🇵🇰🇺🇸 The cable that toppled a government is finally public.
On March 7, 2022, Pakistan's ambassador in Washington sat down with U.S. assistant secretary of state Donald Lu. The message was short and clear, remove Imran Khan through a no-confidence vote and Washington will look the other way. "All will be forgiven," the ambassador later recalled. Thirty three days later, Khan was gone.
But this didn't start with that meeting. In June 2021, CIA Director William Burns personally flew to Islamabad to meet Khan. Waited a full day. Khan never showed. Said he'd only speak to his counterpart, meaning Biden, who had been dodging Khan's calls since day one. Burns left with nothing. Weeks later Khan went on record with Axios and just said it out loud, "Absolutely not. There is no way we are going to allow any bases, any sort of action from Pakistani territory into Afghanistan." No diplomatic cushioning, no ambiguity.
Washington had its answer. Pakistan's military had seen enough of their own prime minister.
In July 2021, behind Khan's back, the military quietly put a former CIA Islamabad station chief on retainer as a lobbyist in Washington. The generals were already cutting their own deal.
Then came the moment that sealed it. On February 24, 2022, the exact day Russian tanks rolled into Ukraine, Khan was in Moscow shaking hands with Putin on a long scheduled visit. Biden's national security advisor Sullivan had personally called Islamabad days before urging them to cancel. Khan didn't budge. Pakistan then abstained on the UN vote condemning the invasion. Washington was done.
Weeks later came the Lu meeting. The cable. And then Khan was out.
What followed was a gut punch. Artillery shells started flowing to Ukraine secretly through U.S. defense contractors. American support for Pakistan's IMF lifeline was explicitly tied to keeping that weapons pipeline running. Pakistan got its $3 billion bailout in July 2023. In February 2024 the military brazenly rigged the elections and the U.S. and EU sat on their hands and said nothing.
And Khan? Buried under a never ending conveyor belt of charges, corruption, contempt, national security, one case collapsing only for another to appear. He has been behind bars for nearly 3 years now. His wife still in prison. His party outlawed, stripped of its electoral symbol, barred from even fielding candidates under its own name.
The cypher was always real. They called it fake, jailed the man who leaked it, and hoped everyone would move on. They didn't.
Source: Drop Site News
🚨BREAKING: For the first time, the original Pakistani cypher — cable I-0678, the document that triggered the removal of former Pakistani Prime Minister Imran Khan — is being released in full by Drop Site.
حب الوطنی کا چورن بیچنے والے آج ہمیں ملک دشمن کہتے نہیں تھکتے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس ملک کی سب سے بڑی معاشی طاقت کوئی نجی سویلین کمپنی نہیں، بلکہ یہ فوج خود ہے؟ یہ کوئی دفاعی ادارہ نہیں بلکہ ایک ایسی وسیع و عریض اور پوشیدہ کارپوریٹ ایمپائر بن چکی ہے جس کی مالیت کا موجودہ اندازہ 100 ارب ڈالر سے بھی اوپر لگایا جا رہا ہے۔ آئیے اس کارپوریٹ مافیا کی تاریخ اور خدوخال کا ذرا پوسٹ مارٹم کریں۔
فوجی فاؤنڈیشن کے سفر کا آغاز 1954 میں دوسری جنگ عظیم کے سابق فوجیوں کے فنڈز (محض 1.8 کروڑ روپے) سے، ریٹائرڈ فوجیوں اور بیواؤں کی فلاح و بہبود کے جھوٹے نام پر کیا ��یا۔ لیکن حقیقت کیا ہے؟ غریب سابق فوجیوں میں یہ پیسہ تقسیم کرنے کے بجائے براہِ راست ایک ٹیکسٹائل مل کی تعمیر میں جھونک دیا گیا۔ آج ��ہ نام نہاد فلاحی ٹرسٹ ٹیکس کی غیر معمولی چھوٹ اور حکومتی مراعات کے بل بوتے پر سیمنٹ، کھاد، بینکنگ، اور شہری ریئل اسٹیٹ کے منافع بخش شعبوں پر ایک مافیا کی طرح قابض ہے۔ آج یہ فاؤنڈیشن فوجی فرٹیلائزر (FFC)، عسکری بینک اور فوجی میٹ جیسے درجنوں انڈسٹریل یونٹس چلا رہی ہے۔
ذرا ان کی اجارہ داری کا لیول دیکھیں۔ ای پی بی ڈی کے ویلتھ پرسیپشن انڈیکس 2025 کے مطابق، اکیلی فوجی فاؤنڈیشن 5.9 بلین ڈالر کی مالیت کے ساتھ پاکستان کا سب سے بڑا بزنس گروپ بن چکی ہے۔ اس کے مقابلے میں ملک کے بڑے سویلین گروپس، جیسے بیسٹ وے (4.5 بلین ڈالر) اور لکی گروپ (2.5 بلین ڈالر) ان کے سامنے بونے لگتے ہیں۔ دوسری طرف آرمی ویلفیئر ٹرسٹ (AWT) کے اثاثے بھی 40 ارب روپے (تقریباً 140 ملین ڈالر) سے تجاوز کر چکے ہیں۔ سن 1971 میں محض سات لاکھ روپے اور ایک سٹڈ فارم سے شروع ہونے والا ادارہ آج "عسکری برانڈ" بن چکا ہے۔ 1996 اس کے لیے ایک اہم سال تھا جب اس نے امریکی ملٹی نیشنل کمپنی ExxonMobil کے ساتھ منافع بخش جوائنٹ وینچر کیا۔ آج یہ ایوی ایشن سے لے کر ریئل اسٹیٹ اور انشورنس تک ہر جگہ موجود ہیں۔
یہ لوٹ مار صرف آرمی تک محدود نہیں، بحریہ اور فضائیہ نے بھی اس بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے ہیں۔ ایئر فورس کی شاہین فاؤنڈیشن نے ایوی ایشن میں قدم رکھا، لیکن بیوروکریسی اور فوجی افسران کو 50٪ رعایتی کرائے دینے کی پالیسی کے باعث اسے سال 2000 میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا، جس کا بوجھ عوام نے سہا۔ دوسری طرف بحریہ فاؤنڈیشن ایک 'ریوالونگ ڈور' بنی ہوئی ہے، جہاں ریٹائرڈ نیول ایڈمرلز بغ��ر کسی مقابلے کے جہاز رانی، لاجسٹکس اور نیول اینکریج جیسے پراجیکٹس میں اربوں کماتے ہیں۔
ان کی زمینوں کی ہوس ملاحظہ کریں۔ سن 1912 کے برطانوی کالونیئل ایکٹ کے تح�� فوج آج بھی ملک کی 10 فیصد زمین لے سکتی ہے۔ آج 11.58 ملین ایکڑ سرکاری زمین اس فوج کے کنٹرول میں ہے، جو کہ ملکی جی ڈی پی کا سیدھا سیدھا 4 فیصد بنتا ہے! سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو لاہور کے قریب 90 ایکڑ پرائم زرعی زمین کا تحفہ ملنا اسی لوٹ مار کے سلسلے کی ایک واضح کڑی ہے۔
شہروں میں ان کی بدمعاشی کا نام 'ڈی ایچ اے' ہے۔ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894 کا سہارا لے کر 'عوامی مفاد' کے نام پر زبردستی زمینیں ایکوائر کی جاتی ہیں۔ یہ براہِ راست کسانوں سے منصفانہ قیمت پر زمین نہیں لیتے، بلکہ مڈل مین (ڈیلرز) استعمال کرتے ہیں، جو غریبوں سے کوڑیوں کے بھاؤ زمین لے کر ڈی ایچ اے کو دیتے ہیں اور بدلے میں 33 فیصد تک ترقی یافتہ مہنگے پلاٹ پاتے ہیں۔ ڈی ایچ اے روایتی پراپرٹی رجسٹری کے بجائے محض ایک 'فائل سسٹم' پر چلتا ہے۔ اس گھناؤنے کھیل کی وجہ سے خریدو فروخت پر نہ کیپٹل گینز ٹیکس دیا جاتا ہے اور نہ مقامی اسٹامپ ڈیوٹی۔ ریاست کو اربوں کا چونا لگتا ہے اور ایک ایسا طاقتور ڈیلر مافیا جنم لیتا ہے جو مصنوعی طور پر قیمتیں بڑھاتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ کسی بھی سویلین اور ڈی ایچ اے کے درمیان قانونی تنازعے کا فیصلہ خود ڈی ایچ اے کا ایڈمنسٹریٹر کرتا ہے۔ مدعی بھی خود، منصف بھی خود! سپریم کورٹ نے کئی بار ان غیر شفاف طریقوں، خاص طور پر مڈل مین کے پلاٹوں اور ایویکیو ٹرسٹ کے معاہدوں کی خلاف ورزیوں پر سخت نوٹس لیا ہے، لیکن مجال ہے جو ڈی ایچ اے کے کان پر جوں تک رینگی ہو۔ وہ آج بھی اپنا کام اسی طرز پر جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ کیسا اندھیر نگری چوپٹ راج ہے جہاں پاکستان م��ں فوجی کمپنیوں کو کھلی قانونی چھوٹ حاصل ہے؟ فنانس بل 26-2025 کے تحت فوجی فاؤنڈیشن اور آرمی ویلفیئر ٹرسٹ کو عام کارپوریٹ ٹیکس سے مکمل استثنیٰ دیا گیا ہے۔ سویلین کمپنیوں کا خون چوسنے کے لیے ایف بی آر نوٹس پر نوٹس بھیجتا ہے، جبکہ فوجی کمپنیاں اپنے طاقتور اثر و رسوخ اور وردی کی دھونس پر بآسانی بچ نکلتی ہیں۔
باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اس فوج نے پاکستان کے انفراسٹرکچر پر قبضہ قائم کیا اور اس بے پناہ استثنیٰ نے اسے ایک مافیا کی صورت میں بدل دیا ہے۔ نیشنل لاجسٹک سیل (NLC) اور FWO نے 1978 سے ریلوے کی مال برداری اور ہائی ویز کے ٹول کلیکشن پر قبضہ کر رکھا ہے، جس سے پرائیویٹ لاجسٹکس کمپنیاں تباہ ہو گئیں۔ یہ ادارے سویلین آڈٹ سے مکمل بالاتر ہیں۔ اس کی بدترین مثال کراچی کا شیر شاہ پل گرنا تھا، جس میں ہلاکتوں کے باوجود کوئی آزادانہ احتساب نہیں ہوا، کیونکہ وردی والوں سے کون پوچھے؟
اس فوج نے پاکستان کی معیشت میں ایک ایسا گلا گھونٹنے والا نظام قائم کر دیا ہے جہاں سویلین نجی کمپنیاں پیداواری صنعتوں میں پیسہ لگانے کے بجائے یا تو فوج کے ذیلی ٹھیکیدار بننے پر مجبور ہیں، یا پھر اپنا سرمایہ غیر پیداواری ریئل اسٹیٹ میں پھینکنے پر مجبور ہیں۔
مت بھولیں کہ یہ تخمینہ بھی کم لگایا گیا ہے کیونکہ فوج نے کبھی کسی ��ویلین کمپنی کو آڈٹ کرنے کی اجازت ہی نہیں دی۔ پاکستان کے نظام پر انکا قبضہ اس سے بھی زیادہ بھیانک ہے۔ جب تک اس کارپوریٹ سلطنت اور ریاست کے اندر ریاست کو یہ غیر منصفانہ قانونی اور ٹیکس استثنیٰ حاصل رہے گا، پاکستان میں ایک مستحکم اور مسابقتی معیشت کا قیام عملی طور پر ناممکن ہے۔ اور یاد رکھیں، جو فوج بارڈر کی حفاظت چھوڑ کر پراپرٹی ڈیلنگ اور کھاد بیچنے لگ جائے، وہ ملک نہیں صرف اپنی تجوریاں بچاتی ہے۔
بڑی خبر 🚨 ایران کا مذاکرات سے انکار!
ایران کے اسپیکر پارلیمنٹ (باقر قالیباف) نے صاف اعلان کر دیا ہے کہ اب جنگ بندی یا کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔
🛑کیوں کہ جس بنیاد پر بات چیت ہونی تھی، اسے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی توڑ دیا گیا ہے۔ ایسی صورتحال میں دشمن سے بات کرنا یا جنگ روکنا عقل مندی نہیں!!