الحمدللہ! تمام پاکستانیوں کی خوشی دیکھ کر جو خوشی دل میں ہے اس وقت، پتہ نہیں کیسے اس کو لفظوں میں بیان کیا جا سکتا ہے۔
آپ سب کو دل سے سلام! سب اتنے بڑے ہیروز ہو آپ، شاید اس کا اندازہ آنے والے کچھ سالوں میں ہو۔
اللہ الحق ہے!
#ہر_دل_سے_دعا_خان_کے_نام
@ammarmasood3 ذرا سمجھیں یہ ٹاؤٹ کیسے کام کرتے ہیں پہلے یہ اپنا زمیر بیچتے ہیں پھر اپنے اور رشتہ داروں کے لیے بڑی بڑی مراعات لیتے ہیں اور بے غیرتی سے جھوٹ بولتے ہیں اور اپنے آقاوں کے کہنے پہ جھوٹا بیانیہ بنانے کی کوشش اور پھر ایک عام سا نوجوان فیکٹ اینڈ فگرزکے ساتھ انکا بیانیہ واڑ دیتا ہے
میں اب صحافی نہیں رہنا چاہتی۔ صرف اس لیے کہ مجھے یہ محسوس ہوا کہ مسئلہ یہ نہیں کہ ہم نظر نہیں آتے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ دنیا ہمیں دیکھنا ہی نہیں چاہتی۔ دوسال کی ایسی نسل کشی کے بعد جو ہر جگہ واضح طور پر دکھائی دے رہی تھی، جب میڈیا ادارے غزہ میں ہونے والے واقعات سے دانستہ آنکھیں چراتے رہے اور اپنے الفاظ استعمال کرتے رہے۔ مثال کے طور پر بچوں کو ’بچے‘ کہنے کے بجائے ’نوجوان‘ یا ’افراد‘ کہنا وغیرہ۔ محض دکھائی دینا عمل کو جنم نہیں دیتا، یہ اس لیے نہیں کہ لوگوں نے ہمارے ساتھ ہمدردی نہیں کی، بہت سے لوگوں نے کی، آپ جیسے لوگوں نے بھی، لیکن اصل مسئلہ حکومتوں کا تھا۔ میڈیا نے ایسا کردار ادا کیا جیسے وہ سیاسی پارٹنر ہو اور سیاسی نظاموں کی تکمیل کر رہا ہو اور میں نے یہ جان لیا کہ حقیقی جمہوریت کہیں موجود نہیں، دنیا بھر کی حکومتیں ایک جیسی ہیں، چاہے وہ گلوبل ساؤتھ میں ہوں یا گلوبل نارتھ میں لیکن فرق صرف یہ ہے کہ گلوبل ساؤتھ میں آمریت کھل کر سامنے ہوتی ہے جبکہ گلوبل نارتھ میں آمریت کو جمہوریت کے نام سے پیش کیا جاتا ہے۔ وہ فخر کرتے ہیں کہ ہمارے پاس جمہوری نظام ہے، ہمارے پاس انتخابات ہیں لیکن وہ ان گروہِ عوام کی آواز کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو ہر ہفتے سڑکوں پر احتجاج کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر برطانیہ میں اور تب مجھے احساس ہوا کہ صرف صحافی ہونا بے معنی ہے لیکن اس کے باوجود میں انسان پر یقین رکھتی ہوں، میں اب بھی انسانیت پر یقین رکھتی ہوں کہ انسانیت ہی کو رہنمائی کرنی چاہیے اور غالب آنا چاہیے، اسی لیے ہم آج یہاں موجود ہیں تاکہ خود کو تعلیم دیں اور اپنے بچوں کو تعلیم دیں، نہ صرف اس بارے میں کہ فلسطین کیسے آزاد ہوگا کیونکہ فلسطین ضرور آزاد ہوگا، شاید آج نہیں شاید کل نہیں لیکن یقیناً کسی دن۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو یہ سکھائیں کہ پوری دنیا فلسطین کی طرح کیسے آزاد ہو سکتی ہے
قابل فخر ہمارا لیڈر عمران خان ❤
جو رب حضرت یوسف علیہ السلام کا ہے
وہی رب عمران خان کا بھی ہے
اس وڈیو کا ایک ایک لفظ سننے والا ہے ۔۔۔
یہ یہ سبق آموز وڈیو ہر ٹائم لائن پہ ہونی چاہیے۔۔۔۔