گلگت بلتستان میں کپتان کی مقبولیت کو دیکھ کر حکومت بمعہ ہینڈلرز پر لہراتے خوف کے سائے !
پی ٹی آئی کے حلقہ 2 کے امیدوار عتیق پیرزادہ کے جٹیال میں واقع آبائی گھر کا پولیس کی بھاری نفری نے محاصرہ کر لیا ہے، تین سال تک ملک پر غنڈہ گردی اور دہشت گردی کے بعد بھی اگر الیکشن جیتنے کے لئیے یہ جتن کرنے پڑیں تو پھر سرکار آپ ہار مان لیں ۔
#خان_کے_سائے_سے_بھی_خوف
#گلگت_بلتستان_کپتان_کا
“پاڑہ چنار میں دہشتگردی / ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں قیمتی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔
پاکستان کی سیکیورٹی ایجنسیز جن کا ��ام شہریوں کو دہشتگردی سے بچانا ہے انہیں مسلسل ڈھائی سال سے سیاسی انتقام لینے پر لگایا گیا ہے ۔ پولیس اور فوجی جوان روزانہ شہید ہو رہے ہیں لیکن سیکیورٹی اداروں کی توجہ تحریک انصاف کو کچلنے پر مرکوز ہے جس کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال روز بروز بگڑتی جا رہی ہے اور دہشتگردی کا مسئلہ دوبارہ سر اٹھا چکا ہے- پولیس کے آئی جیز بھی میرٹ کی بجائے سیاسی بنیادوں پر لگائے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے پولیسنگ سسٹم بھی تباہ ہو چکا ہے-
میرا اسٹیبلشمنٹ اور جعلی حکومت کو پیغام ہے کہ دہشتگردی کا معاملہ صرف عسکری آپریشنز سے حل ہونے والا نہیں ہے یہ ایک حساس مسئلہ ہے جس کے لیے سیاسی حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے، مگر یہاں کسی کے پاس کوئی ایسی موثر حکمت عملی موجود نہیں جس سے اس مسئلے کا خاتمہ کیا جا سکے۔ جعلی حکومت کی نا اہلی اس معاملے بھی سر چڑھ کر بول رہی ہے۔
سوچنا چاہے کہ جب افغانستان میں پاکستان مخالف حکومت تھی تو اتنی دہشت گردی کیوں نہیں ہو رہی تھی جتنے پچھلے دو سال سے ہو رہی ہے؟ دہشتگردی کے خلاف اور مغربی سرحد کو ��نٹرول کرنے کے لیے تحریک انصاف کے پاس پورا ایکشن پلان موجود ہے ۔ اگر ہم حکومت میں دوبارہ آتے ہیں تو اس مسئلے کا حل نکالنا ممکن ہے۔“
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں دہشتگردی کے مسئلے پر گفتگو
“November 24th is the day to break free from slavery. The rule of law, constitution, and human rights are suspended in Pakistan, forcing the nation to come out to protest and make sacrifices. The nation must decide whether to wear the yoke of slavery like Bahadur Shah Zafar or to adorn the crown of freedom like Tipu Sultan.
I have excellent relations with Saudi Arabia. When I was attacked in Wazirabad, one of the first calls I received was, through the embassy, from HRH Crown Prince Mohammed bin Salman. Saudi Arabia has always stood by us in difficult times.
Only two weeks prior to our government being toppled, we held a very successful OIC foreign minister's conference in Islamabad, which would have been impossible to do had Saudia Arabia not supported and stood with us.
Bushra Bibi's statement was deliberately taken out of context to draw our brotherly country KSA into a needless controversy. She didn't mention Saudi Arabia at all.
My government was toppled through conspiracies, all orchestrated by General Bajwa. I tried to have these investigated through the Chief Justice and General Tariq Khan, but General Bajwa did not allow that to happen.
Bushra Bibi has no connection with politics; she only conveyed my message to the nation, as my wife, regarding the November 24th protest.
The nation should focus on the November 24th protest. God willing, you will emerge victorious.” - Message of Former Prime Minister Imran Khan from Adiala Jail
With the complete nonexistence of democracy, rule of law, and human rights, Pakistan stands at a critical crossroads today. I appeal to all Pakistanis to rise to the occasion— not only by reaching Islamabad in overwhelming numbers on November 24th, but also by lending your financial support to this cause.
To my overseas Pakistanis; make generous contributions to support the struggle for genuine freedom, rule of law, and the return of stolen mandate in Pakistan.
Click on the link to contribute now:
https://t.co/nxcBmL15xH
https://t.co/FI4Z8qI2RF
آج توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے عمران خان کی ضمانت ہو گئی تو عمران خان کو مزید اندر رکھنے کے لیے ریاست کو 9 مئی طرز کے کمزور ترین مقدمے کا سہارا لینا پڑے گا یعنی زیادہ فسطائیت اور زیادہ شرمندگی ۔
Former Prime Minister, Imran Khan’s discourse with his lawyers and representatives of the media:
(November 19, 2024)
We have three demands:
Revocation of the 26th Amendment and restoration of the Constitution
Return of the stolen mandate
Release of political prisoners
The protest on November 24 will neither be postponed nor canceled.
Ali Amin Gandapur and Barrister Gohar briefed me about the preparations for the protest today. My directives for party officials, members of Parliaments (National and Provincial), ticket-holders, party members and supporters are to plan comprehensively for the protest, and to prepare the people of their constituencies and regions by providing them with thorough details for a zealous, but peaceful protest.
We are always ready for negotiations in the best interests of the country. A leadership committee was formed on the same day the call for protest was given. Whenever negotiations are held, with whomever they are held, our leadership committee will negotiate with whoever the handlers put forward based on our three demands. What could be better than resolving issues through negotiations?!
Ideology based politics has returned to the country after many decades. Ideological politics was buried in 1985 when elections were held on non-party basis. Since then the politics of money began. Politics without the involvement of political parties commenced, and members of assemblies were given “developmental funds” (leading to corruption). PTI emerged as an ideological political party following the February 8 (2024) elections. People voted for party ticket and ideology. The end of the politics of electables is a welcome development. PTI ticket holders won because this is a struggle for upholding an ideology. I am in jail myself, because of upholding my ideology.
Had Dr. Yasmin Rashid given a statement (denouncing PTI), she too would have come out of prison like Andleeb Abbas. Shah Mahmood Qureshi could have been released from prison if he had given just one statement (against Imran Khan). Our workers and leaders including Omar Sarfaraz Cheema, Ejaz Chaudhary and Mian Mahmood Ur Rasheed could have chosen the easy path, but they refused to compromise on ideology. Now we have become a revolutionary party. Only a revolution can bring the country out of the current quagmire of challenges.
Anyone who does not come out (to protest) on November 24 will be considered not to be a part of the party. No matter how long anyone has been in the party, they will have no place in the party if they choose not to participate in the protest. This protest is a test for the party as well as the party leadership. The protest will continue in Islamabad until our demands are met!
“اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
غلامی کی زندگی سے موت بہتر ہے ۔ میں پہلے صرف تحریک انصاف سے منسلک افراد کو احتجاج کی کال دیتا رہا ہوں مگر 8 فروری کے بعد اس ملک میں جمہوریت کے تابوت میں جو آخری کھیل ٹھونکا گیا ہے اسکے بعد پوری قوم کا فرض ہے کہ وہ اس ظلم کے خلاف باہر نکلیں۔ جس طرح آپ لوگ 8 فروری کو ہر مشکل کے باوجود اپنے ووٹ کی طاقت کا مظاہرہ کرنے باہر نکلے تھے اسی جذبے سے 24 نومبر کو بھی نکلیں ۔
ملک میں اس وقت جمہوریت کے بنیادی ستون :قانون کی حکمرانی، صاف و شفاف انتخابات اور آزادی اظہار رائے تینوں معطل ہیں ۔ میڈیا پر سنسرشپ نافذ ہے، میرے بیانات نشر کرنے پر مکمل طور پر پابندی عائد ہے، اس کے علاوہ میڈیا ہر طرح سے پابندی کا شکار ہے، عوام کی زبان بندی کے لیے انٹرنیٹ میں بار بار خلل اندازی سے اس سال ملک کو 550 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے اور اخبارات کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ کی کارکردگی صرف 27 فیصد تک محدود ہو چکی ہے۔ یہ سب گھناونے اقدامات صرف اس لیے اٹھائے جا رہے ہیں تا کہ کسی طرح تحریک انصاف کو کچلا جا سکے اور تحریک انصاف کی آواز دبائی جا سکے ۔
شہباز گل سے لیکر انتظار پنجوتھہ تک تحریک انصاف کے کارکنان کے ساتھ جبری گمشدگیوں، فسطائیت اور تشدد کا ایک پورا سلسلہ ہے جس میں ابھی تک کسی کو انصاف نہیں ملا۔ پنجاب حکومت اور پولیس یہ کہہ کر جان چھڑا لیتی ہے کہ ہمیں ایسا کرنے کو فوج کہہ رہی ہے۔ فوج ایک قومی ادارہ ہے، یہ کسی ایک شخص یا پارٹی کی نہیں اور ان واقعات سے ہمارے قومی سلامتی کے ادارے کی بدنامی ہو رہی ہے۔
تحریک انصاف ہر طرح کے مشکل وقت کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہے اور ��ب بھی تیار ہے۔ تحریک انصاف بیرونی مداخلت کے خلاف کھڑی ہوئی جو ڈونلڈ لو اور جنرل باجوہ کی ملی بھگت تھی۔ جس کے بعد بوگس انتخابات کروا کہ بوگس اسمبلیاں تخلیق کی گئیں جنھوں نے عدلیہ کی آزادی پر حملہ کیا اور جمہوریت کا وجود ، آزاد عدلیہ کے بغیر ممکن ہی نہیں
میں ملک کے لیے ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار رہا ہوں ۔ نگران حکومت سے جب بھی مذاکرات کی بات کی انھوں نے اسکا جواب فسطائیت سے دیا ہمارے لوگوں کو جیلوں میں ڈالا۔ سٹالن کی آمریت میں بھی ایسا جبر نہیں ہوا جیسا رجیم چینج کے بعد کے دورانیے میں تحریک انصاف کے ساتھ ہو رہا ہے ۔ ہم نے جب وقت پر انتخابات کا کہا تو انھوں نے نواز شریف اور قاضی فائز عیسی کے آنے کا انتظار کیا ۔ یہ کونسی جمہوریت ہے جس میں بر وقت انتخابات کو من پسند افراد کے لیے معطل کر دیا جائے اسلیے مذاکرات کا نہ ہونا ہماری نہیں انکی غلطی ہے ۔
24 نومبر کو احتجاج میں شامل ہونا سب پر لازم ہے ۔ اگر تحریک انصاف کا کوئی بھی رہنم�� یا ٹکٹ ہولڈر احتجاج میں شرکت کو یقینی نہیں بنا سکتا تو اسے جماعت سے لاتعلقی کر لینی چاہیے کیونکہ یہ فیصلہ کن وقت ہے جب پوری قوم آزادی کے لیے نکلے گی اور اس موقع پر کسی قسم کا عذر قوم کے لیے قابل برداشت نہیں ہو سکتا ۔
یہ موقع پاکستان کو حقیقی آزادی دلانے کا ہے ۔ غلام قومیں تو اپنی موت آپ مر جاتی ہیں اسی لیے ہمیں بحیثیت ��وم موت کو غلامی پر ترجیح دینی ہو گی۔ لہذا 24 نومبر کی کال صرف تحریک انصاف کے لیے نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے ہے۔
بیرون ملک مقیم پاکستانی تو آزادی اور جمہوریت کا مطلب بہت بہتر سمجھ سکتے ہیں جتنا وہ لوگ اپنے ممالک میں آزاد ہیں ویسی آزادی کا مطالبہ اپنے ہم وطن پاکستانیوں کے لیے بھی کریں ۔ اوورسیز پاکستانی بھی اپنے اپنے ملک میں احتجاج ریکارڈ کروائیں اور تحریک انصاف کی فنڈنگ میں بھی بھرپور حصہ لیں-“
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے قوم کے نام پیغام
“ہمارے تین مطالبات ہیں:
26ویں آئینی ترمیم کا خاتمہ اور آئین کی بحالی
مینڈیٹ کی واپسی
تمام بےگناہ سیاسی قیدیوں کی رہائی
24 نومبر کا احتجاج نہ مؤخر ہو گا نہ معطل ہو گا-
آج علی امین گنڈا پور اور بیرسٹر گوہر نے احتجاج کی تیاریوں پر بریفنگ دی- میں اپنے پارٹی ��ہدیداران، ممبران اسمبلی، ٹکٹ ہولڈرز، ورکرز اور سپورٹرز کو یہ ہدایت کرتا ہوں کہ احتجاج کی جامع منصوبہ بندی کریں اور اپنے حلقے اور علاقے کے لوگوں کو اس کے حوالے سے مکمل آگہی دے کر ایک بھرپور لیکن پرامن احتجاج کے لیے تیار کریں۔
ہم ملک کی خاطر ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں- جس دن احتجاج کی کال دی تھی اسی دن لیڈرشپ کمیٹی بھی تشکیل دے دی تھی- مذاکرات جب کرنے ہونگے جس سے بھی کرنے ہوں گے، ہینڈلرز جس کسی کو آگے کریں گے ہماری لیڈرشپ کمیٹی ان سے ہمارے تین مطالبات کے مطابق مذاکرات کرے گی- اگر مسائل مذاکرات سے حل ہوتے ہیں تو اسے اچھی بات کیا ہوسکتی ہے!!
ملک میں کئی دہائیوں بعد نظریاتی سیاست واپس آگئی ہے- 1985 میں غیر جماعتی انتخابات کراکے نظریاتی سیاست کا جنازہ نکالا گیا تھا اور تب سے سیاست میں پیسہ چلنا شروع ہوا، غیر جماعتی بنیادوں پر سیاست ہوئی اور ممبران اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز ملنے شروع ہوئے- 8 فروری کے بعد تحریک انصاف بطورِ نظریاتی جماعت ابھر کر سامنے آئی ہے- لوگوں نے پارٹی ٹکٹ اور نظریے کو ووٹ دیا ہے- الیکٹیبلز کی سیاست ختم ہونا خوش آئند بات ہے- تحریک انصاف کے تمام لوگ پارٹی ٹکٹ پر جیتے ہیں کیونکہ یہ نظریے کی لڑائی تھی- میں خود بھی نظریے کی وجہ سے جیل میں ہوں-
ڈاکٹر یاسمین راشد ایک بیان دیتیں تو وہ بھی عندلیب عباس کی طرح باہر آ جاتیں، شاہ محمود قریشی ایک بیان دیتے تو وہ بھی باہر آ سکتے تھے، عمر سرفراز چیمہ، اعجاز چوہدری اور میاں محمود الرشید سمیت ہمارے لیڈرز اور کارکنان بھی آسان راستے کا انتخاب کر سکتے تھے لیکن انہوں نے نظریے کا سودا کرنے سے انکار کیا- اب ہماری جماعت انقلابی جماعت بن چکی ہے، انقلاب ہی ملک کو مسائل اور دلدل سے نکال سکتا ہے-
24 نومبر کو جو باہر نہ نکلا وہ پارٹی سے باہر ہو جائے گا، پارٹی میں چاہے کوئی کتنا بھی پرانا ہو، باہر نہ نکلا تو اسکی پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہوگی- یہ احتجاج ٹیسٹ ہے پارٹی اور پارٹی لیڈرز کیلئے- مطالبات کی منظوری تک احتجاج اسلام آباد سے واپس نہیں جائے گا!“
سابق وزیراعظم عمران خان کی اپنے وکلأ اور صحافیوں سے گفتگو
Once again on behalf of the people of Pakistan I would like to thank @KimJohnsonMP and all the other honourable members of Parliment & the House Of Lords who signed the letter raising grave concerns about Imran Khan’s illegal incarceration and the lack of human rights currently in Pakistan.
Thank you Foreign Secretary @DavidLammy for the reply and addressing the letter. The people of Pakistan are truly suffering in unimaginable ways due to the actions of a tyrannical unelected government. Respect for free and fair elections, and the rule of law, underpinned by an independent judiciary, are the bedrock of a democracy. Pakistanis continue to struggle for theirs.
"ایک سال مجھے اور میری اہلیہ کو جیل میں رکھنے کے بعد ہائی کورٹ میں پراسیکیوٹر جنرل نے خود اعتراف کر لیا ہے کہ توشہ خانہ کیس میں مس ٹرائل ہوا اور اس دوران انصاف کے تقاضوں کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ یہ اعتراف ریاست پر قابض مافیا کی جانب سے نیب کے ذریعے سیاسی انتقام کا اعتراف اور ہمارے نظام انصاف پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اس اعتراف کے بعد میں چئیرمین نیب، پراسیکیوٹر جنرل اور تفتیشی افسران ��ور متعلقہ ججز کے استعفوں کا مطالبہ کرتا ہوں۔ قابض مافیا کی ایما پر ملک کے مقبول ترین لیڈر کے مِس ٹرائل پر ان کے خلاف تادیبی کاروائی ہونی چاہیے۔
مجھے 5 جھوٹے کیسز میں ایسے ہی مضحکہ خیز انداز میں سزائیں دلوائی گئیں اور مزید 2 جھوٹے ٹرائل اسی سپیڈ سے چلائے جا رہے ہیں تاکہ مجھے حقیقی آزادی کی تحریک سے پیچھے ہٹا سکیں لیکن میں اپنے خون کے آخری قطرے تک پاکستانیوں کی حقیقی آزادی کی جنگ جاری رکھوں گا!
26ویں آئینی ترمیم کے بعد سے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کو کینگرو کورٹس بنا دیا گیا ہے، اور اب ان کی حیثیت سرکاری م��کموں سے زیادہ نہیں رہی۔ عدلیہ کی طاقت کو سلب کر لینے سے ملک میں انصاف کا نظام جو پہلے ہی مخدوش تھا، بالکل ٹھپ ہو جائے گا۔ کہا جاتا ہے جمہوریت خطرے میں ہے، ملک میں جمہوریت ہے کہاں؟ جمہوریت کا مطلب تو آزادی، قانون کی حاکمیت اور انصاف کی آزادانہ فراہمی ہوتا ہے۔ ملک میں جمہوریت کا قتل کر دیا گیا ہے۔
ملک کو بنانا ریپبلک بنا دیا گیا ہے-
اسی لیے پاکستانی قوم کو کال دے رہا ہوں کہ یہی وقت ہے، 24 نومبر کو نہ صرف خود نکلیں بلکہ ہر فرد ذمہ داری لے کر لوگوں کو بڑے پیمانے پر متحرک کرنے کی تحریک چلائے۔ اس تحریک سے حقیقی آزادی کا خواب پورا ہو گا ورنہ زندگی بھر کی غلامی قوم کا مقدر ب�� جائے گی۔
اب نہیں تو کب؟ ہم نہیں تو کون؟"
سابق وزیراعظم عمران خان کا پیغام
A special message for students and the youth from former Prime Minister Imran Khan
(November 14, 2024)
Thousands of our young people have to leave the country and go abroad to find employment. But how many of our youth can go abroad? Not everyone can get a visa nor does everyone have the resources to do so.
There is no democracy in our country anymore. There is no rule of law. The judiciary has been taken over. If you want your rights, a bright future, and genuine freedom, you have no choice but to stand up against this bogus system.
All young people, especially students should come out for their rights with us on November 24 because the future of the youth in Pakistan is now in grave danger.
My instructions for the young leaders of Insaf Students Federation and Insaf Youth Wing are to work on growing membership in colleges and universities in their respective regions, and to mobilize students and our youth for a movement for the genuine freedom of Pakistanis.
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے طلباء و طالبات اور نوجوانوں کے لیے خاص پیغام:
“ہزاروں نوجوانوں کو ہر ماہ روزگار ڈھونڈنے کے لیے ملک چھوڑ کر جانا پڑ رہاہے، لیکن کتنے نوجوان باہر جا سکیں گے؟ سب کو تو ویزا نہیں مل سکتا نا ہی سب کے پاس اتنے وسائل ہیں-
ملک میں جمہوریت ختم ہو گئی ہے، Rule of Law بالکل نہیں رہا، انہوں نے اب عدلیہ کو بھی ٹیک اوور کر لیا ہے، اس لیے اگر آپ نے اپنے مستقبل کے لیے، اپنے حقوق کے لیے اور اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کرنی ہے تو آپ کے پاس اس بوگس نظام کے خلاف کھڑے ہونے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے-
24 نومبر کو تمام نوجوان خصوصاً طلبأ و طالبات اپنے حقوق کے لیے ہمارے ساتھ نکلیں کیونکہ اب اس ملک میں نوجوانوں کا مستقبل شدید خطرے میں ہے-“