شہباز شریف ہم آپ کی پیشکش کو قبول کرتے ہیں۔ 2018 الیکشن کی تحقیقات کے ساتھ ساتھ 2024 الیکشن کے فارم 47 کی بھی تحقیقات کرائی جائے۔ ہمت کریں اور آزادانہ جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان کریں۔ جیسے عمران خان نے اسمبلی کے فلور پر 2018 الیکشن کی آزادانہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی جس پیشکش سے تم بھاگ گئے تھے۔ حالانکہ 2018 الیکشن میں 35 ایسے حلقے تھے جن پر پی ٹی آئی کے امیدواروں کو پانچ سو سے کم ووٹ پر ہرایا گیا۔ 8 فروری کے الیکشن م��ں آپ کی جھوٹی اڑان کے بیانیے کو عوام نے مسترد کیا اور عمران خان کو 180 سے زائد نشستوں پر کامیاب کرایا۔ تم جعلی وزیر اعظم اور چور دروازے سے آئے ہوئے مسلط شدہ ٹولا ہو۔
چار برس میں 45 ہزار ارب کا قرضہ ،
چار برس میں 4 ہزار 3 سو ارب کی پیٹرولیم لیوی ،
مہنگی بجلی اور عوام سے ہر چیز پر بھاری ٹیکس لے کر ان کو خودکشیوں تک لانے کے بعد ستھرا پنجاب پر سینکڑوں ارب لگا کر اگر چند سڑکیں صاف کر دی ہیں تو ��ہ کوئی بڑا کارنامہ نہیں ،
کسانوں ، تاجروں ، انڈسٹری والوں ، دکانداروں ، رئیل اسٹیٹ ، کنسٹرکشن اور تنخواہ دار طبقے سے پوچھیں کہ ان پر کیا گزر رہی ہے ،
پنجاب کے ہسپتالوں میں جا کر دیکھیں کہ ہیلتھ کارڈ ختم ہونے کے بعد لوگ کیسے تڑپ رہے ہیں،
شریف خاندان کا ہمیشہ یہ طریقہ رہا ہے کہ دکھاوے والا پراجیکٹ کرو ، جن چیزوں پر پیسہ خرچ کرنا ہو وہاں نہ کرو کیونکہ ان چیزوں کے نتائج دیر سے آنے ہوتے ہیں ،
ایک بات اور، گو کہ آپ کے نظریات پرو ن لیگ ہیں لیکن آپ اپ رائٹ صحافی ہیں ، آپ کبھی پیسے لے کر کوئی ٹویٹ نہیں کر سکتے لیکن آپ کو ستھرا پنجاب پر ٹویٹ نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ پی آر فرمز نے صحافیوں سے رابطے کئے اور ستھرا پنجاب پر ٹویٹ کرنے کے اچھے خاصے پیسے آفر کیے ، ایسے میں آپ جیسے ایماندار صحافیوں کے مفت تعریفی ٹویٹس سے بھی کچھ لوگ غلط ��اثر لے سکتے ہیں کہ یہ بھی ٹویٹ پیسے لے کر نہ کیا گیا ہو ، حالانکہ آپ کبھی یہ کام نہیں کر سکتے
چار برس میں 45 ہزار ارب کا قرضہ ،
چار برس میں 4 ہزار 3 سو ارب کی پیٹرولیم لیوی ،
مہنگی بجلی اور عوام سے ہر چیز پر بھاری ٹیکس لے کر ان کو خودکشیوں تک لانے کے بعد ستھرا پنجاب پر سینکڑوں ارب لگا کر اگر چند سڑکیں صاف کر دی ہیں تو وہ کوئی بڑا کارنامہ نہیں ،
کسانوں ، تاجروں ، انڈسٹری والوں ، دکانداروں ، رئیل اسٹیٹ ، کنسٹرکشن اور تنخواہ دار طبقے سے پوچھیں کہ ان پر کیا گزر رہی ہے ،
پنجاب کے ہسپتالوں میں جا کر دیکھیں کہ ہیلتھ کارڈ ختم ہونے کے بعد ل��گ کیسے تڑپ رہے ہیں،
شریف خاندان کا ہمیشہ یہ طریقہ رہا ہے کہ دکھاوے والا پراجیکٹ کرو ، جن چیزوں پر پیسہ خرچ کرنا ہو وہاں نہ کرو کیونکہ ان چیزوں کے نتائج دیر سے آنے ہوتے ہیں ،
ایک بات اور، گو کہ آپ کے نظریات پرو ن لیگ ہیں لیکن آپ اپ رائٹ صحافی ہیں ، آپ کبھی پیسے لے کر کوئی ٹویٹ نہیں کر سکتے لیکن آپ کو ستھرا پنجاب پر ٹویٹ نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ پی آر فرمز نے صحافیوں سے رابطے کئے اور ستھرا پنجاب پر ٹویٹ کرنے کے اچھے خاصے پیسے آفر کیے ، ایسے میں آپ جیسے ایماندار صحافیوں کے مفت تعریفی ٹویٹس سے بھی کچھ لوگ غلط تاثر لے سکتے ہیں کہ یہ بھی ٹویٹ پیسے لے کر نہ کیا گیا ہو ، حالا��کہ آپ کبھی یہ کام نہیں کر سکتے
لڑکے دستیاب ہیں
اس عنوان سے سوشل میڈیا پر بہت سے گروپس اور پیجز بن چکے ہیں جہاں مختلف لڑکے مکمل سروسز کے لیے مہیا کیے جاتے ہیں۔۔ لڑکے اب طوائفوں کی جگہ لے رہے ہیں اس وقت بھی یہ نیٹ ورک آپ کی اور میری سوچ سے بہت زیادہ بڑا ہے۔۔۔
میں کئی مرتبہ آپ والدین سے گزارش کر چکا ہوں کہ اپنے کم عمر لڑکوں پر بھی اسی طرح نظر رکھیں جیسے آپ چھوٹی بچیوں پر نظر رکھتے آئے ہیں۔ سکول ، کالج اور مدارس کے ساتھ ساتھ گلی محلے میں بھی ان کی کمپنی آپ کو معلوم ہونی چاہیے۔ یعنی وہ کن لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں کھیلتے ہیں ؟ ان کے دوستوں کا تعلق کہاں سے ہے ؟ ان کی تربیت کیسی کی گئی ہے ؟ آپ کے بچوں کے سب سے قریبی دوستوں کی تمام معلومات آپ کے ��اس ہونا ضروری ہے۔۔۔
میں نے کچھ دن پہلے ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ اب لڑکیوں کی خاطر کم لیکن لڑکوں کی خاطر زیادہ جھگڑے ہوتے ہیں۔ یہ ناسور ہماری نوجوان نسل میں بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے۔۔ اس کے اثرات انتہائی خطرناک ہیں کیوں کہ اپنی ہی جنس میں دلچسپی لینے والے لڑکے کبھی اچھے شوہر ثابت نہیں ہو سکتے وہ بہترین با شعور اور انتہائی خوب صورت بیوی ملنے کے باوجود بھی اپنی پہلے والی گندگی میں رہنا پسند کرتے ہیں انہیں وہاں زیادہ لذت حاصل ہوتی ہے جس کے نتیجے میں ایک جیتی جاگتی لاش بطور بیوی ان کے ساتھ بندھی رہتی ہے جس کی ذہنی و جسمانی کسی طرح کی ضرورت پوری نہیں کی جاتی یا پھر زبردستی یہ لوگ اپنی بیوی کے ساتھ ہی یہ گندا فعل کرنا پسند کرتے ہیں ۔۔۔۔
خدارا ۔۔۔ اپنے بچوں پر نظر رکھیں۔ ان پر توجہ دیں۔ ان کے سکول آتے جاتے رہیں ٹیچرز کے ساتھ رابطے میں رہیں تاکہ ان کی ہر ایکٹیویٹی آپ تک پہنچے۔ ان کے دوستوں کا معلوم کریں چھان بین کیجیے کہ دوستوں کا انتخاب درست کیا گیا ہے یا نہیں ؟ ۔۔۔۔
معلوم کیجیے کہ آپ کا کم عمر بچہ کسی کی جنسی تسکین کا سامان تو نہیں بن رہا یا آپ کا بچہ کسی کو اپنی جنسی تسکین کا سامان تو نہیں بنا رہا ؟ ۔۔۔
آپ اپنے بیٹے کو اگر پچاس روپے دیتے ہیں تو وہ روزانہ 200 یا 300 روپے خرچ تو نہیں کر رہا ؟ ۔۔۔۔ یہ انتہائی اہم سوال ہے جس کا جواب آپ کے بیٹے اور بیٹی دونوں کی حقیقت جاننے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے...
دستر خوان سجائیں بچوں سے گفتگو کریں وقتاً فوقتاً ان کے موبائل فون چیک کرتے رہیں۔ نوالہ بھلے سونے کا کھلائیے مگر نظر شیر والی رکھیے۔ سکول فیس اور دیگر ضروریات پوری کرنے کا ی�� مطلب ہرگز نہیں ہے کہ آپ نے اپنی ذمے داری پوری کر دی ہے بلکہ اصل امتحان تو ان ذمے داریوں سے ہٹ کر شروع ہوتے ہیں۔۔۔
بچوں کی عمر کے مطابق انہیں " سیکس ایجوکیشن" دیجیے ۔ بطور ماں آپ اپنی بیٹی کی بہترین رہنمائی کر سکتی ہیں اور بطور باپ آپ اپنے بیٹے کی بہترین رہنمائی کر سکتے ہیں۔ شرم اور جھجک میں ��ت رہیں ورنہ آپ کے بچے دوسری جگہ سے غلط معلومات حاصل کریں گے اور اسے ہی درست سمجھیں گے ۔۔۔
دیر مت کریں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے ۔۔۔۔
سلامت رہیں
منقول
اس پوسٹ کا مقصد فقط اصلاح اور انفارمیشن ہے
پچھلے سال جب پنجاب حکومت نے گندم کی امدادی قیمت مقرر کرنے سے انکار کر دیا اورُکسانوں کو پنجاب کے باہر گندم بیچنے بھی نہیں دی تو میں نے خبرادرا کیا تھا کہ اگلے سال گندم کا بحران ہو گا، اب کسان سے پینتیس سو کی گندم لی گئ ہے لیکن بازار میں گندم چار ہزار پر پہنچ گئ ہے اور جلد پینتالیس سو بھی ہو گی، آٹا بحران سر پر کھڑا ہے حکومت کو کمی پوری کرنے کیلئے یوکرائن سے گندم منگوانی ہو گی جس کی قیمت پانچ چھ ہزار سے کم ہر گز نہیں ہو گی، اس ش��ندار پالیسی کے خالق اس وقت باکو میں تندوروں پر روٹیاں لگا رہے ہیں اور تالیاں بجا رہے ہیں، حیران ہوں ایسے مسخرے کیوں عوام پر مسلط کئے جاتے ہیں جو پچاس سال سے ملک کو ناکام ریاست بنانے کا فرض ادا کر رہے ہیں؟
ذوالحجہ کے یہ دس دن عام نہیں
اپنے دن کو تکبیر سے بھر دیں۔
چلتے پھرتے، کام کرتے، اٹھتے بیٹھتے:
اللّٰهُ أَكْبَرُ اللّٰهُ أَكْبَرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ
اتنا پڑھیں کہ دل گواہی دے
اللہ ہر چیز سے بڑا ہے… میری پریشانیوں سے بھی میرے خوف سے بھی میری خواہشات سے بھی۔
اور صدقہ لازمی دیں چاہے تھوڑا ہی کیوں نہ ہو
ایک مسکراہٹ ایک کھانا، کسی کی مدد، کسی کے لیے دعا…
اللہ کے نزدیک کوئی نیکی چھوٹی نہیں۔
نیکی چھپ کر کریں جسے صرف اللہ جانتا ہو
ہوسکتا ہے یہ دس دن آپ کی زندگی بدل دیں ہوسکتا ہے ایک سچی توبہ، ایک آنسو، ایک دعا… آپ کو اللہ کے بہت قریب کردے
اس لیے ان دنوں کو غفلت میں ضائع نہ کریں کیونکہ ہر کسی کو یہ مبارک دن دوبارہ نصیب نہیں ہوتے
عمران خان اور ایران خان دونوں آؤٹ آ ف سلیبس آ گئے تھے
اب یا تو انکو سلیبس کا حصہ بنا لیں یا انکے مطابق سلیبس میں ترمیم کر لیں،
اسکے علاوہ کوئ چارہ نہیں، دُنیا کو بھی چلنا ہے، اور پاکستان کو تو ہر صورت چلنا ہے
دانائ، معاملہ فہمی اور عاجزی یقیناً تکبر، انا اور بغض سے بہتر انسانی اقدار ہیں
Everyone can see horizon, few can see beyond
Stay Tuned on Conflict Resolution
Beyond The Horizon with Ahmad Jawad
آئیں ان سب پر لعنت بھیجیں۔۔۔۔۔ جب بھی آپ پیٹرول یا ڈیزل ڈلوائیں یا مئی کا بجلی کا بل ادا کریں تو ان چاروں شخصیات کے آبائو اجداد، آل اولاد ا��ر انکی بدترین گورننس کا دفاع کرنے والوں کے آبائو اجداد اور آل اولاد پر لعنت ضرور بھیجئے گا، انہیں بد دعائیں ضرور دیجئے گا۔۔۔۔
آج پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے false flag operation کو تین سال ہو چکے ہیں۔ روزِ اول سے کہہ رہا ہوں کہ یہ حملہ، فوج بشمول عاصم منیر، کی تحریکِ انصاف کے خلاف ایک سازش تھ��۔ تین سال گزر جانے کے باوجود ایک بھی ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے خود CCTV فوٹیجز غائب کیں۔
اندرونی اور بیرونی سازشوں کے باوجود آج بھی تحریکِ انصاف کا ورکر اپنی جگہ پر ڈٹا ہوا ہے، جبکہ اس کا لیڈر بہادری سے آج بھی جیل کاٹ رہا ہے۔ اس پر عمران خان اور تحریکِ انصاف خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔
جوائنٹ فیملی سسٹم اور برادری سسٹم میں بچوں کی بچپن میں منگنیوں کا رواج بہت عام ہے
یہ منگنی شدہ بچے مگر جب بالغ ہوتے ہیں
مختلف کالجوں یونیورسٹیوں میں پڑھنے جاتے ہیں
تو ان کی ترجیحات بدل جاتی ہیں
پسند اور سوچ بدل جاتی ہے
پھر کچھ المیے جنم لیتے ہیں
دو میں سے ایک فریق اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتا ہے اور ایسا ہی افسوس ناک واقعہ لودھراں میں پیش آیا جہاں ایک لڑکے نے اپنی کزن کو پارلر میں گھس کر چھری سے ذبح کر دیا
اور پھر خود کو بھی چھریاں مار لیں
اور یہ پہلا واقعہ نہیں ہے
خصوصاً پنجاب میں یہ کلچر عام ہے
پہلے بھی ایسے سینکڑوں واقعات پیش آ چکے ہیں، خود میرے سگے چچا کی جہاں شادی ہوئی اس لڑکی کے بچپن کے منگیتر نے بارات پہ حملے کی دھمکی دی تھی
اور بارات بندوقوں کے سائے میں گئی تھی
رشتے کیلئے ہاں کر کے پھر رشتہ نہ دینے کے وجہ سے کتنے ہی قتل ہو چکے ہیں
کل اوکاڑہ کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں ایک لڑکے کو سزائے موت سنائی گئی
اس کا بھی یہی جرم تھا
ہمیں عائلی قوانین میں لازمی تبدیلیاں کرنا ہوں گی، یہ بچپن کی منگنیوں اور نکاح کا سلسلہ ختم کرنا ہو گا
بالغ ہونے کے بعد والدین کی رضامندی کے ساتھ ساتھ لڑکے اور لڑکی کی پسند کو بھی اہمیت دینا ہو گی
امریکہ و یورپ و عرب ممالک میں کبھی نہیں سنا کہ اس قسم کا کوئی واقعہ پیش آیا ہو
اور ہمارے ہاں ایسے واقعات تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے ؟؟
#پاکستان
“The judges in this country should be ashamed of themselves. Time and time again we have gone to the judiciary. But they have sold their souls for their paid personal privileges. They have sold their integrity. They know they cannot break me, so they turn to my wife. How they can allow this inhumane treatment to Bushra BiBi, simply to blackmail me. She spends 24 hours a day in isolation, except for 30 minutes with me per week - and even that is often ignored. It is unislamic to harm women, children and the elderly - and their motives are plain and clear. The judges are responsible for the justice in a society. They should be ashamed of themselves.”
Illegally Incarcerated Former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, speaking to his sons on phone from Adiala Jail - (March 21, 2026)
Yesterday I spoke to my father. He asked me to relay the following message:
“The judges in this country should be ashamed of themselves. Time and time again we have gone to the judiciary. But they have sold their souls for their paid personal privileges. They have sold their integrity. They know they cannot break me, so they turn to my wife. How they can allow this inhumane treatment to Bushra BiBi, simply to blackmail me. She spends 24 hours a day in isolation, except for 30 minutes with me per week - and even that is often ignored. It is unislamic to harm women, children and the elderly - and their motives are plain and clear. The judges are responsible for the justice in a society. They should be ashamed of themselves.”
اصلی اور نسلی لوگ ایسے ہوتے ہیں :
صوبہ پنجاب کے ایک گاؤں کا سچا واقعہ ۔۔۔
یہ نوجوان 7 سال پردیس میں کمائی کرکے واپس آیا تو دیکھا انکی آبائی حویلی کے درمیان اب ایک دیوار بن چکی تھی ، یعنی اسکے پیارے چاچو کا گھر علیحدہ ہو چکا تھا ،
نوجوان نے خاموشی سے اس دیوار کی وجہ جاننے کی کوشش کی ، پہلے اپنے چچا سے پوچھا تو انہوں نے بتایا یہ دیوار میری مرضی یا خواہش سے نہیں بنی ، آپ کی والد�� نے ضد کرکے بنوائی ہے ۔
پھر اس نوجوان نے اپنی والدہ سے بات کی ، باتوں سے اسے یقین ہو گیا کہ والدہ کو اب اسکی غیر ملکی کمائی اور خوشحالی کا بہت ناز ہے ۔۔۔۔
معاملے کی تسلی کرکے ایک روز دوپہر کے وقت اس نوجوان نے ٹریکٹر سٹارٹ کیا اور حویلی یعنی دو بھائیوں کو علیحدہ کرنے والی دیوار گرا دی ، اس نوجوان نے پھر ٹریکٹر اس دیوار والی جگہ پر کھڑا کیا اور کہا ، چاچو: یہ ٹریکٹر آپ کا اور ہمارا سانجھا ہے جب کام کے لیے لے جانا ہو لے جائیں اور واپس اسی جگہ لا کر کھڑا کریں ، جب مجھےیا میرے والد کو ضرورت ہو گی ہم بھی ضرورت پوری کرکے یہیں کھڑا کریں گے ، جب آپ کا بیٹا بڑا ہو جائے گا اور می�� اسے اپنے ساتھ باہر لے جاؤنگا اور وہ کمانا شروع کردے گا تو پھر چاہے آپ دیوار کھڑی کر لیجیے گا ، ابھی میری غیرت گوارا نہیں کرتی کہ میرا وہ چچا آنکھوں سے اوجھل ہو جو مجھے کندھوں پر بٹھا کر کھیتوں میں لے جاتا تھا اور ٹریکٹر پر ساتھ بٹھا کر ہل چلاتا تھا، میرے چچا کے بیٹے اور بیٹیوں کو میں اپنے سامنے دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔اگر کسی کو میرا یہ فیصلہ قبول نہیں تو پھر اب کا گیا میں دوبارہ اس دیوار والی حویلی میں کبھی واپس نہیں آؤنگا ، کہ جہاں رشتوں کی قدر نہ ہو وہ گھر گھر نہیں مکان ہوتا ہے اور مکان تو پردیس میں بہت ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
@iqrarulhassan@farhaniqbal499 Tum waqie hi candidate ni ho tm aik khalis harami insan ho jo sirf Imran Khan pa bbokney k liye launch kiye gye ho. Bc harami