سی پیک کے جب پیسے آ رہے تھے تب اِن کی بد دیانتی دیکھیں، کہ انہوں نے سی پیک کے پیسوں سے لاہور میں اورینج لائن ٹرین بنا دی، وہ پیسے اورینج لائن ٹرین کے لیے نہیں تھے، شبر زیدی
جب عمران خان وزیراعظم تھے یہ لفافہ صحافی گریبان پکڑنے کی بات کرتے تھے ۔۔۔۔ آج عوام خودکشیوں ہے مجبور ہے سڑکوں پے ذلیل ہو رہی ہے ۔۔۔۔
کہاں ہیں یہ صحافی ؟؟؟
مولانا فضل الرحمان نے تو شہدا کی تکریم کا خیال نہیں کیا
لیکن جب جرنیلوں نے کارگل سے اپنے ہی فوجیوں کی لاشیں لینے سے انکار کر دیا تو بھارتیوں نے ان کے جنازے پڑھا کر انہیں پہاڑوں میں ہی دفنا دیا کیا یہ شہدا کی عزت تھی ؟
🚨یقین کریں دل خوش کر دیا
جب میں شوکت خا نم کے جیسا ہسپتال بنا کر کھڑا کروں گا اس دن میں خود عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھوں گا اگر میں انکی حثیت کے %0 بھی برابر آیا
ٹکے ٹکے کے لوگ جو عمران خان کی جوتی کے دھول برابر نھی💯👍✌️
سپریم کورٹ آف پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 175، جو انتظامیہ کو عدالتی اختیارات استعمال کرنے سے روکتا ہے، کو نظر انداز کرتے ہوئے شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو قانونی قرار دیا۔ حاضر سروس فوجی افسران کو جج کے طور پر عدالتی اختیارات استعمال کرنے کی اجازت دے کر بنیادی حقوق کی پامالی کی راہ ہموار کی۔ آج تک نہ چارج شیٹس اور نہ ہی فوجی عدالتوں کے فیصلے منظر عام پر لائے گئے ہیں، حتیٰ کہ سزا یافتہ افراد کو بھی اپنے فیصلوں کی نقول فراہم نہیں کی گئیں۔ سزاؤں کا طریقہ کار بھی سنگین سوالات پیدا کرتا ہے؛ حسن نیازی کو 10 سال قید کی سزا دی گئی جبکہ دیگر افراد کو صرف دو سال کی سزا سنائی گئی، جو Objective Sentencing Guidelines کی عدم موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ رازداری اور سزاؤں میں نمایاں تفاوت فوجی عدالتی کارروائی کی قانونی حیثیت پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔
بیرسٹر ابوزر سلمان خان نیازی
@SalmanKNiazi1
"کیسے درندوں کو اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان پر مسلط کیا ہے چوروں کا یہ ٹولہ خواتین کو کھلونوں کی طرح استعمال کرتا ہے اس واقعے سے پاکستان کی کتنی بدنامی ہوئی آپ سوچ نہیں سکتے، یہ آرمی اسٹیبلشمنٹ جو ہمیشہ اس کرپٹ ٹولے کی کرپشن کی داستانیں سناتی تھی واپس انہیں ہی پاکستان سونپ دیا گیا ہے" @QasimKhanSuri
Today it’s 164 days of illegal incarceration thru sham trial & illegal conviction order for @ImaanZHazir & @AdvHadiali. Only the children of the privileged @CMShehbaz & judge Asif get speedy justice. For my children no justice at all so far.
ایف آئی اے (FIA) کےموجود ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عثمان نے کہا کہ سپریم کورٹ سے اپنی اپیلیں واپس لو ورنہ تمہیں 9 مئی کے کیس میں سزا ہو جائے گی ۔۔تو پھر یہی ہوا ۔ ٹرائل چلا اور مجھے سزا ہو گئی۔۔
..افضال عظیم پاہٹ
"معرکۂ حق ہوا؛ پاکستان نے دنیا میں امن کے لیے کردار ادا کیا، دوسری طرف حکومت نے پاکستانی عوام کے لیے معرکۂ ظلم شروع کر دیا۔" محمد علی درانی
@MAliDurrani
ویڈیو دیکھنے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
پنجاب میں جو قانون لانے کی کوشش ہو رہی ہے اس قانون کا مقصد عادی مجرموں کو کنٹرول کرنا نہیں بلکہ عادی مجرموں کے نام پر اپنے سیاسی مخالفین کو کسی نہ کسی طرح گیرے میں رکھنا ہے۔ ایسے قوانین بناتے ہوئے آپ بھول جاتے ہیں کہ وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا۔ میں بہت شکر گزار ہوں کہ اسپیکر صاحب نے اس بل پر تلملاہٹ کا اظہار کیا اور صوبائی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس بل پر دوبارہ غور کیا جائے اور بل پاس نہ کریں، نصرت جاوید
نہ وکیل۔ نہ کتابیں۔ نہ فون کالز۔ نہ اہلِ خانہ سے ملاقات۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اب سات ماہ سے قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ جیل انتظامیہ اور وہ کرنل جو عاصم منیر کی ہدایات پر عمل کر رہا ہے، جو کچھ کر رہے ہیں وہ ایک مجرمانہ فعل ہے۔
#خان_کی_قید_تنہائی_جرم_ہے
آج وکلا سرفراز ڈوگر کی منتیں کر رہے تھے، یہ کیوں اس جج کی منتیں کر رہے رہے تھے کہ بس ایک ملاقات عمران خان سے کروا دیں۔۔۔ ہم ملاقات کے لیے اس جج کی منتیں نہیں کریں گے، ہم عمران خان کے لیے جدوجہد کریں گے، منتیں نہیں کریں گے، علیمہ خان
اگر آپ کو شوق ہے، بھیج دو ہمیں جیل۔ ویسے بھی آپ نے کوٹ لکھپت جیل کے 70 سالہ اسیران کو 280 سال سزائیں سنائیں۔ ہوا کیا ہے؟ خدا کو مانو۔ جو لوگ اسمبلیاں بیچتے ہیں، وہ پاکستان کے ہیروز ہیں، اور جو جمہوری پاکستان چاہتے ہیں، آپ اُن کے خلاف ہیں۔ محمود خان اچکزئی
#pakistan@MKAchakzaiPKMAP
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
پنجاب میں جو قانون لانے کی کوشش کر رہے ہیں اس کا اسپیکر صاحب کو معلوم ہی نہیں تھا۔ یہ وہ اسپیکر ہیں جن کے والد صاحب سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین رہے ہیں، انہوں نے اپنے فرزند کو لندن کے مہنگے ترین کالج سے لاء کی تعلیم دلوائی۔ اسپیکر صاحب نے جب اس قانون کے بارے میں حکومت سے پوچھا تو حکومت نے بتایا کہ یہ بل پیش ہو چکا ہے تو اس پر اسپیکر صاحب نے برہمی کا اظہار کیا۔ اسپیکر صاحب نے حکومت کو کہا کہ کیا قانون پاس کروانے کے لیے اسپیکر کے سائن لینے کی ضرورت نہیں ہوتی اور کیا اسپیکر کو آن بورڈ لینا نہیں ہوتا؟ یہ معاملہ اس اسمبلی میں ہو رہا ہے جو بر صغیر کی قدیم اسمبلیوں میں سے ایک ہے، اس اسمبلی کا اسپیکر کہہ رہا ہے کہ مجھے نئے قانون کے بارے میں معلوم ہی نہیں ہے۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار نصرت جاوید کی گفتگو