ ڈیڑھ سال کی معصوم بچی کراچی کی آئزل ہے ۔ جس کیساتھ 4 اگست کو درندگی ہوئی اور آج 26 روز گزر چکے ہیں لیکن ڈی این اے رپورٹ نہیں آئی ۔ بچی کی والدہ جب تھانے گئی تھی تو وہ بتاتی ہیں کہ ملزم منان ہنس رہا تھا ۔
جبکہ والدہ کہتی ہیں کہ ان کو بتایا گیا ہے ڈی این اے رپورٹ آنے میں دو ماہ لگ سکتے ہیں ۔
آیت نور کی موت کی وجہ تو کم از کم بتادی گئی ہے لیکن آئزل کے پوسٹ مارٹم میں وجہ کو محفوظ کرلیا گیا ہے بتایا نہیں گیا ۔ کیوں ؟
قصور کی زینب انصاری کی لاش 9 جنوری 2018 کو ملی۔ 12 جنوری تک DNA analysis سامنے آ چکا تھا۔ جبکہ 1150 لوگوں کا ڈی این اے لیا گیا اور 814 ملزمان سے ڈی این اے کو میچ کیا گیا تھا جس میں سے عمران علی کا میچ ہوا تھا ۔ جبکہ یہاں تو ملزم بھی گرفتار ہے اور ایک ہی ہے تو پھر اتنی تاخیر کیوں ؟
آئزل کی والدہ کے مطابق ملزم کے خاندان کی طرف سے منان کو کم عمر اور ذہنی مریض ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں انصاف کی امید نظر نہیں آ رہی اور وہ انصاف کے لیے سڑکوں پر آواز اٹھائیں گی۔
#JusticeForAyatNoor #JusticeForAizal
کراچی میں روٹین بن گئی آن لائن کاروبار کرنے والوں کو آدھے گھنٹے کے کوئی پارٹی آتی ہے ان کو اغوا کرتی ہے ٹارچر کرتی ہے سارے بنک اکاونٹ خالی کرتی ہے ان کو پھینک کر چلی جاتی ہے، میر رضا کوئی غیر قانونی کام نہیں کر رہا تھا، جبران ناصر ایڈووکیٹ کا خطاب
Mandi Bahauddin: Relatives of a one-year-old girl staged a protest after she was allegedly sexually assaulted within the jurisdiction of Civil Lines Police Station. The family blocked Hospital Road, demanding an immediate, transparent, and impartial investigation into the alleged incident.
politically connected thug tried to kill your sister with dumbbell
same police, who facilitated CCTV proof destruction (big crime) drag you away like terrorist for merely forming defence layer
even Sindhis like me are called racist for opposing this unliveable, hellish system
just passed by chaar minaar and there were people still protesting about Mir Raza and this made me realise how fucked up the judicial system of Pakistan is, common people can never get justice, however kudos to his parents and supporters who r fighting w this messed up system