آسلام آباد کے کچھ غیرتی شہری PIMs پہنچ گئے!!
اسلام آباد کر شہریوں نے shame Shame کے نعرے لگائے, حکومت کو شرم آنی چاہیے!!
آج تو چاہیے تھا, پورا پاکستان سڑکوں پر نکل آتے, لیکن باقی پاکستانیوں نے اپنی باری کا انتظار اچھا سمجھا!!
یہ بچے پورے پاکستان کے بچے ہیں, خدا کے لیے نکل آؤ
🔸 میرے یونیورسٹی کے پُرانے کولیگز بتا رہے ہیں کہ ،
سرحد یونیورسٹی کے 35 سے زیادہ سٹوڈنٹس کو ہاسٹلز سے گرفتار کرکے ان پر تشدد ہو رہا ہے اور ان کے خلاف ایف آئ آرز کروا رہے ۔۔ احتجاج میں شامل لڑکیوں کو بھی یونیورسٹی سے نکالنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہے اور ان کے والدین سے رابطہ کرکے دباؤ ڈالا جارہا ہے ۔
🔸 کیا یونیورسٹی میں کوئ ذمہ دار ایڈمنسٹریشن نہیں ہے جو ��ٹوڈنٹس کے حقوق کا تحفظ کرے ؟
🔸 سرحد یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس کے لئے آواز اُٹھائیں پلیز
سینیٹر مشتاق احمد کشمیر کے مظلوموں کی آواز بن کر فرنٹ لائن پر کھڑے رہے۔ فلسطین ہو، کشمیر ہو یا مسلم اُمہ کا کوئی اور م��ئلہ، انہوں نے ہمیشہ حق کی آواز بلند کرنے کی کوشش کی۔
آج شاید بہت سے لو�� انہیں بھول چکے ہیں، مگر ان کی جدوجہد اور قربانیاں فراموش نہیں ہونی چاہئیں۔ بطور مسلمان، مظلوموں کے لیے آواز اٹھانے والوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہمارا اخلاقی اور انسانی فرض ہے۔
کل انہیں عدالت میں پیش کیا گیا۔ ہتھکڑیوں میں جکڑی یہ ویڈیو صرف ایک منظر نہیں، بلکہ اس سوال کی یاد دہانی ہے کہ مظلوموں کے حق میں آواز اٹھانے کی قیمت آخر کب تک آزادی سے چکانی پڑے گی؟
دنیا بھر سے عمران خان پر ہونے والے ناحق ظلم کے خلاف آوازیں بلند ہونا شروع ہو چکی ہیں۔
پاکستانیو۔۔ حق بات پر ڈٹے رہو۔ انشاءﷲ، ہم سب مل کر عمران خان کو اللّه کی مدد سے ان کا بنیادی حق ضرور دلوائیں گے۔ بس حق بات کہتے جاؤ۔۔
اس وڈیو سے کم ازکم دو چیزیں پتہ چلتی ہیں: ایک یہ کہ گوہر صاحب کیسے ISI اور فوجی کرنیلوں کے ہاتھ میں ایک کھلونا ہیں - دوسرا یہ کہ بدقسمتی سے عمران خان میں مردم شناسی بالکل نہیں تھی اور نہ ہے! کیا سوچ کر عمران خان نے گوہر خان جیسے کمزور آدمی کو PTI کا چیرمین بنایا؟ اضافی طور پہ یہ دیکھیں کہ اگر گوہر خان اتنا کمزور ہے اور کسی صورتحال پہ ایک سیاسی سوچ سمجھ سے بول بھی نہیں سکتا تو یہ اور اس کے ساتھی بھلا عمران خان کے لئے کیا ڈیل حاصل کر سکتے ہیں؟
“My brother and I have not been able to visit our father for years. For the past six months, we haven’t even spoken to him. What my father is going through is a violation of his human rights.” - Sulaiman Khan, son of Imran Khan, addressing a press conference.
The Supreme Court has ordered that Imran Khan be allowed to speak with his children. Yet the authorities continue to deny him this basic right, in addition to refusing visas that would allow @Kasim_Khan_1999 and Sulaiman Khan to travel to Pakistan to see their father.
#FreeImranKhan
سابق انگلش کپتان ناصر حسین 🚨
سپریم کورٹ کے حکم کے تحت پچھلے دنوں عمران خان کو ہسپتال لے جایا گیا تھا۔ اور مقصد یہ تھا کہ وہ ہسپتال میں رہیں گے کیونکہ انہیں علاج کی ضرورت تھی۔
وہ اب 73 سال کے ہیں اور اتنے عرصے سے قیدِ تنہائی میں ہیں۔ انہیں علاج کی ضرورت تھی اور اتفاقِ رائے یہ تھا کہ وہ شاید ایک ہفتے کے لیے ہسپتال میں رہیں گے۔
لیکن وہ انہیں اس ہسپتال لے گئے جہاں نہیں لے جانا چاہیے تھا، ان ڈاکٹروں سے معائنہ کروایا جن ��ے نہیں کروانا چاہیے تھا، اور پھر اسی صبح—میرے خیال میں صبح 5:00 بجے—انہیں واپس جیل لے گئے۔
حکومت اب بھی بہت زیادہ حساس ہے کہ ان کی کوئی بھی ممکنہ جھلک سامنے نہ آئے، یا ان کے باہر آنے سے متعلق کوئی خبر سامنے نہ آئے۔
ویڈیو میں کرنل کی گرل فرینڈ فرعون بنی ہوئی ہے!
پرامن سٹوڈنٹس کو ٹینگہ دکھا رہی ہے!!
کرنل کی گرل نے, بڈھے کرنل کو ایسا پھنسایا,
کہ آئندہ کوئی فوجی گرل فرینڈ کے سامنے تیس مار خان بننے سے پہلے ہزار بار سوچیں گے!!
سرحد یونیورسٹی میں پیش آنے والے واقعے پر انتظامیہ مؤقف دینے کو تیار نہیں۔ رابطہ کرنے پر انتظامیہ کا رویہ انتہائی غیر سنجیدہ اور بدتمیزانہ رہا، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ شاید گزشتہ روز پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے انتظامیہ کے پاس عوام اور میڈیا کو بتانے کے لیے کوئی واضح جواب موجود نہیں۔
سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان صاحب کے حوالے سے جاری طبی احکامات کی خلاف ورزی پر ان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ خان کی دائر کردہ توہینِ عدالت کی درخواست کو جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہماری درخواست مسترد کر دی گئی ہے۔
رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست مسترد کرنے کی وجوہات میں لکھا:
“اس وقت اس نوعیت کی کل 95 درخواستیں زیرِ التوا ہیں۔ پالیسی کے مطابق کیس کو جلد سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا اسے 16 ستمبر کو مرکزی مقدمے کے ساتھ مقرر کیا جا رہا ہے۔”
نو اپریل کو رات بارہ بجے عدالتی حکم پر عمل کے لئے عدالتیں کھول دی گئی تھیں اور اس کیس کی اتوار کو بلاول زرداری کی پٹیشن کو وصول کر کہ سماعت کیا گیا تھا۔
قانون سب کے لئے برابر ہونا چایئے اور عمران خان صاحب کا معاملہ سب سیاست دانوں سے زیادہ حساس اور اہم ہے۔
انتہائی ظلم کے بعد یہ میت واپس کر دی گئی ہے اور حیرت کی بات دیکھیں خاموشی ہی خاموشی ہے
کیسے کے پی پورا باہر نہیں نکلا ایک نہتے انسان کے لیے جس کو صرف اپنا بیانیہ بنانے کے لیے مار دیا ہم بھی تو مردہ ہیں