جب افغان انٹیلیجینس نے پشاور میں بچوں کو سکول بس سمیت اغوا کر لیا
20 فروری 1994 کو افغان شہریوں کی جانب سے پشاور ماڈل اسکول کی بس ہائی جیکنگ کی کہانی اور پاک فوج کے ایس ایس جی کمانڈوز کی جراتمندانہ کارروائی کی کہانی
20 فروری 1994 کو 70 سے زائد طلبہ اور اساتذہ پر مشتمل پشاور ماڈل کی ��سکول بس کو تین نقاب پوش مسلح افغان شہریوں نے اغوا کر لیا تھا۔
۔ صرف 20 سیکنڈ میں مغویوں کو بحفاظت بازیاب کروا لیا گیا اور 40 گھنٹے طویل ہائی جیکنگ ختم ہو گئی۔
یہ آپریشن ایس ایس جی کے انسداد دہشت گردی یونٹ کی نمایاں کامیابیوں میں سے ایک تھا۔ یہ بہادر کمانڈوز پاکستان کی حفاظت کی اصل علامت ہیں۔
اللہ ان ہیروز کو سلامت رکھے۔ آمین
پاک آرمی زندہ باد
پاکستان ہمیشہ پائندہ باد
فیلڈ مارشل عاصم منیر ہماری ریڈ لائن ہیں۔ ان کا نام لے کر ان کے خلاف لکھنا ملک دشمنی ہے۔ پوری قوم فیلڈ مارشل کے ساتھ کھڑی ہے۔ حکومت عمران خان کا ایکس اکا ؤ نٹ بند کرنے کےلیےہر راستہ اپنائے گی۔ وزیرمملکت کھیل داس کوہستانی
The development of Balochistan is linked to the overall prosperity of Pakistan. Providing electricity and roads to remote populations is a major problem. Without a strong road network, the development of education and industry is not possible.
یہ کہانی کسی ایک جنگ کی نہیں، یہ اُس عزم و حوصلے کی داستان ہے جو چار دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جاری ہے۔
ہر شہید کے پیچھے ایک ماں ہے جو اب بھی انتظار کرتی ہے، ایک باپ ہے جو فخر کے آنسو بہاتا ہے، ایک بیوی ہے جو ہر صبح اُس کے لیے دعا کرتی ہے۔
روز کوئی نہ کوئی جوان اس وطن کی مٹی کو اپنے خون سے رنگین کرتا ہے، اور یہی وہ لوگ ہیں جن کی بدولت پاکستان آج بھی محفوظ ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں جو نہ تعریف چاہتے ہیں نہ پہچان — صرف ایک مقصد رکھتے ہیں: پاکستان کی حفاظت۔
جو قوم اپنے محافظوں پر یقین کھو دے، وہ اپنی آزادی کا احساس بھی کھو دیتی ہے۔
یہ وطن ان قربانیوں پر قائم ہے، ان ماؤں کے صبر پر، ان بیواؤں کے حوصلے پر، اور اُن جوانوں کے لہو پر جو آج بھی دشمن کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں۔
@OfficialDGISPR
@SMtvGlobal
@usmanlucky872
https://t.co/rki2Bb41ah
قبلہ حکیم رانا صاحب کی پھکی فوری آرام میں مدد دیتی ھے۔ اصل میں اس بےوقوف کو پتہ نہیں کہ وزیر اعلیٰ کے منصب کا مطلب کیا ہے ؟ یہ تو سڑک چھاپ نشہ بیچنے والا غنڈہ اور نیازی غدار کے ایجینڈے پر لایا گیا ھے لیکن یہ ضرورت سے زیادہ ری ایکٹ کر رھا ھے انشاء اللہ جلدی اوقات میں ا جائے گا ۔
سابق سی آئی اے کاونٹر ٹیرر اسٹیشن چیف اسلام آباد جان کریاکو کا دھماکہ خیز انکشاف عمران خان نے امریکہ پر الزام لگانے سے پہلے امریکی سفیر سے رابطہ کیا اور کہا میں مشکل میں ہوں اور تمام الزام امریکہ پر لگاؤں گا امریکی سفیر نے کہا ہم پر ہر الزام لگتا آپ بھی لگا لو
گرفتاری کے بعد عمران خان نے امریکیوں کو پیغام بھیجا "خدارا مجھے بچائیں" تو امریکی اسٹیبلشمنٹ نے جمائما گولڈ اسمتھ کو پاکستان رابطہ کرنے کو کہا ��اکستان میں بھی جمائما کی سفارش مسترد کر دی گئی.
اندازہ کریں عمران نے کیسے پوری قوم کو چونا لگایا
کہاں گئے وہ لوگ جو بولتے تھے کہ ڈاکٹر اسرار اور حکیم سعید نے غلط بولا تھا؟
آج وہ شخص جس نے CIA کے سب راز کھولے اور دو سال امریکی جیل میں رہا، وہ بھی عمران نیازی کی حقیقت پاکستانی قوم کے سامنے رکھ چکا ہے
اب یہ لوگ واضح گواہی بھی اسلئے نہیں مان رہے کیونکہ اندھے مقلدین ہیں
*وزیرِ اعظم کا کردار ریاست کے باپ جیسا ہوتا ہے*
خادم پاکستان شہباز شریف @CMShehbaz کا اسسٹنٹ کمشنر کھچی، بلوچستان عائشہ زہری کو سیلاب زدگان کی بہترین امداد کے لئے کام پر شفقت اور سر پر پیار دیا اور ان کے کام کو سراہا
ایسے خادم قوم کا فخر ہوتے ہیں
علی پور مظفرگڑھ کی بنگلہ دیشی خاتون کی کہانی دل کو تڑپا دیتی ہے۔ شوہر پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو گئے تھے، اور اب سیلاب نے اس کا اکلوتا بیٹا بھی چھین لیا۔ وہ بے سہارا ماں ویرانے میں بیٹے کی یاد میں تڑپ رہی ہے، آنسو رکنے کا نام نہیں لیتے۔
یہ ویڈیو دیکھ کر دل رو پڑتا ہے — ایک ماں کا ایسا درد جو لفظوں سے نہیں، صرف آنسوؤں سے بیان ہوتا ہے۔
@hidayatushah08@FarhanKVirk آپکی بات سوفیصد درست ہے۔لیکن اس کاحل صرف اتحاد ہے۔اگرعلاقےکےلوگ متحد ہوکریہ تہہ کرلیں کہ کسی خوارج کواپنےگاوں ��ہرمیں گھسنےنہیں دیں گےتوان کا باپ بھی وہاں نہیں گھس سکتا۔انشااللہ پاک فوج آپکو تحفظ بھی فراہم کرے گی لیکن ملک کےکسی حصےکوبھی ان خوارج درندوں کےرحم وکرم پرنہیں چھوڑسکتے
*السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ*
*میرے عزیز ہم وطنو اس پیغام پر توجہ فرمائیں اور اپنی قومی ذمہ داری ادا کریں*
*ملک بھر میں سوشل میڈیا کے ذریعے ریاست پاکستان، مسلح افواج اور عوامی یکجتی کے خلاف پھیلائے جانے والے جھوٹ ، نفرت انگیز پروپیگنڈہ اور بگاڑ پھیلانے والی سرگرمیوں کے خلاف حکومت اور متعلقہ اداروں نے مؤثر اور فوری کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ یہ یاد رہے کہ ہمارا قومی فرض ہے کہ ہم آزادیٔ اظہار کا احترام کریں ہ، مگر اس آزادی کی آڑ میں قومی سلامتی، امن و امان اور بھائی چارے کو نقصان پہنچانے کی ہر گز اجازت نہیں ہے ۔*
*فیس بک، ٹوئٹر، یوٹیوب سمیت تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جو بھی مواد جان بوجھ کر جھوٹ پھیلانا، گمراہ کن معلومات معلومات نشر کرنا ، نفرت انگیز بیانات یا ملک دشمنی کو ہوا دیتا ہو — اسے پھیلانا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ آئین اور قانون کے تحت قابلِ سزا جرم بھی ہے۔ ایسے عناصر کا مقصد ہماری قومی یکجہتی کو کمزور کرنا اور معاشرے میں انتشار پیدا کرنا ہوتا ہے۔ ریاست اس امر کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور قانون کے مطابق سخت اقدامات اٹ��ائے جائیں گے۔*
*ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے آپ کا کردار انتہائی اہم ہے۔ اگر آپ ایسی کوئی پوسٹ، ویڈیو، ٹوئٹ یا زبانی/تحریری بیان دیکھیں جو واضح طور پر جھوٹ ، نفرت اور شر انگیز یا منفی پروپیگنڈہ پر مبنی ہو تو براہِ کرم فوراً درج ذیل اقدامات کریں*
*👈1. مواد کا اسکرین شاٹ (screenshot) اور متعلقہ لنک محفوظ کریں تاکہ شر پسند عناصر کے خلاف ٹھوس شواہد جمع کیئے جا سکیں۔*
*👈2. متعلقہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو رپورٹ کریں اور اگر ممکن ہو تو مواد کا لنک یا اسکرین شاٹ متعلقہ اداروں کو فراہم کریں۔*
*👈3. متعلقہ فورمز — جیسے کہ وفاقی/صوبائی سائبر ونگز، قانونی اداروں یا مقامی پولیس — کو فوراً رپورٹ کریں تاکہ ٹھوس شواہد کی بنا پر تحقیقات کی و جلد ممکن بنایا جا سکے۔*
*👈4. گمراہ کن معلومات کو آگے شیئر نہ کریں تاکہ انتشار اور شر انگیزی کو روکا جا سکے۔*
*عوام کو یقین دلایا جاتا ہے کہ ریاست کے ہر فرد کے اظہارِ رائے کے بنیادی حق کا تحفظ کیا جائے گا ، مگر یہ حق دوسروں کے بنیادی حقوق، قومی سلامتی اور عوامی امن کے خلاف استعمال نہیں کرنے دیا جائے گا ۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے تفتیش اور کارروائی کے دوران شفافیت اور قانونی حدود کا خیال رکھیں گے، اور ہر کارروائی آئینی ضوابط اور عدالتی احکامات کے مطابق ہوگی*
*ایک ذمہ دار پاکستانی شہری ہونے کے ناطے آپ سے ��پیل کی جاتی کہ نفرت ، فرقہ وارانہ یا علاقائی ، تعصبانہ ، اور دشمن نواز پراپیگنڈے کی نشاندہی کرکے حکومت کا ساتھ دیں۔ قوم کی بقا اور ترقی کیلئے اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ادا کرنا ہم سب کا فرض ہے۔ ان شاءاللہ آپ کا ذمہ دارانہ رویہ قومی سالمیت کو مضبوط بنائے گا اور ہمارے وطن عزیز کو امن کا گہوارہ بنائے گا*
*آخری بات یہ کہ غلط معلومات پھیلانے والے عناصر کا قانون کے مطابق کیا جانا بہت ضروری— چاہے وہ فرد ہو یا تنظیم — تاکہ پاکستان کی سالمیت اور امن و امان کے دشمنوں کو قانون کے کٹہرے میں لاکر انہیں جرم ثابت ہونے نشان عبرت بنایا جائے اور ان کے خلاف سخت قانونی کاررو��ئی عمل میں لائی جائے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم قانون، آئین اور اخلاقیات کی پاسداری کریں اور ایک متحد ، محفوظ اور ترقی یافتہ پاکستان کے لیے مل کر اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریاں ادا کریں*
*اللہ رب العالمین ہماری پاک سرزمین کو شرپسندوں ، اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے محفوظ فرمائے*
بشکریہ وٹس ایپ گروپ
ترتیب و تدوین مرزا ظہور بیگ
جنرل سیکرٹری سوشل میڈیا ٹیم سعودی عرب
(16 اکتوبر، 2025)
معافی ان سے جنہوں نے سندھ پر بلا شرکتِ غیرے 17 سال حکومت کرنے کے باوجود سندھ کے عوام کو کچھ نہیں دیا
معافی برابری کی بنیاد پر ، غلطی کی وجہ سے یا کسی مظلوم سے مانگی جاتی ہے
@MaryamNSharif