مطیع اللہ جان نے,
جعلی حکومت کو توہین عدالت کے مرتکب ثابت کردیا, فیکٹ کے ساتھ!!🛑
حکومت نے سپریم کورٹ کو ٹینگہ دکھا دیا,
سپریم کورٹ کے واضح احکامات تھے, عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کیا جائے, اور 16 ستمبر تک عمران خان شفا ہسپتال میں موجود رہینگے,
حکومت یہ تسلیم کرچکی ہے, اپنے درخواست میں, جس میں لکھا گیا تھا, عمران خان کو 16 ستمبر تک شفا ہسپتال میں قائم کرنے کا حکم ہے!!
آئیں عمران خان کا ساتھ دیں۔۔قائدِ اعظم کے بعد عمران خان ایک ایسا لیڈر پاکستان کو ملا ہے جو پاکستان کا سوچتا ہےاور پاکستان کی عوام کا سوچتا ہے
اداکارہ لیلیٰ زبیری
آواز اٹھائیں 🚨
اہلیہ اعجاز چوہدری کی آواز بنیں اور اعجاز چوہدری کی فوری رہائی اور علاج کے لئے بھرپور آواز اٹھائیں، جیل میں اعجاز چوہدری کی طبیعت ایک بار پھر سے خراب ہوا ہے
جب خان صاحب کو انہوں نے گرفتار کیاتو وہ ایک مکمل صحت مند عمران خان اڈیالہ جیل کے اندر گئے تھے، مکمل طور پر فٹ تھے۔ اور آج جو سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع ہوئی ہے اس رپورٹ کے مندرجات یہ ہیں کہ ان کو ہائی بلڈ پریشر کا ایشو ہے، فلکچویٹ کرتا ہے ان کا بلڈ پریشر۔ اور پھر انہوں نے کچھ ان کے لیے تجاویز دی ہیں جیسے انجیوگرافی یا اس طرح کی جو باقی چیزیں ہیں، ان کی تفصیل میں، میں نہیں جانا چاہتا۔
لیکن ہمارا سوال یہ ہے کہ پچھلے چھ سات مہینوں سے مسلسل پاکستان تحریک انصاف اور تحریک تحفظ آئین پاکستان یہ ڈیمانڈ کرتی آئی ہے کہ عمران خان کو ان کے ذاتی معالجین تک رسائی دی جائے، ان کو فوراً شفا انٹرنیشنل ہاسپٹل شفٹ کیا جائے، وکیلوں کو ملنے دیا جائے، بہنوں کی ملاقات کرائی جائے اور ان کے سیاسی رفقاء کی ملاقات کرائی جائے۔ تو بجائے اس کے کہ اس ایشو کو یہ سو کالڈ رجیم ایڈریس کرے، آج دوبارہ وہ خود اس طرح کی ایک مبہم قسم کی رپورٹ سامنے لے کے آئی ہے۔
ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی
@YousafzaiHusain
#EnoughIsEnoughFreeKhan
جبر اور استبداد کے سامنے پہاڑ جیسی کھڑی، عمران خان کی بہنیں اپنے قائد اور بھائی کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا حوصلہ ہی ان کی اصل طاقت ہے۔ ✊
اس واقعہ میں جب پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے خاموش ہونے یا نتائج بھگتنے کی دھمکی ملی، تو انہوں نے ڈرنے کے بجائے دلیری سے اس کا سامنا کیا۔
بعد میں دنیا نے دیکھا کہ واقعی 9 مئی کا ڈرامہ رچا کر اسی کی آڑ میں ملک کے ساتھ ایک بہت بڑا اور گندہ کھیل کھیلا گیا
فیض اور حبیب جالب کی نظمیں گانے والے یہ نوجوان جو خود کو کیمونسٹ کہتے اور عمران خان کی حکومت میں آزادئ رائے کی وجہ سے سرکاری عمارت الحمرا میں فیض میلوں میں انقلاب کے گیت گاتے تھے ، آج کہاں گم ہیں ۔ کیا کسی کے اشارے پر اکٹھے ہوتے تھے