تمام سخت دل لوگ حقیقت میں ناسمجھ ہوتے ہیں؛ انسان کا شعور جتنا وسیع ہوتا جاتا ہے، اُس کا دل اتنا ہی نرم ہوتا جاتا ہے۔
حقیقی شعور انسان کو متکبر اور سنگ دل نہیں بناتا، بلکہ اُس میں رحم، نرمی، برداشت اور دوسروں کے احساسات کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔
کسی کی زندگی میں ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اس کی کہانی میں بھی جگہ رکھتے ہیں ۔
زلیخا کی کہانی میں یوسف کے سوا کوئی نہیں تھا اور یوسف کی کہانی میں زلیخا کہیں نہیں تھی۔
خود سے ملنا،
سب سے مشکل سفر ہے۔
جو اندر سے خاموش ہے،
وہی سب سے گہرا ہے۔
انسان اپنی سوچ کا قیدی ہے،
آزادی سوچ بدلنے میں ہے۔
وقت گزر جاتا ہے،
سوال رہ جاتے ہیں۔
اے میری رونق حیات
ہر طرف کتنے لوگ ہیں
ہر طرف کتنی آوازیں ہیں
ہر سو کتنی باتیں ہیں
مگر میرے" دل و ذہن"میں صرف تم بستی ہو
تمہارا تصور ہی میرے بےچین دل کو سکون دیتا ہے۔
کسی کے لیے بےحد ہونا خوبصورت ہے، مگر کسی کے لیے محض ایک آپشن بن جانا اپنی ذات سے ناانصافی ہے۔
میرا ماننا ہے کہ انسان کو اپنی ذات کا اتنا احترام ضرور کرنا چاہیے کہ وہ کسی کی ترجیحات کی فہرست میں محض ایک آپشن بن کر نہ رہ جائے۔ محبت اپنی جگہ، مگر خودداری کی قیمت پر نہیں۔
پرانے وقتوں میں رشتوں میں محبت اور خلوص بنیادی ستون ہوا کرتے تھے، جبکہ آجکل کے مفاد پرستانہ (materialistic)
رشتوں کی بنیاد صرف پیسہ اور قیمتی تحائف "لینے اور دینے" (Give and Take) کے اصولوں پر ہوتی ہے_!