لانگ مارچ منسوخ ہو یا ملتوی، یہ اب ثانوی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ اصل مسئلہ خیبرپختونخوا کی تحریکِ انصاف حکومت کا دہشتگردی اور دہشتگردوں کی طرف رویہ اور عمل ہے۔ جس بےحسی بےتوجہی کا مظاہرہ خیبرپختونخوا حکومت کیطرف سے دہشتگردی کیخلاف اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کیجانب کیا جا رہا ہے اور جس ملی بھگت اور چشم پوشی کا مظاہرہ کےپی حکومت کیطرف سے دہشتگردوں کیلئے کیا جا رہا ہے، میں مکمل ذمہ داری سے آپ کو آگاہ کر رہی ہوں کہ مستند حکومتی ذرائع اب یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ سہیل آفریدی کی حکومت صوبے اور قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن گئی ہے ‼️‼️‼️⚠️⚠️⚠️❌❌❌
دہشتگردی کیخلاف رویے اور کردار سے ایسا نظر آتا ہے ک�� تحریکِ انصاف TTP کی B ٹیم اور TTA کی C ٹیم ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ کسی اور نے ملک کو مفلوج نہیں کیا ہوا۔ لیکن اب “آپ کے مفلوج ہونے کی باری ہے۔” انتظار کیا جائے ‼️‼️
افسوسناک بات تو یہ ہے کہ سہیل آفریدی وزیرِ اعلیٰ نہیں، بلکہ TTP کے ذیلی السوال کمانڈر زیادہ لگتے ہیں۔
نہ کےپی حکومت میں ہمت نہ حوصلہ کہ لانگ مارچ کرتے، اب تک محض سیاسی بڑھکیں ہی نظر آئیں۔ اگر سیاسی ہمت ہوتی تو لانگ مارچ لازما کیا جاتا۔
احسن اقبال کاٹوئیٹ آپکی نظرسےگزراوہ سادگی اپنانے کی بات کر رہےانکا اشارہ کس طرف تھا؟وسیم بادامی
مجھےنہیں معلوم کس طرف اشارہ تھا،پروفیسر ہیں وہ باتیں کرتےرہتے ہیں ہم انکی باتیں سنتےرہتے،اچھی باتیں تھی سب کواس پرعمل کرنا چاہیے،عظمیٰ بخاری
مریم نواز کوبھی اس بات پرعمل کرنا چاہئے،وسیم بادامی
دنیا کی یوتھ کو دیکھ کر مجھے افسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کی ایک پوری نسل یوتھیائی کلٹ میں ڈھال کر تباہ کر��ی گئی، کلٹ کا مرشد خود اخلاقیات سے عاری تھا اس نے ہماری تہزیب و روایات میں اپنی بداخلاقی ایسے گھولی کہ جس کے تریاق میں وقت لگے گا۔
وزیراعظم بھی اپنا، نائب وزیراعظم بھی اپنا، وزیرِ خارجہ بھی اپنا، پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ بھی اپنی—
بس سب کچھ گھر میں ہی رکھنا ہے۔
یہ جمہوریت ہے یا خاندانی لمیٹڈ کمپنی؟
پاکستان کی سیاست کا المیہ یہی ہے کہ اقتدار عوام میں منتقل ہونے کے بجائے خاندانوں میں تقسیم ہوتا رہتا ہے۔
#systemcollapsed