ہمارے ڈیمانڈز ماننے کے علاوہ اور کوئی آپشن ہی نہیں۔ ایمرجنسی یا گورنر راج کا اعلان کیے بغیر ایسی حرکتیں کرنا بغاوت میں آتا ہے۔ جگر گردہ پیدا کریں اور اعلان کریں۔ ہم اپنے آئینی و قانونی ڈیمانڈز سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ آئی قانون کے مطابق ہمارا لانگ مارچ ڈیمانڈز کے پورا ہونے تک جاری رہے گا۔ یہاں پر پالیسی صرف عمران خان کی چلے گی۔
ایمرجنسی یا گورنر راج کے اعلان کے بعد لوگ ترکی کی مثال دینا بھول جائیں گے۔
عمران خان، تمہیں قدرت نے 25 کروڑ لوگوں کو آزاد کرانے کی ذمہ داری سونپی ہے، اور تم اسے جوانمردی اور دلیری سے نبھا رہے ہو۔
تم جانتے ہو، اکیلے تم نے آزاد نہیں ہونا۔ تمہارے ساتھ 25 کروڑ پاکستانیوں نے آزاد ہونا ہے۔ اللہ تمہیں کامیاب کرے۔
Happiest Birthday Imran Khan
خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر کی دارلحکومت پشاور میں نقاب پوش افراد کی جانب سے مبینہ گرفتاری کے مناظر دیکھنے کے بعد دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کی طرف سے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے کھڑکی توڑ رش لگ گیا
ہر ڈویژن کو صوبہ بنانے کی بحث عمران خان نے شروع کی اور تحریک انصاف نے اپنے منشور میں بھی نئے صوبے بنانے کا وعدہ کیا لیکن آج عمران خان کا یہ بیان ٹی وی چینلز پر نہیں چل سکتا آپ عمران خان سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن آج محسن نقوی وہی کہہ رہے ہیں جو خان صاحب بہت سال پہلے کہتے تھے
میرے پاکستانیو اور خصوصاً پاکستان کے نوجوانو
آپ سب کی کوششوں سے آج عمران خان صاحب کا چیک اپ اور علاج ان کی فیملی اور ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں الشفأ ہسپتال میں ہونے جا رہا ہے-
پاکستانیو۔۔ ابھی ہم نے مزید محنت کرنی ہے۔ آرام کا وقت نہیں ہے۔ یہ آپ کی کامیابی کا پہلا قدم ہے۔ آگے کا مرحلہ سخت ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ ہم نے عمران خان، بشرٰی بی بی ، تمام لیڈران اور تمام ورکرز کو انصاف دلانا ہے اور ناحق قید سے آزاد کروانا ہے- بس آپ نے گھبرانا نہیں اور اپنے اللّٰہ پر ایمان کامل رکھنا ہے۔ انشاء اللّٰہ فتح حق اور سچ کی ہوگی۔
عمران خان صاحب کی حقیقی آزادی کی تحریک ابھی آگے لے کر چلنی ہے۔ حقیقی آزادی کی پہلی سیڑھی آزاد عدلیہ ہے۔ آزاد عدلیہ ہی صحیح معنوں میں انصاف کر سکتی ہے۔ عدلیہ کے انصاف سے ہی ہم نے اپنے لیڈر کو واپس لانا ہے۔ آزاد عدلیہ کی بنیاد آپ نے رکھنی ہے۔ آپ نے ہی حق پرست ججز کے بازو بننے ہیں۔ آپ کے تعاون سے ہی ان کو طاقت ملنی ہے۔
آپ لوگوں نے ایک آزاد، خوشحال، ترقی یافتہ اور خودمختار پاکستان کے لئے عمران خان صاحب کا انتخاب کیا ہے۔ مسلسل ان کا ساتھ دیا ہے۔ اگر آج بھی عمران خان صاحب اپنے مؤقف پر چٹان کی طرح کھڑے ہیں تو ان کی طاقت آپ ہیں۔ ان کی اُمید آپ ہیں۔ آج تک اگر وہ ہار نہیں مان رہے تو اُس کی ایک وجہ آپ ہیں کیونکہ آپ بھی عشق عمران سے باز نہیں آرہے۔ میں آپ لوگوں کی اس خلوص، اس عشق اور جہد مسلسل کو سلام پیش کرتا ہوں۔
سپریم کورٹ فیصلہ آنے کے بعد شام میں ن لیگ کا پارلیمنٹ ہاؤس میں اجلاس ہوا جہاں سپریم کورٹ کاآرڈر چیلنج کرنے کا فیصلہ ہوا ۔ ن لیگ اس میں سے سوائے رسوائی کے کچھ نہیں کمائے گی ۔ کم سےکم خواجہ سعد رفیق جیسے لوگوں سے ہی مشورہ کرلیتے جو اس فیصلے کو اپنے دل کا بوجھ کم ہونے اور حبس کے موسم میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا قرار دے رہے تھے ۔
حکومت کو عمران خان کو جیل میں ان حالات میں رکھنے اور صحت کو اس نہج تک پہنچانے کے لیے معافی مانگنی چاہیے تھے لیکن وہ تو الٹا ڈھٹائی سے فیصلہ چیلنج کر رہے ہیں ۔
اڈیالہ جیل حکام کی رپورٹ اور سپریم کورٹ تین رکنی بینچ کے فیصلے کے بعد حکومت اپنا سیاسی اور اخلاقی مقدمہ ہار چکی ہے اب باقی کالک ہی ہے جتنی مرضی مَل لے
سابق وزیر اعظم عمران خان کو فوراً اسپتال منتقل کرکے طبی سہولیات فراہم کرنی چاہئیں۔ اپنےسیاسی نظریے پر ڈٹ جانے کی قیمت لیڈر کی جان کبھی نہیں ہو سکتی۔ فیلڈ مارشل کو اس حساس مسئلے ہر ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ پہلے ہی پاکستان میں کافی نفرت پھیل چکی ہے۔
یہ نظام اتنا کھوکھلا ہے کہ پیپلز پارٹی کی طرف سے نثار کھوڑو جیسا چھوٹا کردار محسن نقوی سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتا، نہ زرداری کرتا ہے اور نہ ہی بلاول کرتا ہےـ
اسی طرح سے ن لیگ کی طرف سے عاصمہ نواز جیسے مہرے کو آگے کیا جاتا ہے، نہ شہباز شریف کابینہ سے نکالتا، نہ نوازشریف کو ہمت ہوتی ہے اور نہ ہی مریم نواز کوئی احتجاج کر رہی ہےـ
پھر یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری نورا کشتی کو سیریس لیا جائے؟؟
#ناحق_قید_کے_3سال
ہمارے ادارے،عدالتیں اور سرکاری لوگ عمران خان کو سمجھ ہی نہیں سکے، وہ سمجھتے بھی کیسے؟؟ وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے ۔ جب وہ وزیراعظم تھا تو اُس کے بنی گالا والے گھر کا بجلی کا بل دو لاکھ اسی ہزار آگیا تو اُس نے خود فون کرکے ایس ڈی او کو بلا کر کہا کہ ” بل بہت زیادہ آگیا ہے،اس کی قسطیں کردیں“ ایس ڈی او حیران تھا کہ یہ وزیراعظم پاکستان ہے اور ذاتی گھر کے بجلی کے بل کی قسطیں کروا رہا ہے،دراصل سرکاری لوگوں نے ایسا وزیراعظم دیکھا ہی نہیں تھاکیونکہ یہاں تو وزیراعظم ایسی باتیں کرتے ہی نہیں تھے ، یہاں تو حکم ہی کچھ اور ہوتا تھا۔
اورسیز پاکستانیوں کو غدار اور منکرین ختم نبوت کہنے والے طاہر اشرفی کا اپنا بیٹا لندن میں تعلیم حاصل کر رہا ہے۔
غریب کے بچوں کے لیے مدرسے، جہاد اور سپہ سالار کے ایک اشارے پر جان قربان کرنے کے نعرے اور اپنے بچوں کے لیے لندن کی ڈگریاں۔
سب مل کر بولو….ڈاؤلینس لیا تو بات بنی!
عمران خان کو صحت کے حقیقی مسائل ہیں، ان کی اہلیہ کا بھی صحت کے شدید مسائل چل رہے ہیں، ان کے پارٹی لیڈرشپ سینٹر اعجاز چوہدری، ڈاکٹر یاسمین راشد اور دیگر بھی شدید بیماریوں سے گزر رہے ہیں،یاد رہے کہ یاسمین راشد اور سینٹر اعجاز چوہدری کے صحت کے بارے میں میڈیکل رپورٹس اور ان کے خاندانی ذرائع پہلے ہی تشویشناک صورتحال کا بتا چکے ہیں۔ان کا جیلوں میں بند رکھنا،انصاف کے حصول سے محروم رکھنا،علاج معالجہ کی سہولیات سے دور رکھنا یہ سیاسی انتقام ہے،
انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی ہے اور شدید قابل مذمت ہے۔
موجودہ عالمی، علاقائی صورتحال میں شاید اسٹیبلشمنٹ اور حکومت اپنی شہرت اور عالمی لیڈرشپ سے ایک پیج پر ہونے کی وجہ سے اس کی اہمیت محسوس نہیں کرتے لیکن یہ سیاسی انتقام غیرمعمولی قومی پیچیدگیوں کا باعث بنے گا۔
ملک کے مسائل کا حل سیاسی استحکام اور رول آف لاء میں ہے،
لہذا عمران خان، ان کے خاندان اور پارٹی لیڈرشپ کو غیر جانبدار انصاف کی فراہمی، صحت کی سہولیات تک رسائی دی جائے اور ان کیخلاف سیاسی انتقام کی روش بند کیجائے۔
عمران خان سے ہونے والی ملاقات اور گفتگو کے حوالے سے بیرسٹر سلمان صفدر کی سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو:
“مجھے عمران خان صاحب نے بتایا کہ:
• میں تین ماہ تک جیل سپرٹنڈنٹ (عبدالغفور انجم) کو بتاتا رہا کہ میری ایک آنکھ میں بینائی کا مسئلہ آ رہا ہے لیکن اس نے اس پر کوئی کان نہیں دھرا
• کئی دن تک میری ایک آنکھ کی بینائی 100 فیصد تک چلی گئی تھی
• مجھے ڈاکٹر عارف نے بتایا کہ انجکشن لگانے سے بینائی میں 15% بہتری آئی ہے - اس کے بعد سے میری بینائی میں کوئی بہتری نہیں آئی
• میں بالکل بھی اس علاج سے مطمئن نہیں ہوں
• میں مسلسل کہتا آیا ہوں کہ میرے ذاتی ڈاکٹرز کو بلایا جائے تاکہ پتہ چلے کہ آنکھ میں blood clot / خون کا لوتھڑا آنے کی اصل underlying reason / بنیادی وجہ کا پتہ چل سکے - لیکن مسلسل اس سے انکار کیا جا رہا ہے
• میں کافی عرصے سے اپنے ڈینٹیسٹ سے چیک اپ کا بھی کہ رہا ہوں لیکن اسے بھی نہیں بلایا گیا
• مجھے اور بشریٰ بی بی کو 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے
• بشریٰ بی بی کی بھی آنکھوں کا مسئلہ آیا اور دو ہفتے بعد وہی میڈیکل بورڈ ان کا معائنہ کرے گا جس نے میرا معائنہ کیا”
@BrSalmanSafdar@salmanAraja@BarristerGohar@MKAchakzaiPKMAP@AllamaRajaNasir@SohailAfridiISF@Aleema_KhanPK
تین سو سال سے امت ذلت دیکھ رہی تھی پھر اللہ نے ہمیں خوشی کی خبر سنائی بھی دکھائی بھی۔ ایک چھوٹے سے ملک کو دنیا کی سپر پاور سے ٹکرا کے ان کے ناک کو زمین کے ساتھ لگا دیا، ایران نے پوری امت کا قرضہ چکا دیا، ہماری پہچان نہ دیوبندی ہے نہ بریلوی ہے نہ شیعہ ہے نہ سنی، ہماری پہچان مسلم ہے۔ مولانا طارق جمیل
دانستہ غفلت اور سراسر غیر انسانی سلوک کے باعث عمران خان کی بینائی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
ہنگامی مطالبات: شفاء انٹرنیشنل ہسپتال میں فوری منتقلی، ذاتی معالجین اور اہل خانہ تک رسائی، اور علاج بابت رازداری کا خاتمہ کیا جائے۔
#SaveImranKhansEyesight
اگر عمران خان نے امریکہ کو ہوائی اڈے دینے پر absolutely not نہ کہا ہوتا تو آج ہم ثالثی کا کردار ادا نہ کر پا رہے ہوتے - تب بھی پاکستان زندہ باد تھا اور آج بھی زندہ باد ہے اور ہمیشہ زندہ باد رہے گا انشاء اللہ 🇵🇰🇵🇰❤️❤️
الحمداللّہ آج پاکستان کی عزت میں بے انتہا اضافہ ہوا، بس یہ یاد رکھئیے گا عمران خان نے ملک کی خاطر جلسہ کینسل کرنے کا کہہ دہا اور جب خان کے دور میں OIC ہو رہی تھی تب یہ کم ظرف لوگ دھمکیاں دے رہےتھے ۔۔
فرق جان کر جیو ۔۔۔