عمران خان نے اس قوم کے لیے جو کچھ سہا ہے، اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔
وہ آج بھی اپنے مؤقف پر ثابت قدم ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ان کے ساتھ کھڑے ہونے کا عزم رکھنے والے لوگ اپنے وعدے کو یاد رکھیں۔
یہ وقت اصول، حق اور جمہوری جدوجہد کے ساتھ پُرامن اور آئینی طریقے سے کھڑے ہونے کا ہے۔ 🇵🇰✊
#ImranKhan #PTI #Pakistan #عمران_خان #حقیقی_آزادی #انصاف #پاکستان
عوام کی تعداد اور جذبہ یہ واضح کر رہا ہے کہ سیاسی جدوجہد میں عوامی حمایت ایک اہم قوت ہے۔ جب لوگ اپنے حق، آئینی بالادستی اور جمہوری اصولوں کے لیے پُرامن انداز میں آواز بلند کرتے ہیں تو ان کی آواز کو نظرانداز کرنا آسان نہیں ہوتا۔ 🇵🇰✊
#عمران_خان#PTI#پاکستان_تحریک_انصاف #حقیقی_آزادی #عوام_کی_طاقت #پاکستان
مسلم لیگ (ن) اپنی قیادت کے اہم فیصلوں کے لیے شہباز شریف کی واپسی اور مشاورت کا انتظار کرتی رہی، جبکہ پیپلزپارٹی اور دیگر حکومتی رہنما بھی آصف علی زرداری سے مسلسل ملاقاتیں کرتے رہے۔
تو پھر تحریکِ انصاف سے یہ مطالبہ کیوں کہ وہ اپنے قائد عمران خان سے ملاقات اور مشاورت کے بغیر فیصلہ کرے؟
اگر قیادت سے مشاورت سیاسی جماعتوں کا جمہوری حق ہے تو یہی اصول سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔
فیصلے مشاورت سے ہوں تو اختلاف کم اور سیاسی عمل پر اعتماد زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔
ہمارا مؤقف بالکل واضح ہے: محض جزوی اقدامات یا طفلِ تسلی قابلِ قبول نہیں۔ مطالبات کی تکمیل اسی وقت سمجھی جائے گی جب خان صاحب کی رہائی کے ساتھ ان تمام افراد کی رہائی اور قانونی معاملات کا منصفانہ حل یقینی بنایا جائے جنہیں ناحق قید قرار دیا جا رہا ہے، بشمول بشریٰ بی بی، تحریکِ انصاف سے وابستہ خواتین، سینیئر قیادت، کارکنان اور ملٹری حراست میں موجود افراد۔
اس سے کم کسی بھی پیش رفت کو ہمارے بنیادی مطالبات کا مکمل حل نہیں سمجھا جائے گا۔ بات اب مبہم وعدوں کی نہیں، واضح اور عملی اقدامات کی ہے۔
بیرسٹر میاں حسن شکیل
صدر، انصاف یوتھ ونگ سینٹرل پنجاب
تمہاری خاموشی ظالم کا حوصلہ بڑھاتی ہے،
اس لیے حق اور سچ کے لیے آواز بلند کرنا ضروری ہے۔
خاموشی نہیں، شعور اور پُرامن جدوجہد ہی معاشرے میں مثبت تبدیلی لاتی ہے۔ ✊
#حق_کی_آواز#سچ#پرامن_جدوجہد#انصاف#پاکستان
اگر کسی کو لگتا ہے کہ مشکل وقت ہمیں خوفزدہ کر دے گا، تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔
ہمارا جینا مرنا پاکستان میں ہے، اور ہم اپنے قائد عمران خان کے ساتھ اپنے اصولی مؤقف پر ثابت قدم ہیں۔
ہم اپنے تمام قومی اداروں کا احترام کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پاکستان آئین، قانون اور عوامی اتحاد کے ساتھ آگے بڑھے۔
جب تک سانس میں سانس ہے، ہم اپنے قائد عمران خان کے ساتھ ہر مشکل وقت میں پُرامن، باوقار اور چٹان کی طرح کھڑے رہیں گے۔ 🇵🇰❤️
#ImranKhan #Pakistan #PTI #عمران_خان #حقیقی_آزادی #پاکستان_زندہ_باد #آئین_اور_قانون
عمران خان میں وہ صلاحیت اور خودداری ہے جو پاکستان کو اتحاد، استحکام اور خوشحالی کی طرف لے جا سکتی ہے۔
وہ آج بھی مشکل ترین حالات میں اپنے اصولوں پر قائم ہیں اور پاکستان کی خاطر قید برداشت کر رہے ہیں۔
اداروں کو بھی یہ سوچنا ہوگا کہ عوام اور اداروں کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ کیسے ختم کیا جائے۔
عمران خان ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ فوج بھی میری ہے اور ملک بھی میرا ہے۔
ہمیں ٹکراؤ نہیں، آئین، قانون اور قومی مفاد کی بنیاد پر مکالمہ اور اتحاد چاہیے۔
جب عوام اور ادارے ایک دوسرے کا اعتماد بحال کریں گے تو پاکستان بھی مضبوط ہوگا۔
آئیں اختلافات سے آگے بڑھ کر ایک خوشحال، مضبوط اور باوقار پاکستان کے لیے متحد ہوں۔ 🇵🇰
عمران خان صرف ایک سیاسی رہنما نہیں، پاکستان کا ایک قیمتی قومی سرمایہ ہیں۔
آج جب ملک مشکل او�� نازک حالات سے گزر رہا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم کو تقسیم نہیں بلکہ متحد کیا جائے، عوام اور اداروں کے درمیان فاصلے نہیں بلکہ اعتماد پیدا کیا جائے۔
عمران خان میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ عوام کو ایک مقصد پر متحد کر کے پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کی جدوجہد میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر ملک کی خاطر سیاسی قیادت، عوام اور ریاستی اداروں کو ایک دوسرے کے احترام، آئین، قانون اور قومی مفاد کے دائرے میں مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔
پاکستان کسی فرد یا جماعت سے بڑا ہے، اور پاکستان کی مضبوطی ہی ہم سب کی کامیابی ہے۔
آئیں اختلاف کو دشمنی نہیں، اصلاح اور بہتری کا ذریعہ بنائیں۔
پاکستان زندہ باد 🇵🇰
#ImranKhan #عمران_خان #Pakistan #پاکستان #RuleOfLaw #آئین_کی_بالادستی #قومی_اتحاد #عوام_اور_ادارے #پاکستان_زندہ_باد #حقیقی_آزاد
دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں، آج جو کچھ ہو رہا ہے، کیا واقعی ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں؟
گھروں کی چار دیواری پامال ہو، خاندان خوف میں مبتلا ہوں اور ماؤں، بہنوں اور بچوں کو تکلیف برداشت کرنا پڑے، تو یہ منظر کسی بھی حساس دل کو دکھ دیتا ہے۔
سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر کسی کی عزت، گھر اور خاندان کی حرمت سب کے لیے برابر ہونی چاہیے۔
آج اگر پی ٹی آئی کے کارکن اور ان کے خاندان مشکل حالات سے گزر رہے ہیں تو ہمیں اس درد کو انسانیت کی نظر سے دیکھنا چاہیے۔
کیونکہ ظلم کا کوئی سیاسی رنگ نہیں ہوتا، اور ناانصافی کبھی کسی ایک جماعت تک محدود نہیں رہتی۔
آج ہماری باری ہے تو کل کسی اور کی بھی ہو سکتی ہے۔
عام پولیس والے اور فوجیوں یہ بات ذہن میں رکھنا لاٹھی چارج کرنے سے پہلے کہ اس قوم کا مسئلہ عمران خان، نہیں مہنگائی بیروزگاری مہنگی ترین بجلی پٹرول وغیرہ بن چکا ہے اور یہ مسئلہ ان فوجیوں پولیس والوں کے بھائی بہنوں بیٹیوں کزن بہنوئی وغیرہ سب اس عذاب سے گزر رہے ہیں ان حرامخوروں حکمرانوں سے جان چھڑوانا ضروری ہوچکا ہے ورنہ یہ لوگ ہمیں خودکشیاں کرنے پر مزید مجبور کر دیں گے۔۔۔۔