سائفر کی اصل کاپی امریکہ میں شائع ہوگئی
جنرل باجوہ مریم نواز جلسوں میں سائفرکو جھٹلاتےرہےحقیقت واضح ہوگئی کہ بیرونی حکم پرپاکستان کی اینٹ سےاینٹ بجادی گئی اب اگرفوج میں واقعی احتساب کا قانون ہے تو جنرل باجوہ کیخلاف مقدمہ چلایا جائیگا؟؟؟
🚨BREAKING: For the first time, the original Pakistani cypher — cable I-0678, the document that triggered the removal of former Pakistani Prime Minister Imran Khan — is being released in full by Drop Site.
”روس کا دورہ کر کے صدر پیوٹن سے میں نے معاملات طے کر لیے تھے کہ بھارت کی طرح وہ ہمیں بھی سستا تیل دیں۔ مگر جب واپس آیا تو “گریٹ” 22 گریڈ افسر نے امریکہ کی خوشنودی کیلئے روس کی مذمت کر دی۔ میں یہ سب اپنی ذات کیلئے نہیں بلکہ پاکستانی عوام کے لیے کر رہا تھا کہ انہیں مہنگائی سے ریلیف مل سکے۔ “ سابق وزیراعظم عمران خان
Some accounts that appear to be opposed to Imran Khan consider any talk about Mr. Khan is a kind of interference in Pakistani internal affairs !!
Let them know that Imran Khan is a global figure, which means his story is global as well & therefore any person around the world has the right to talk about his story as a human being & a global figure, before being Pakistani.
Am i right or wrong ?
سہیل خان آفریدی کا آج کے جلسے کا سب سے پاورفل پیغام:
اس کا، اُس کا، اُس کی ، یہ کیا ہے؟
تم نام کیوں نہیں لیتے؟
عمران احمد خان نیازی!
عمران احمد خان نیازی!
عمران احمد خان نیازی!
#PeshawarJalsa#خان_قوم_تیرے_سنگ_رہے_گی
Urgent appeal to international media, UN Human Rights Council, EU, US, UK & all democracies:
Today’s DG ISPR press conference by Pakistan military spokesman Lt Gen Ahmed Sharif Chaudhry contained open threats against imprisoned former PM Imran Khan & hundreds of PTI political workers already in illegal detention.
These were not veiled warnings — they were explicit threats of further abuse, fabricated cases & physical harm issued on record by the official military spokesman.
This is a direct assault on democracy, free speech & human rights.
The world cannot stay silent while a serving military officer publicly terrorizes elected leaders & citizens.
We urge the international community to:
•Immediately condemn these threats
•Demand safety & due process for Imran Khan & all political prisoners
Pakistan deserves democracy, not dictatorship in uniform.
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کو ایک ہفتہ قید تنہائی میں رکھنے کے بعد اہل خانہ سے کروائی گئی ملاقات میں گفتگو
“عالمی حالات کی وجہ سے میں نے اپنی پارٹی کو تحریک دو ہفتے کے لیے مؤخر کرنے کی ہدایت کی ہے- موجودہ عالمی حالات کے اثرات پاکستان پر بھی آئیں گے بلکہ آ رہے ہیں۔ ایسے حالات میں قوم کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔
خیبر پختونخوا کا بجٹ تو پیش کرنا ہی تھا- بجٹ پاس کرنے سے پہلے مشاورت کے لیے علی امین، عمر ایوب، مزمل اسلم، تیمور جھگڑا اور شبلی فراز مجھے بریفنگ دیں گے تب ہی بجٹ پاس ہو گا-
وفاقی بجٹ مکمل طور پر اشرافیہ کا بجٹ ہے- جن کے اثاثے باہر ہیں ان پر کوئی اثر نہیں پڑے گا- اس بجٹ کا سارا بوجھ عام عوام، تنخواہ دار طبقے اور کسان پر پڑے گا۔ صرف نواز شریف اور زرداری کے اثاثے باہر نہیں بلکہ انکے وزراء کے بھی اثاثے باہر ہیں-
وفاقی بجٹ میں ان لوگوں پر مزید ٹیکس لگا دیا گیا ہے جو ایمانداری سے ٹیکس دے رہے ہیں اور جو ٹیکس چوری کر رہے ہیں ان کو مزید چھوٹ دے دی ہے۔
خبروں کے مطابق 33 لاکھ لوگ پچھلے چند سالوں میں ملک چھوڑ کر گئے ہیں، ان میں سے بیشتر اپنی کوئی مالیت اور اثاثے ساتھ لے کر گئے ہوں گے، یہ صرف برین ڈرین نہیں ہے بلکہ ملکی پیسہ بھی باہر جا رہا ہے کیونکہ یہاں کسی کو تحفظ فراہم نہیں ہے۔
جس کے پاس تین سال پہلے 50 ہزار روپے تھے آج اس کی حیثیت بمشکل 20 ہزار ہے، یہ 60 فیصد مہنگائی ہے۔
کورونا جیسی عالمی وبا اور عالمی معاشی بحران میں ہمارے معاشی اعداد و شمار دیکھیں اور آج دیکھیں- زمین آسمان کا فرق ہے کیونکہ ہماری ساری پالیسز پاکستان کی بہتری اور ترقی کے لیے تھیں-
جب “رول آف لاء” نہ رہے تو جمہوریت ختم ہو جاتی ہے، ناانصافی مزید بڑھتی ہے جس کے باعث دہشت گردی میں بھی اضافہ ہوتا ہے، اس سے معیشت مزید نیچے جاتی ہے اور لوگوں میں مایوسی مزید پھیلتی ہے-“
تحریک انصاف کے کارکنان، کھلی دھاندلی اور غنڈہ گردی کیخلاف سمبڑیال RO آفس کے باہر موجود، قیدی نمبر 804 کے نعرے۔
مینڈیٹ تو تحریک انصاف کا ہے
مگر چوروں کے ٹولے کو دھونس اور زبردستی سے چرانے کی عادت پڑچکی ہے
عوام کے ٹھکرائے، زیادہ دیر نہیں ٹک پائیں گے۔
“Those who uphold the truth can never be defeated. Allah Almighty states clearly in the Holy Qur’an: “And your Lord would not have destroyed the cities unjustly while their inhabitants were righteous”. As Hazrat Ali (RA) said, ‘A system built on disbelief may survive, but one founded on injustice will not.’ Lies and deceit inevitably unravel, and the truth prevails.
The events of May 9th (2023) were, in fact, a part of the “London Plan”, the sole purpose of which was to eliminate Pakistan’s largest political force, Pakistan Tehreek-e-Insaf. Under this premeditated plan, I and several of my party leaders and workers were unlawfully imprisoned. Our democratic mandate was brazenly stolen, and corrupt individuals were imposed upon the nation. We were subjected to relentless fascist oppression, our supporters were shot at, and baseless cases have been fabricated against us.
As Prime Minister, when I removed General Asim Munir from the post of DG ISI, he sought to approach my wife Bushra Bibi through intermediaries to discuss the matter. Bushra Bibi categorically declined, saying that she had no involvement with such affairs and would not meet him. It is General Asim Munir's vindictive nature that is behind Bushra Bibi's unjust 14-month incarceration and deplorable inhumane treatment in prison. The way my wife has been targeted for personal vengeance is unprecedented, even during Pakistan’s darkest periods of dictatorship. She was accused of aiding and abetting, an allegation for which no proof has ever been presented, and she is arrested in one false case after another. She is a private citizen, a homemaker with no political involvement. I have not even been allowed to meet her in the past four weeks. According to jail regulations, I was scheduled to meet her yesterday, but even that meeting was denied, in complete violation of court orders.
Yesterday, our Member of National Assembly, Abdul Latif Chitrali, was convicted in a fabricated case related to May 9th (2023). Based on what evidence? Similarly, Dr. Yasmin Rashid remains imprisoned, while Shah Mehmood Qureshi would be released if he agreed to make the statements they desire from him. Anti-terrorism courts and numerous judges are complicit in this campaign of repression. Despite repeated demands, they refuse to summon or examine the stolen CCTV footage from May 9th. Not a single judge has the courage to demand those tapes and deliver a verdict based on evidence. We are innocent. Our people are being sentenced without evidence and without the right to a fair trial. We will petition all courts to demand the release and review of that CCTV footage.
I had called for the formation of a judicial commission to conduct a transparent investigation into the massacres (of unarmed pro-democracy protesters) of May 9th and November 26th (2024). Yet there has been no movement on this demand. The judiciary in Pakistan has never been more disgraceful than it is today. In the past, there was Justice Munir, whose unjust decisions earned him global notoriety. Today, Justice Qazi Faez Isa is following in the same footsteps. The entire judicial system seems complicit, driven not by justice but by a desire to protect their own jobs and privileges.”
Former Prime Minister Imran Khan, speaking from Adiala Jail during a conversation with his legal team and the media (May 31, 2025)
2/3
“پارٹی کے تمام عہدیداران کو پیغام ہے کہ جس میں بھی دباؤ برداشت کرنے کی قوت نہیں ہے وہ عہدے سے الگ ہو جائے اور اپنی جگہ انہیں موقع دے جو پریشر برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ لہذا کم حوصلہ عہدیداران براہ مہربانی خود ہی پیچھے ہٹ جائیں تاکہ انکی جگہ ہم دلیر اور نظریاتی ورکرز کو آگے لائیں جو قانون اور آئین کی بالادستی اور حقیقی آزادی کیلئے ڈٹ کر کھڑے ہوسکیں۔
پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاسی جماعت کے ساتھ اس قدر ظلم نہیں ہوا جو تحریکِ انصاف کیساتھ ہوا۔ ایسے میں ہمارے پاس ملک گیر احتجاج کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
میں خود جیل سے بطور پارٹی سربراہ احتجاج کی قیادت کروں گا۔ میں نے پوری پارٹی کو پیغام بھیج دیا ہے کہ ملک گیر عوامی احتجاج کی تیاری کریں۔ ہمارے پرامن احتجاج پر گولیاں چلائی جاتی ہیں اب ہم گولیاں نہیں کھائیں گے۔ پوری قوم اور اوورسیز پاکستانیوں کو ہدایت دیتا ہوں کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں پرامن احتجاج کیلئے کمر کس لیں۔
میں دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی آئین کی بحالی کے لیے اس ملک گیر احتجاج میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں۔
سپیکر قومی اسمبلی جس طرح ایوان کو چلا رہا ہے ہم اس کے خلاف عدم اعتماد لائیں گے۔ اس کے ہوتے ہوئے ایوان سے اراکین قومی اسمبلی کو اغوا کیا گیا، ہمارے ایم این ایز کی تقاریر سنسر کر دی جاتی ہیں۔ اڈیالہ جیل کے باہر پارلیمنٹیرینز پر تشدد ہوتا ہے مگر یہ ہر معاملے میں ممبران قومی اسمبلی کی نمائندگی میں ناکام رہا ہے۔
حیران کن طور پر الیکشن دھاندلی کی اپیل چیف الیکشن کمشنر ہی کے پاس جارہی ہے جو اس دھاندلی کا سہولت کار اور مینڈیٹ چوروں کی ٹیم “بی” ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کا مقصد ہی یہ تھا کہ 8 فروری کے الیکشن فراڈ کو تحفظ فراہم کیا جائے اور تحریک انصاف کو victimize کیا جائے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ محض حکومتی عدلیہ بن کر رہ گئی ہے۔ ہم سے مخصوص نشستیں چھیننے کی پوری تیاری ہے مگر آپ سب نے حوصلہ نہیں ہارنا اور جم کر کھڑے رہنا ہے-“
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی وکلأ اور میڈیا سے گفتگو
3/3
“مجھے دو سال پہلے کہا گیا کہ تین سال کے لیے پیچھے ہٹ جاؤں اور موجودہ نظام کو چلنے دوں، لیکن میں کسی یزید کے کہنے پر تین سال تو کیا تین منٹ بھی خاموش نہیں رہوں گا۔
مجھ پر چھبیسویں ترمیم کو قبول کرنے کا بھی زور ڈالا جا رہا ہے لیکن میری جدوجہد ہی قانون کی حکمرانی کی ہے اور چھبیسویں آئینی ترمیم عین اس کے منافی ہے۔
مجھ سے نو مئی کی معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے مگر معافی وہ لوگ مانگیں جنہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی ہے، جنہوں نے عورتوں کی عزتیں پامال کیں، لوگوں کے گھروں کا تقدس برباد کیا، ہزاروں سیاسی ورکروں کو جیلوں اور عقوبت خانوں میں ڈالا اور بے گناہ لوگوں کو شہید کیا۔ نو مئی کے کیسز کی ایک گھنٹہ بھی میرٹ پر سماعت ہو تو یہ بےبنیاد مقدمات فوری ختم ہو جائیں گے، لیکن المیہ یہ ہے کہ یہاں انصاف ہونا تو دور کی بات انصاف ہوتا نظر بھی نہیں آ رہا۔
ظلم سے قومیں کبھی ختم نہیں ہوتیں بلکہ نئے سرے سے بنتی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے 13 سال مشکل ترین وقت کاٹا لیکن آپ ﷺ ڈٹے رہے اور بالآخر سرخرو ہوئے۔ لہٰذا ہم سب کو آپ ﷺ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بحیثیت قوم ڈٹ کر آخری دم تک مقابلہ کرنا ہوگا۔
جب انصاف کا ہر دروازہ بند کر دیا جائے پھر پر امن احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ تحریک انصاف سمیت پوری قوم کو پیغام دیتا ہوں کہ ملک گیر احتجاج کے لیے تیار رہیں۔
پاکستان میں قانون مکمل طور پر معطل ہے۔ یہاں عورتوں کی بھی عزت محفوظ نہیں ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم صرف سہولت کاری کے الزام میں 14 ماہ سے قید تنہائی میں ہیں حالانکہ ان پر جرم ثابت بھی نہیں ہوا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کینسر سروائیور اور بزرگ خاتون ہیں مگر ان کو بھی بے شرمی سے جعلی مقدمات میں پابند سلاسل کیا گیا ہے۔ میری ہمشیرگان، جن کی عمریں 65 سے 70 سال کے درمیان ہیں، ہائی کورٹ کے حکم پر جیل مجھ سے ملنے آتی ہیں جو ان کا اور میرا بنیادی حق ہے مگر ایک کرنل ان کو روک دیتا ہے اور عدالت کا حکم ردی کی ٹوکری کی نذر ہو جاتا ہے۔ جنگل کے قانون کا یہ عالم ہے کہ میری بہنوں کو یہاں سے گرفتار کیا جاتا ہے اور چکری کے پاس آدھی رات کو لے جا کر بے یارو مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جس ملک میں اپنی ہی خواتین کے ساتھ ایسا سلوک ہو وہاں کا اخلاقی معیار فوت ہو چکا ہے۔ مریم نواز کے لندن میں 5 فلیٹس نکلے تھے مگر ان کی ضمانت دو ماہ میں ہی ہو گئی تھی کیونکہ شریف خاندان ڈیل پر راضی تھا۔ جو فرعونیت کے آگے جھک جاتا ہے اس کے سب کیس معاف ہیں مگر جو حق پر کھڑا ہو وہ بے جرم بھی سزاوار ٹھہرتا ہے۔
دو سال میں بیرون ملک سے کوئی سرمایہ کاری اسی لیے نہیں آ سکی کیونکہ دنیا جانتی ہے یہاں قانون ایک کرنل کے جوتے کی نوک پر ہے۔ یاد رہے کہ سرمایہ کاری کے بغیر نہ ملک میں معاشی استحکام آتا ہے اور نہ ہی معیشت ترقی کر سکتی ہے۔ جب تک عدالتی احکامات کرنل کے اشاروں کے محتاج ہوں گے تب تک سرمایہ کاروں کے لیے اعتماد کی فضا ناپید رہے گی۔
پوری قوم انصاف کے لیے عدلیہ کی طرف دیکھ رہی ہے۔ مگر چھبیسویں آئینی ترمیم کر کے عدلیہ کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔
اس ترمیم کے پیچھے دو ہی وجوہات ہیں:
ایک تو دھاندلی ذدہ الیکشن کا تحفظ کرنا، اور دوسرا مجھ سمیت تحریک انصاف کی لیڈر شپ و کارکنان کو جیل میں قید رکھنا اور احتساب کے خوف کے بغیر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنا۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کے براہ راست دو نتائج نکلے ہیں:
۱: ایک یہ کہ عدلیہ نے اپنے آئینی و روایتی کردار کے برعکس انتظامیہ کے سامنے بالکل سرنڈر کر دیا ہے۔ ملٹری کورٹس کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 175 (3) کے متصادم ہے جو کہتا ہے کہ عدلیہ انتظامیہ سے الگ ہے مگر یہاں اس آرٹیکل میں ترمیم کیے بغیر ہی ایگزیکٹو کو عدلیہ کے تمام اختیارات سونپ دیے گئے ہیں۔ ملٹری کورٹس کے ساتھ ساتھ مخصوص نشستوں پر بھی بینچ بنا کر تحریک انصاف سے یہ نشستیں چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ووٹ تحریک انصاف کو پڑا ہے مگر آئین کے بر خلاف یہ نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے کی کوشش جاری ہے۔
۲: دوسرا یہ کہ عدلیہ اس قدر مفلوج ہو چکی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اور جج اپنی مرضی سے مقدمات لگا ہی نہیں سکتے۔ نتیجتاً مجھے بھی عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا۔ کبھی میرے کیسز کے لیے بینچ مکمل نہیں ہوت تو کبھی سماعت نہیں ہوتی۔ جان بوجھ کر میرے مقدمات کو التواء میں رکھا جاتا ہے۔ میرے بنیادی انسانی حقوق بھی معطل ہیں۔ جیل مینوئل کے مطابق جو حقوق ایک عام قیدی کو حاصل ہوتے ہیں مجھے وہ بھی نہیں دئیے جا رہے۔ میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میری اہلیہ سے ہفتے میں ایک طے شدہ ملاقات بھی روک دی جاتی ہے اور تو اور میری کتابیں تک روک لی جاتی ہیں۔ یہ سب صرف اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ میں ٹوٹ جاؤں۔
1/2
Former Prime Minister Imran Khan, in conversation with lawyers, media representatives, and party workers during trial proceedings in a makeshift courtroom inside Adiala Jail, Rawalpindi - May 26, 2025
"I am prepared to spend my entire life behind bars, but I will never bow down to tyranny and oppression.
The cornerstone of my movement is the rule of law, and through it, we will abolish the law of the jungle.
Peaceful protest is the only viable path when all doors are closed to a political party — when it is subjected to oppression, and the judiciary is no longer independent.
I instruct my party, its workers, and supporters to prepare for a decisive nationwide movement. This time, the call will not be limited to Islamabad—it will echo across all of Pakistan.
To every member of the party, I say this: none of you are here because of your ‘electability’. You were elected on the strength of your ideology. I am fully aware of who is playing both sides. Anyone who does not follow party directives will have no place in this party. When given the opportunity, I will ensure internal party elections are held. Elections within the party are imperative in order to ensure grassroots workers have the opportunity to climb up the ranks.
The May 9th (2023) case can be concluded in no more than half an hour. Those responsible are the ones who stole the CCTV footage. If they truly believe Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) was behind the events of May 9th, they should release the footage to the public.
It is Shehbaz Sharif who should undergo a polygraph test. He should be asked whether he came to power legitimately, through Form 45, or through Form 47 fraud.
I am a former Prime Minister of Pakistan, entitled to certain facilities in prison, yet I have not even been granted the basic rights afforded to ordinary inmates. For the past 22 months, I have been confined in a cell that is no less than a death-row cell. Meanwhile, criminals were housed in VVIP cells that are more akin to hotel suites.
The law of the jungle is prevalent here — court orders are openly defied upon instructions from a Colonel. I am not allowed to speak with my children, and my sisters are denied visitation rights. Even my books are restricted — none have been delivered to me for two and a half months, except the ones I have already read. I am the head of a political party, yet my own party members are barred from meeting me, despite court orders permitting such meetings.
They have stooped so low as to sentence my wife on baseless and unproven charges, merely to inflict pain on me. What could be more disgraceful? I am allowed only 30 minutes per week to meet my family or legal counsel. The false accusation against my wife was merely of facilitation, and even that remains unproven.
I call upon all members of the opposition to be present at tomorrow’s protest outside the High Court. The judiciary has been rendered completely paralyzed and ineffective since the 26th (constitutional) amendment. Despite repeated assurances, the Chief Justice of the Islamabad High Court has failed to even list our cases for a hearing.
The Supreme Court has expressed a lack of faith in its own judicial system by endorsing military trials of civilians.
Our forces — especially the Pakistan Air Force — responded remarkably well to India's aggression, and the entire nation supported them. There was joy and celebrations for Pakistan’s response even in the prison I am incarcerated in.”