ہم دیکھیں گے
جب ارضِ خدا کے کعبے سے
سب بت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہلِ صفا، مردودِ حرم
مسند پہ بٹھائے جائیں گے
سب تاج اچھالے جائیں گے
سب تخت گرائے جائیں گے
ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوحِ ازل پہ لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہِ گراں
روئی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے
جب دھرتی دھڑ دھڑ ڈھڑکے گی
اور اہلِ حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
ہم دیکھیں گے
میرا سب بڑوں سے سوال ہے؟
کیا ہمارے ملک میں اسی طرح سے نا انصافی۔ چوری ۔کرپشن ۔پیسے دے کے کام کروانے والا سسٹم ۔ہر کام میں اپنا کمیشن ۔
یہ والا سسٹم کب تک چلتا رہے گا ۔؟