اب کسی مبلغ اور کسی جماعت یا تنظیم کو شیعوں کا کفر ثابت کرنیکیلیے کتابوں ، کیسٹوں کی ضرورت باقی نہیں رہی، الحمدللہ گٹر کا گند اب خود اُبل اُبل کر باہر بہنا شروع ہوچکا ھے اور عام مسلمان جو بھائی بھائی کے فریبی نعرے کے بہکاوے تھے اب ان کافروں کو اچھے سے جان چکے ہیں ۔
ان صاحب کا نام علی اصغر ہے اور والد کا نام محمد ابراہیم ہے
علی اصغر صاحب کراچی کے علاقے ناظم آباد گول مارکیٹ کے رہائشی ہیں۔
علی اصغر صاحب کچھ عرصے سے ذہنی تناؤ کا شکار تھے،،انکا بیٹا انہیں ماہر نفسیات کے پاس علاج کے لئے بھی لیجاتا رہا ہے۔
گھر میں کسی قسم کی پریشانی نہیں تھی۔خود اپنا کام کاج بھی کرتے تھے جب بیمار ہوئے تو بچے بہت اچھی طرح سنبھال رہے تھے۔
دو جولائی 2026 کو اصغر صاحب گھر سے نکلے، چھوٹے بیٹے اور اہلیہ نے پیچھا کرکے ڈھونڈنے کی بھی کوشش کی لیکن کس رخ پر نکلے پتہ نہیں چلا
کراچی کے تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ انکی تلاش میں مدد کریں۔کسی ہنستے مسکراتے گھرانے پر اچانک اس طرح کی مشکل آئے تو سارا گھر ویران ہوجاتا ہے۔
برائے مہربانی زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
03162529829
7 july 2026
#waliullahmaroof
ملتان۔یہ خاتون بول نہیں سکتی نہ سن سکتی ہیں۔لاوارث ملی ہیں ان کے لواحقین کی تلاش ہے۔اگر کوئی جانتا ہو تو اس نمبر پر رابطہ کرے۔
Asghar hussain Asi ps newmultan 03027491435
@Imran_Nawaz_@KismatZimri
وقت آگیا ہے کہ اب پاکستان بھر میں موجود شیلٹر ہاؤسز کا سخت آڈٹ کیا جائے۔
یہاں آنے والے بچوں کا رکارڈ، ان کی خوراک، رہائش اور ان اداروں کے کام کرنے کے طریقہ کار کے بارے خصوصی تحقیق کی ضرورت ہے۔ خصوصا اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ یہاں بچے کیسے لائے جاتے ہیں؟ بچے آنے کے بعد ان کے ورثاء کی تلاش کیسے کی جاتی ہے؟ اور سب سے بڑا سوال یہ کہ ان کو کتنی امداد ملتی ہے اور کتنی بچوں پر خرچ ہوتی ہے؟
یہ سوال اس لیئے اٹھ رہے ہیں کہ ملک پاکستان کا ایک عام سا مذہبی انسان "ولی اللہ معروف" دہائیوں سے بچھڑے ہوئے لوگوں کو اپنے پیاروں سے ملوا رہا ہے، وہ بھی محدود وسائل اور انتہائی کم وقت میں۔۔۔ یہاں تک کہ کئی کیسز تو سوشل میڈیا پر پوسٹ لگانے کے چند گھنٹوں میں ہی حل ہو جاتے ہیں۔
جبکہ شیلٹر ہاؤسز کے پاس باقاعدہ ایک نظام ہوتا ہے جن کے تحت کئی افراد مل کر کام کرتے ہیں، جو یہ کام زیادہ آسانی سے کر سکتے تھے لیکن ان کی کارکردگی نظر نہیں آتی۔۔
ایک بڑا اعتراض یہ ہوتا ہے کہ شیلٹر ہاؤس میں بچوں کے نام تک بدلے گئے ہیں۔ کچھ ماؤں کو بچوں سے کئی سال تک الگ رکھا گیا اور بڑے ہونے پر بچوں نے خود کوشش کر کے اپنے خاندان کو تلاش کیا۔ جس سے معاملہ کسی حد تک ناقابل اعتبار ہو جاتا ہے۔
دوسرا معاملہ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ بچہ اگر پنجاب کے کسی شہر سے ملا ہے تو اسے کراچی بھیجنے کی کیا ضرورت ہے؟ اسے پنجاب میں رکھ کر ہی اس کے خاندان کی تلاش کیوں نہیں کی گئی؟
ارباب اقتدار سے گزارش ہے کہ ان شیلٹر ہاؤسز کا سختی سے جائزہ لے ، کیونکہ ممکن ہے کہ سینکڑوں بچے ابھی بھی اسی سابقہ سستی یا مجرمانہ غفلت کا شکار ہو رہے ہوں۔۔
سلامتی ❤️
شاہد
منقول
سُنی مولوی سپریم کورٹ کے جج کی توہین کردے تو 33 سال قید۔۔شیعہ ذاکرین اللہ پاک کی توہین کریں اور کھلے عام کریں تو بھی انکے لئے سبیلیں۔
ہم اگر نشاندہی کریں تو یزیدی۔۔۔حاکموں تم سے اللہ کی گستاخی برداشت ہوجاتی ہے اپنی نہیں۔۔😔😔
اس نوجوان کو اپنوں سے ملانے میں مدد کریں۔۔۔!!
چند روز قبل اس بھائی سے رابطہ ہوا۔ انکو اپنے گھر والوں کی تلاش تھی۔
ہم نے ام سے تفصیلات مانگیں تو کچھ اس طرح سے بتانے لگا:
ہمارا گاوں میری دھندلی یادوں کے مطابق بٹگرام میں تھا،زلزلے کے بعد ہم گاوں سے کراچی منتقل ہوگئے تھے۔ہماری مادری زبان پشتو تھی۔
ہم کراچی کے علاقے اتحاد ٹاؤن میں رہتے تھے،گھر کے قریب الیاس کوچ کا اڈہ تھا۔
میں ایک روز گھر سے کچھ سامان خریدنے کے لئے نکل گیا تھا یاد نہیں کس طرف چلا گیا راستہ بھول گیا۔ کئی روز تک سڑکوں پر رہا پھر کسی نے مجھے لاوارث پاکر پولیس اسٹیشن کو دیا اور وہاں سے پھر مجھے ایک شیلٹر میں جمع کرایا۔
شیلٹر کی جانب سے بہت کوشش کی گئی لیکن میرے گھر والے نہیں ملے ۔ ٹی وی پروگرامز میں بھی گیا لیکن گھر کا پتہ نہیں چلا۔
میرا نام یہاں انور رکھا گیا تھا لیکن اصل نام گھر میں مراد اللہ تھا۔ مجھے میرے والد کا نام رب خان یاد ہے ،ایک بھائی کا نام ہدایت اللہ یاد ہے۔اور بھائی بھی تھے انکے نام مجھے یاد نہیں ہیں۔
میں جب بڑا ہوا اپنے دوستوں کے ساتھ کراچی اتحاد ٹاون اور آس پاس کے تمام محلوں میں اپنا گھر ڈھونڈنے گیا مسجدوں میں اعلان کروائے لیکن میرے گھر کا پتہ نا چل سکا۔
مجھے میرے خاندان سے ملوائیں میں مزید لاوارثی کی زندگی گزار نہیں سکتا۔ میرا بھی دل چاہتا ہے بہن بھائی اور والدین کے ساتھ رہوں۔
آپ دنیا کے کسی بھی کونے سے ہماری یہ پوسٹ دیکھ رہے ہیں اگر سینے میں دل ڈھڑکتا ہے تو انسانیت کی خاطر ضرور اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔
آپکا ایک شئیر کسی دکھی ماں کی خوشیاں برسوں بعد لوٹا سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829
25 june 2026
#waliullahmaroof
جواد نقوی نے اپنے تازہ پروگرام میں ایک مرتبہ پھر اپنا معتدل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے زہر اگلتے ہوئے کہتا ہے ہم امیر معاویہ کو تکریم کے قابل نہیں سمجھتے یہ سب سے معتدل بنا پھرتا ہے باقیوں کے حالات کیا ہوں گے کہاں پیغام پاکستان کے اصول و ضوابط؟ کیا اس دستاویز میں یہ اصول و ضوابط طے نہیں چکے کہ آپ کسی کے مقدسات کے بارے میں توہین اور نفرت انگیز جملے نہیں بولیں گے؟ یا تو شیعہ اعلانیہ طور پر اس معاھدے سے دستبردار ہونے کا اعلان کریں
اعلانیہ مقدسات اہل سنت کی تکریم کا انکار؟؟ کہاں سرکاری درباری چاپلوس گ س تا خوں کے سہولت کار جعلی ملا؟؟ہمارے نزدیک جو کسی صحابی کی تکریم کا منکر ہے وہ عزت و احترام کا ہر حق خود کھو دیتا ہے
کوئیٹہ
ایک ضروری پیغام!
یہ 10 سالہ بچی جس کا نام زویا بی بی ولد محمد انور ابڑو ہے۔
کوئٹہ مشرقی بائ پاس پرکانی گلی کے رہائشی ہے جو آج صبح 11 بجے گھر سے نکلی ہے اور اب تک گھر واپس نہیں آئی۔
برائے مہربانی جس بھائی کو اس بچی کے حوالے سے معلومات ہے تو ہمارے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
03158382862
ایک صاحب نے رابطہ کرکے اس اللہ والے کا کیس دیا ہے۔
آج جمعے کا بابرکت دن ہے شئیر کریں اور اس کی خوب دعائیں سمیٹیں۔
انکا کہنا ہے کہ:
""السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ولی اللہ بھائی خیریت سے ھیں اللہ تعالیٰ آپکوسلامت رکھے۔آپ
میرا تعلق پنجاب کے ضلع نارووال کی تحصیل شکرگڑھ سےھے۔
یہاں سے آپ سے متعلقہ ایک کیس آپ کا منتظر ھے۔
تفصیلات درج ذیل ھیں۔
ایک لڑکا جو ھمارے یہاں کسی کے پاس عرصہ 18 سال سے ھے۔
یہ ذہنی طور پر ذرا کمزور ہے۔ہم نے اس سے تفصیلات معلوم کیں تو انہوں نے
اپنا نام۔۔ امجد
والد کانام۔۔ ارشد
والدہ کانام۔۔حمیداں
ایک بہن ھے جس کانام علم نہیں
بکر منڈی لاھور سے تعلق بتاتا ہے۔
والد کرین ڈرائیوری کام کرتاتھا۔
سائیں ٹائپ بندہ ھے۔۔'
یہ کیس اتنا مشکل تو نہیں ہے لیکن شاید اللہ نے ہمارے ذریعے اپنوں سے ملانا تھا۔
جو علاقہ بتایا ہے وہاں کے تمام دوست اپنے ہاں خوب شئیر کریں تاکہ ایک ماں کو اپنا بچھڑا ہوا لخت جگر جلد از جلد مل جائے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
03162529829
12 june 2026
#waliullahmaroof
خدا کا واسطہ ہے میدانی اور پہاڑی علاقوں میں خوبصورتی کے نام پر سڑکوں کے بیچ میں پام کے درخت لگانا بند کریں۔
یہ درخت اس مٹی کے لئے ہیں نہ اس موسم کے لئے۔۔۔ سکھ چین ، نیم، جامن، توت، آم، کھجی، شیشم، برگد وغیرہ اس ماحول دشمن اور بھدے درخت سے کئی گناہ فائدہ مند اور خوبصورت درخت ہیں۔
سرےعام اصحاب رسولﷺکی گستاخی پھر ہمیں کہتےہوکہ شیعہ کوکچھ نہ کہو ان حرامیوں کیلئےکافرکا لفظ بھی کم ہےانتظامیہ اس حرامی کوگرفتارکرکےسخت سےسخت سزادے سیوھن کی انتظامیہ ہوش کےناخن لےاوراس خنزیرکوجلدازجلدگرفتارکرکےمسلمانوں کےساتھ انصاف کرےکون بغیرت ہےجو کہتاہے سارےشیعہ ایک طرح کےنہیں۔