مفتی طارق مسعود آسٹریلیا کے ایک چرچ میں پادری سے ملنے کے لیے گیا تو وہاں ایک انگریز خاتون نے مفتی طارق مسعود کا تعارف یہ کہہ کر کروایا۔
یہ مذہبی اسکالر، عظیم کرکٹر اور وزیراعظم عمران خان کے ملک سے آیا ہے ♥️
تیرہ کے اکاخیلوں کے شڈلو گاؤں میں گزشتہ رات پاکستانی جیٹ طیاروں کی بمباری میں پانچ گھروں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں عورتوں اور بچوں سمیت 23 افراد جاں بحق ہوگئے۔ اس کے خلاف خیبر چوک میں احتجاج جاری ہے۔
پشتون بیلٹ پر پشتون قوم کا نسل کشی جاری ہے
#StopPashtunGenocide
میں نے بھارتی حکومت اور عوام کو مشورہ دیا تھا کہ گوامی شوامی اور میجر گر آچاریہ وغیرہ کی باتوں میں آ کر پاکستان سے پنگا نہ لے لینا۔
لیکن بھارت نے میرا مخلصانہ مشورہ نہیں مانا تو اب بھگتو۔
نظر کرم کی بات ہے ♥️
کراچی سے مدینہ تک
دروازے پر زور زور سے دستک ہوئی، بوڑھے شخص نے دروازہ کھولا تو ہمسائے اور اہل محلہ سارے اکٹھے تھے، تیور تو غصے والے تھے جنہیں دیکھ کر گھر سے برآمد ہونے والے بزرگ تھورا سا پریشان ہوئے، اور پوچھا کیا بات ہے سب خیریت ہے نا؟
خیریت کہاں ہے بھائی تمھارا لڑکا آئے روز ہمارے گھر کی دیواروں پر کوئلے سے پتا نہیں کیا نقش و نگار بناتا رہتا ہے، ساری دیواریں اس نے کالی کررکھی ہیں، تم اپنے لاڈلے کو منع کیوں نہیں کرتے؟
اسے سمجھاؤ ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔"
بڑے میاں نے وقتی طور پر اہل محلہ کو سمجھا بجھا کر بھیج تو دیا، لیکن وہ اس شکایت سے قدرے نالاں بھی تھے، بیٹے کو سمجھایا " یار باز آجا کیوں تو لوگوں کو تنگ کرتا ہے، اپنی پڑھائی پر دھیان دے اور آئندہ شکایت کا موقع نہ دینا"
بیٹے نے سر جھکا کر سن تو لیا، لیکن وہ باز رہنے والا کہاں تھا۔ یہ آڑھی ترچھی لکیریں تو اس کا شوق تھا اور شوق سے لاتعلقی کون اختیار کرسکتا ہے۔
پھر اس لڑکے نے باپ کا مان رکھتے ہوئے دیواروں کو کالا کرنا ترک تو کردیا لیکن دیواروں کے علاوہ جو بھی خالی جگہ ملتی وہاں وہ چاک یا کوئلے سے کچھ نہ کچھ بناتا رہتا، یوں یہ شوق پروان چڑھتا رہا، اسکول میں اساتذہ کی غیر موجودگی میں تختہ سیاہ پر چاک کی مدد سے وہ اپنے شوق کی تکمیل کرتا رہتا، کبھی ڈانٹ اور کبھی حوصلہ افزائی دونوں برابر ملتے رہے.
وقت گزرتا رہا، اسکول میں منعقدہ خطاطی اور خوش نویسی کے مقابلوں میں حصہ لینا شروع کردیا، جو بھی لکھا ہوا، یا بنا ہوا نمونہ دیکھتا اسے ہو بہو چاک کی مدد سے بنا لیتا تھا۔
خوش نویسی کے قواعد یا خطوں کی پہچان تو اسے بالکل بھی نہیں تھی لیکن جیسا بھی مشکل سے مشکل خط ہوتا وہ اسے کاغذ پر اتار لیتا، کوئی پوچھتا کہ یہ کون سا خط ہے یا کون سا اسٹائل ہے تو وہ بتا نہیں سکتا تھا کیونکہ اس کے پاس باقاعدہ تعلیم تو نہیں تھی نہ ہی پہچان تھی۔ کلاس میں سب سے پہلے آتا، چاک سے تختہ سیاہ پر اپنی مشق کرتا رہتا، باقی ہم جماعتوں اور اساتذہ کے آنے سے پہلے وہ ٹھیک ٹھاک مشق کرلیتا اور اگر کبھی کبھار کوئی استاد دیکھ لیتا تو حیران رہ جاتا کہ نو عمر اور نو آموز بچے کا اتنا عمدہ خوش خط۔ آہستہ آہستہ اس کی مشق میں پختگی تو آگئی لیکن باقاعدہ راہنمائی سے محروم ہی رہا، اسکول میں کوئی خطاطی کا استاد نہیں تھا اور آرٹ یا ڈرائنگ کا استاد اسے تھوڑا بہت سکھا تو دیتا تھا لیکن وہ لڑکا ان استادوں سے زیادہ بہتر لکھ لیتا تھا۔ چھوٹے چھوٹے مقابلے جیتتا رہا، محلے میں بھی بینر اور اشتہار لکھنے والے کی حیثیت سے پہچان بنوا لی۔ اسی دوران میٹرک کرلی اور آگے تعلیم جاری رکھنا مشکل ہوگیا تو اسکول جانا چھوڑ دیا۔
1/8
یہی سوال طیبہ راجہ سے بھی کیا گیا تھا لیکن جس طرح صنم جاوید نے اس سوال کو ہینڈل کیا سلام ہے آپ کو
اور سب سے درخواست ہے کہ جب آپ کو بولنے کا ڈھنگ اور پریشر میں کھیلنا نہیں آتا تو برائے مہربانی کرے گھر میں ہی رہیں
@sanamkh22
🚨 کمزور دل افراد نہ دیکھیں🚨
🩸 شام میں موجود کالعدم ذینبیون فاطمیون ملیشیا کا مسلمانوں کے ساتھ ناقابل دید ظلم۔
⚠️ یہ وہ انسانی درندہ گروہ ہیں
⚔️ جس سے شام کے مظلوم مسلمان اور شام کے مجاہدین لڑ رہے ہیں۔
پولیس بدلہ لے گی
پولیس فورس کے نوجوانوں میں ناقابل بیان غم و غصہ۔ ان کے ساتھیوں پر فوجیوں نے تھانے کے اندر بہیمانہ تشدد کیا۔
یاد رہے تھانے کے اندر سرکاری یونیفارم میں ملبوس پولیس آفیسرز پر حملہ دہشتگردی کے زمرے میں آتا ہے۔
پھر انہیں بدمعاش جاگیرداروں کی طرح نیم برہنہ کرکے لوگوں کے سامنے پیدل مارتے ہوئے ہسپتال لے کر گئے۔ ان کے کان پکڑوائے۔
دوسرے فوجی بدمعاش ہسپتال آئے اور پھر وہاں بھی زخمی پولیس آفیسرز کو مارا۔ ڈاکٹروں اور نرسوں کو بھی زدوکوب کیا۔
پنجاب پولیس کے جوانوں کے دلوں سے خاکی وردی کا احترام اور خوف ختم ہو چکا ہے۔
جن لوگوں نے یہ غنڈہ گردی کروائی ہے اگر انہيں عبرت کا نشان نہ بنایا گیا تو فوج کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔
پولیس ابھی سہم گئی ہے۔ لیکن بعد میں چن چن کر بدلے لے گی۔ اندھیرے میں ڈاکو بنا بنا کر مارے گی۔ یہ پولیس کی نفسیات ہے۔ وہ اپنا بدلہ ضرور لیتی ہے۔
فوجی افسران اور آئی جی پنجاب نے گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کی کوشش کی ہے۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔