نادیہ کے ساتھ کئیے گئے اس سلوک پر معافی مانگی جانی چاہئیے۔ مذاق بنا دیا گیا ہے۔ کسی کی حرمت و عزت کا خیال نہیں ہے۔ کرنا کیا ہوتا ہے ؟ بس پریس کانفرنس میں شکل آنی چاہئیے۔!! خواتین واٹر کینن اور مار کھاتی تب یہ سب کدھر ہوتے ہیں؟
غیرت ہی نہیں ہے۔ بےشرم
کل جو سیاسی کمیٹی کی میٹنگ ہوئی میں آپ سب کو بتا دوں آپ سے زیادہ غصہ مجھے ہے لیکن ان بڑوں نے ہمارے ہاتھ باندھ دئیے ہیں۔
آپ کو ایک اور بات بتا دوں یہ ہاتھ کچے دھاگے سے بندھے ہیں اسکو توڑنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔
@SohailAfridiISF
بریکینگ نیوز 🚨
ڈاکٹر عاصم یوسف عمران خان کے زاتی ڈاکٹر نے, آنگلش میں بھی پیغام جاری کردیا!!
یہ انٹرنیشنل کمیونیٹی کے لیے ہے!!
اسکو پھیلائیں 🛑 یہ آپکی ڈیوٹی ہے!
My father, Imran Khan, has now spent over 900 days in a death cell with no family visits and no access to his personal doctors. Credible reports confirm he has been diagnosed with central retinal vein occlusion, a dangerous blockage that can lead to permanent vision loss if not treated through urgent medical intervention in a proper hospital.
Yet authorities continue to block his treatment and deny him the doctors he trusts. I am even denied the right to speak to him. This is not governance. This is authoritarian cruelty.
I call on every defender of human rights to act before it is too late. The world must see that in Pakistan today, democracy is hollow and basic human rights are being crushed.
مسئلہ یہ نہیں کہ بلوچستان کے اندر اس وقت حکومتی رٹ تقریبا ختم ہو چکی ہے ، مسئلہ یہ ہے کہ سرفراز بگٹی آئندہ بھی گورننس اور کارکردگی میں نمبر ون بتائے جائیں گے
دوسرے نمبر پر مریم اور تیسرے نمبر پر گل پلازہ والے مراد علی شاہ رہیں گے
سہیل آفریدی جو پورے صوبے میں بائی روڈ جا رہے ہیں ، جا سکتے ہیں، ��ہ سب سے بڑے نااہل ، ناقابل برداشت اور غیر مقبول رہیں گے
شریف خاندان واقعی ہی احسان فراموش ہے۔ عمران خان صاحب کی خصوصی ہدائیت پر میں دو سے تین بار کوٹ لکھپت جیل گیا۔ نواز شریف صاحب سے گھنٹوں ملاقاتیں ہوئیں۔ انہیں علاج کی ہر ممکن صہولت مہیا کی۔ انکے ڈاکٹر عدنان ان ملاقاتوں میں موجود تھے۔ ایک ملاقات میں جناب مجیب الرحمن شامی بھی میرے ساتھ تشریف لے کر گئے۔
میں ساتھ لاہور کے سنئیر ترین پروفیسر ڈاکٹرز کا پینل لے کر گیا۔ خان صاحب کی مجھے اور بزدار صاحب کو خصوصی ہدائیت تھی کہ سیاسی مخالفت ہے لیکن علاج اور بیماری حقوق پر کوئی زیادتی نہیں ہونی چاہیئے۔
لیکن آج عاصم منیر اور شریف خاندان مل کر خان صاحب کی ایمرجنسی میڈیکل صورتحال پر ظلم کر رہے ہیں۔
Imran Khan is in Allah’s protection. He is protected by the duas of millions who pray for him every day. Inshallah he will be fine. Do not get distracted by these diversion tactics by the government and their operatives. We must remain focused on implementing Imran Khan’s directions. Our family dont just want a meeting with Imran Khan, we are demanding his immediate RELEASE from illegal imprisonment and solitary confinement.
When the Chief Justice of the Islamabad High Court is deliberately obstructing Imran Khan’s access to justice and consequently, his freedom, we are left with no choice but to exercise our constitutional right to collective protest and apply sustained pressure to secure his release. On 8 February 2024, through their vote, Pakistanis collectively defeated tyranny and fascism. This was Pakistan’s silent revolution, a revolution carried out through the power of the ballot, not violence, but unity and resolve. On 8 February 2026, we must raise our voices through silence against the theft of our mandate on 8 February 2024. Stay at home. Close all shops, businesses, and transport. Build the pressure until justice is served. They cannot arrest us for staying at home!
وزیراعلی سہیل آفریدی نے تیرا آپریشن پر اپنا موقف رکھ دیا
میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ اس وقت تیراہ کا آپریشن اور لوگوں کا زبردستی انخلأ بند کمروں کا فیصلہ ہے جس کا مقصد دہشتگردی ختم کرنا نہیں سیاسی عزائم پورے کرنا ہے۔
تیراہ میرا گھر ہے۔ وہ لوگ میرے ہیں۔ میں اُن سے ہوں اور وہ مجھ سے ہیں۔ وہاں پر آج جو کچھ کروایا جا رہا ہے وہ صرف مجھے میرے موقف پر ڈٹ جانے کی وجہ سے میرے لوگوں کو مجھ سے منحرف کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔ ہماری حکومت اپنے لوگوں کے تمام مسائل حل کرنے میں انشاءاللہ کوئی کوتاہی نہیں کرے گی۔ یہ میں نے اپنی قوم سے وعدہ کیا ہے اور میں انشاءاللہ ثابت بھی کرونگا۔
ہم پر زبردستی مسلط کی گئی دہشتگردی، بند کمروں کے فیصلوں میں بدمعاشی سے جاری کردہ ملٹری آپریشن کے تحت لوگوں کا مجبورا ��نخلاء، ان تمام مظالم کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کے کاموں میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے زبردستی مداخلت کی جا رہی ہے۔ تمام پروسز کو آہستہ کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کی رجسٹریشن نادرا کر رہا ہے جوکہ وفاقی ادارہ ہے وہاں سے رجسٹریشن میں جان بوجھ کر لوگوں کو تنگ کیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی فورسز کے اہلکار چیکنگ اور آنکھ کا سکینر لگا کر لوگوں کو ویریفائی کرنے میں وقت ضائع کر کے لوگوں کو پریشان کر رہےہیں۔ گھنٹوں کا کام دنوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ لوگ تنگ ہو۔
مجھے بدنام کرنے کی کوشش کرنے والے” اپنے اچھے لوگوں”کو متاثرہ لوگوں میں گھسا کر اُن کو اکسا رہے ہیں۔ تیراہ کے لوکل ایم پی اے عبدالغنی آفریدی اور میرے بڑے بھائی جب وہاں پہنچے تو اپنے ٹاؤٹس سے اُن کی بے عزتی کروانے کی ناکام کوشش کی گئی۔ واپسی میں اُن کے لیے سڑک بند کر کے راستہ تبدیل کروانے پر اُن کی جان کو خطرے میں ڈالا گیا۔ “اچھے لوگوں”راستے میں گاڑیاں کھڑی کر کے جان بوجھ کر سڑک پر رش بنایا جا رہا ہے تاکہ عوام غصہ کرے اور منتخب نمائندوں کو بُرا بھلا کہے۔
دہشتگردی کی جنگ بند کمروں کے فیصلوں سے نہیں جیتی جا سکتی۔ نیت ٹھیک ہونی چاہیئے اور اعتماد کو بحال رکھنا چاہیئے۔ تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیے بغیر مستقل اور پائیدار امن نا ممکن ہے۔ بند کمروں کے فیصلے زبردستی مسلط کرنے کے پیچھے ہمیشہ عزائم کچھ اور ہوتے ہیں۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کے قومی جرگے میں خیبر پختونخوا کی ہر سیاسی و مذہبی جماعت سمیت تمام سٹیک ہولڈرز نے دیرپا امن قائم کرنے کے لیے جو تجاویز پیش کیں ان پر عمل کروا کر ہی مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے-
بند کمروں میں فیصلے کرنے والے ذرا نیچے دی گئی تصویر دیکھیں۔عمران احمد خان نیازی صاحب کو ختم کرنا سب کا ادھورا خواب رہ جائے گا۔ یہ عشق اب کئی نسلوں تک پہنچ چُکا ہے۔ جو کبھی بھی انشاءاللہ مٹ نہیں پائے گا!!
عدالتی نظام مفلوج ہوچکا ہے ایک ہی فرد نے 5 کیسز میں گواہی دی
اور ہمارے ججز نے اس گواہی پر سزائیں سنائی
وکلاء نے بہترین طریقہ سے عدالتی نظام میں مداخلت ایکسپوز کردی
آپ کیمرہ ایجاد کرسکتے ہیں، جہاز ایجاد کرسکتے ہیں " But you can't invent a leader " یہ پاگل لیڈر ایجاد کرنے میں لگے ہوئے ہیں، لیڈر گلیوں سے نکلتا ہے،
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئ
مجھے کہا گیا کہ عمران خان کی عدت کیس کی ساری غلاظت کو ڈسکس کریں، عدت کیس کی reality کو discuss نہ کریں، جو میں نے نہیں کیا اور پھر مجھے چینل انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہم آپ کا پروگرام نہیں چلا سکتے، حبیب اکرم
جس قوم کو یہ یاد کرانا پڑے کہ ان کے لیئے آواز اٹھانے والا ایک صحافی سہراب برکت جیل میں بند ہے اور وہ آواز تک نہیں اٹھا رہے ؛ اخے انہوں نے آزادی لینی ہے اور اپنی نسلوں کو سنوارنا ہے 🙏