۲۰۲۱ تک ISPR کی فہرست والے“دفاعی ماہرین” اور ان سے جڑے صحافی ٹاک شوز میں طالبان کی مخالفت پر مبنی پشتون موقف کو انڈین بیانیہ کہتے تھے اور ٹاک شوز میں طالبان کو اصلی مجاہدین کہتے تھے اب وہی لوگ طالبان کو انڈین اثاثہ پکارتے ہیں لیکن جھوٹ بولنے اورگمراہی پھیلانے پر معافی نہیں مانگتے
بلوچستان میں انٹیلجنس کی اتنی بڑی ناکامی پر ایجنسیوں کے کتنے افسران مستعفی ہوں گے؟ کتنوں کو نوکریوں سے نکالا جائے گا ؟ یا پھر ساری توجہ اور کارکردگی عمران خان، انکے ساتھیوں اور عام پاکستانیوں کو کچلنے پر ہی رکھنی ہے؟
بلوچستان کے حالات دیکھ کر میرا دل بہت غمزدہ ہے۔ سالوں کی ناکام پالیسیاں اور بلوچ عوام کو غلام بنانے والی سوچ کا انجام یہی ہونا تھا۔
اسلام آباد آپ کے پاس آئی، مہرنگ بلوچ اور بلوچ خواتین جن کا مطالبہ صرف یہی تھا کے ان کی بات ہی سن لی جائے، آپ نے نا سنی۔ آپ نے رابطے کی ہر دیوار گرا دی۔ بلوچ عوام کو دیوار سے لگا دیا۔
کاش قائدِاعظم کی کوئٹہ اسٹاف کالج کی تقریر پر عمل کیا ہوتا تو آج کوئٹہ بچ جاتا۔
کاش اپنی بیرکس میں ہی رہتے۔
#وزیرداخلہ کہاں پر ہے اج کل جو کہا کرتے تھے کہ #بلوچستان میں حالات کنٹرول کرنا ایک اسی چو کی مار ہے اج پوری بلوچستان #کوئٹہ سمیت کیا چل رہا ہے دفاعی ادارے صرف سیاست دانوں دانشوروں اور حقوق مانگنے والوں کو غائب اور گرفتار کرتے ہیں لیکن جس مقصد کے لیے ان کی ذمہ داری ہے وہ بھول گئے
بی ایل اے کا ایک دن میں دس شہروں میں حملے، بشیر زیب کی ویڈیو کہاں بنی؟ طاقت کا مظاہرہ یا سیکیورٹی کی ناکامی [#herof2 ]
ہفتے کی صبح بلوچستان کے دس سے زائد شہروں اور قصبوں میں دھماکوں، فائرنگ اور شاہراہوں کی بندش کی متعدد اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (#BLA ) نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے آپریشن ہیروف فیز 2 یا بلیک اسٹورم قرار دیا۔ یہ آپریشن مرحلہ وار چلایا جا ��ہا ہے اور ہر مرحلہ پہلے سے زیادہ منظم اور شدت اختیار کر رہا ہے۔ پہلا مرحلہ اگست 2024 میں شروع کیا گیا تھا اور امکان ہے کہ یہ سلسلہ مزید آگے بڑھایا جائے گا۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس مرحلے کا مقصد صرف حملے کرنا نہیں بلکہ یہ بھی جانچنا ہے کہ بلوچ عوام کتنی حد تک مسلح گروہوں کی حمایت میں آتے ہیں۔ بی ایل اے کے سربراہ نے اپنی ویڈیو پیغام میں عوامی مدد کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ایک ساتھ دس شہروں میں حملے اور اتنے بڑے تعداد میں جنگجوؤں کی شرکت بی ایل اے کی موجودہ طاقت اور منظم صلاحیت کا واضح عندیہ دیتی ہے اور اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بی ایل اے اپنی حکمت عملی کو مزید منصوبہ ��ندی کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب نے ویڈیو میں خود نظر آ کر یہ تاثر دیا کہ اعلیٰ قیادت بھی آپریشن میں براہِ راست شامل ہے جس سے نوجوانوں میں دلچسپی اور توجہ بڑھنے کا امکان ہے۔ ویڈیو میں دکھائی دینے والے مقام کو کچھ تجزیہ کار چاغی اور خاران کے درمیان اندازاً قرار دے رہے ہیں جو بیرونی سرمایہ کاری اور معدنی وسائل کے لحاظ سے ایک حساس اور اسٹریٹجک اہمیت کا حامل علاقہ ہے۔ اگر یہ تاثر درست ہو تو بشیر زیب کا اس مقام پر موٹر سائیکل پر نظر آنا بی ایل اے کی موجودہ طاقت اور منظم کارروائیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
آئس کے نشے میں دھت نتاشہ نے گاڑی کے نیچے خاندان کو کچل دیا۔آج آزاد گھوم رہی ہے
ایمان زینب مزاری نے ٹویٹ کیا اسے سترہ سال قید کی سزا سنا دی گئی
ریاست پاکستان کے اس خبیث نظام پر جی بھر کر لعنت۔
_ #PakistanUnderFascism#ImanMazari
. @MohsinDawa was spot on but he was declared as anti Pakistan- so sad our policy makers are unable to understand the critical view. Criticism helps fixing (or reforming the policy)problem.
یہ کوئی عام بندہ ہے نہیں بلکہ ایک ایم پی اے ہے اور اسمبلی فلور پہ کھڑے ھو کے یہ سب باتیں کر رہا ہے کہ پشتون کے ساتھ پارلیمان والوں نے کیا سلوک کیا ہے۔ اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ گئے ۔ اس لیے ہم پشتونوں کو کہتے ہیں کے ان پارلیمانی پارٹیوں پر ہرگز بھروسہ نہ کریں یہ کسی کے سگے نہیں سوائے اپنی کرسی کے ۔۔۔۔۔۔ اپنے مفاد کے لیے یہ لوگ اپنی نکاح بھی حرام کرنے تک کو راضی ہیں۔
دعوے سے کہتا ہو اگر 11 اکتوبر والے جرگے پہ عمل ھوا ھوتا تو آج ہم یوں عبرت کا نشان نہ بن رہے ھوتے۔
پارلیمانی پارٹیوں نے پی ٹی ایم کے ساتھ دھوکا کیا ہے وہ اب ہم سب پے بالکل واضح ھو چکا ہے۔
معصوم بچوں ، عورتوں اور بوڑھوں پر بمباری کی ٹائمنگ دیکھیں ۔۔ ایک طرف پاکستان کا وزیراعظم غزہ میں فلسطینیوں پر ظلم کی مذمت کرنے امریکا گیا ہے دوسری طرف پاکستان میں بچوں اور عورتوں پر بمباری کر کے اپنا کیس کمزور کر دیا گیا ہے اس واقعے کی کوئی انکوائری ہو گی یا نہیں؟
یہ ظلم اگر فلسطین یا کشمیر میں ہوتا تو پاکستانی میڈیا اور دو نمبر مولوی چیخ چیخ کر اپنا گلا پھاڑتے
لیکن چونکہ یہ ظلم پختونخوا میں ہوا ہے اور پاکستانی فوج نے کیا ہے اس لیے یہ منافقین چھپ ہے،
#TirahMassacre
وزیراعلی خیبر پختونخوا کی جانب سے تیراہ بمباری میں ش.ہید ہونے والے د. ہشت .گردوں کے لواحقین کو ایک ایک کروڑ روپے امداد دینے کا اعلان۔
#TerahValley#PashtunGenocide@ARYNEWSOFFICIAL
سانحہ تیراہ کے حوالے سے ناپاک میڈیا کا غلیظ پروپیگنڈا
نسل پرست و دھشتگرد میڈیا سن لو!
ملک اور دھشت گردوں کی اسلحہ ساز فیکٹری ایک ہی ہے.یہ فیکٹری تیراہ میں نہیں بلکہ ہمارے تاریخی مارگلہ کی پہاڑیوں کے قریب ہے۔ہمارا یہ علاقہ بھی مقبوضہ ہے۔
سارے قبضے اکھٹے ہی ختم ہونگے ۔انشا اللہ
تیراہ خیبر میں ریاست کی اندھا دھند بمباری نے عورتوں اور بچوں کو خون میں نہلا دیا۔ ہمارا وجود کبھی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھتا اور کبھی ریاستی ظلم کا نشانہ بنتا ہے۔ یہ لہو پوری قوم کے سامنے ہے مگر متوقع خاموشی ایک بار پھر ریاستی تعصب اور مرکزیت کا بھیانک چہرہ بے نقاب کرے گی۔
#PashtunLivesMattersInPakistan
پاکستان میں پشتون ہونا کتنا بڑا گُنا ہے
اسلام آباد میں ہسپتال سے گرفتار کر کے علی وزیر پر چرس اور پولیس سے اصلحہ چین کر پولیس پر فائرنگ کے دو جھوٹے ایف ائی ارز میں عدالت میں پیش کیا گیا۔
جسمانی ریمانڈ اور جیل گزارنے کے بعد عدالت سے ضمانت پر رہائی مِلی تو اڈیالہ جیل کے دروازے سے ناجائز 3MPO میں پنجاب پولی�� نے گرفتار کر دیا اور گجرات میں قید کر دیا، وہاں عدالت نے رہائی دی تو جیل کے دروازے سے ایک بار پھر ایک اور ناجائز 3MPO میں پنجاب پولیس نے گرفتار کر دیا اور بھکرمیں قید کر دیے گئے وہاں سے جب عدالت نے ضمانت دی تو پنجاب پولیس نے ایک اور ناجائز 3MPO میں گرفتار کر دیا اور انہیں سرگودھا میں قید کر دئے گئے، وہاں سے عدالت نے رہائی دی تو کئ دِن تک لاپتہ تھے بعد میں وہ بلوچستان کے علاقے حب چوکی پولیس تھانے میں پائے گئے وہ بھی پی ٹی ایم کے ایک کارنر میٹنگ پر ہونے والے ایک ایسے FIR میں کہ اُس کارنر میٹنگ کے انعقاد کے دوران علی وزیر کراچی جیل میں باجوائی قید گزار رہے تھے۔
اس FIR میں عدالت میں پیش کر دیے تو بلوچستان پولیس نے سات روزہ جسمانی ریمانڈ اور جج کے کرسی پر بیٹھے شخص نے کرسی کا لحاظ بھی نہیں رکھا اور جسمانی ریمانڈ پر دے دیا، سات روز پورا ہونے کے بعد پولیس نے دوبارہ جسمانی ریمانڈ مانگا تو جج کر کرسی پر بیٹھے شخص کی ضمیر میں ہلکی سی بھی انسانیت نہ جاگی اور دوبارہ جسمانی ریمانڈ پر دے دیا۔
وہ پورا کرنے کے بعد اب جیل بھیج دیے گئے۔
اور یہ سب کچھ جب ہورہا تھا تو کوئی عدالت، کوئی پارلمنٹ، کوئی میڈیا یا کسی بھی نے اس پر بات تک نہیں کی کیونکہ وہاں ا��ک ہی قسم کے لوگ ڈامینیٹیڈ ہے وہ کسے پشتون پر جھوٹے ایف ائی ارز اور ظلم جبر پر بات نہیں کرینگے۔
شاونسٹ ظلم جبر کی یہ داستانیں محکوم قوموں کے حوصلے پست نہیں کرینگے بلکہ انکو مزید مزاحمت کرنے، اور سوئے ہوے کو جاگنے کی انرجی دینگے۔
حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرل منیر افسر جو کہ مادرِ وطن کی خدمت کے لیے اضافی فرائض بطور چیئرمین نادرا بھی ادا کر رہے ہیں ، پارلیمنٹ ہاوس میں اعزاز سید کے ہتھے چڑھ گئے __ دلچسپ سوال جواب (یہ ویڈیو پاکستان میں کئی جگہوں سے ڈیلیٹ کروائی جا چکی ہے)
DG ISPR's remarks reek of a colonial mindset. Pakistan's constitution guarantees provinces' ownership rights over resources, but the institution he represents has never abided by this. Ethnicities within Pakistan will not compromise on their identities for a 77-year-old country.
آخرکار پاکستانی جرنیلوں نے یہ تسلیم کر لیا کہ پشتونخوا وسائل سے بھرپور ہے، لیکن اب انہیں اس بات پر غصہ ہے کہ ان سے حساب کیوں مانگا جا رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ وسائل اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہیں۔ پشتون اس بات کا انکار نہیں کرتے کہ وسائل اللہ کی طرف سے ہیں، لیکن یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ وسائل اس لیے نہیں کہ جرنیل انہیں بیچ کر آسٹریلیا میں جزیرے خریدیں یا یورپ میں پاپا جونز کے پیزا آؤٹ لیٹس بنائیں۔ یہ علاقے کے لوگوں کی مشترکہ ملکیت ہے۔ جرنیلوں! کم از کم اب تو آپ نے حقیقت کو تسلیم کیا، ورنہ تم نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور سے آج تک پشتونوں کے وسائل ہڑپ کیے اور کبھی اس کا اعتراف بھی نہیں کیا۔ تمھارے سارے لوٹ مار کا حساب لیا جائے گا۔
#StopPersecutingPashtuns #StateTerrorismContinues #ReleasePTMActivists #StopPersecutingPTMActivists #StateDeniesPashtunsJustice
#Aliwazir
#Pakhtunkhwa