#قوم_مانگے_خان_کی_رہائی
دو سال قبل ۹ اپریل کی رات کو ہم جس جنگ میں اترے تھے ہم بلا شبہ اس کے سب سے بڑے معرکے کے انجام کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ نقارہ پوری شدت سے بج رہا ہے۔ کہیں خون گرما رہا ہے، کہیں کلیجے لرزا رہا ہے۔ گذشتہ ۱۰ ماہ سے عمران خان قید میں ہے۔ خدا گواہ ہے کہ کسی کی طعنہ زنی سے کیا آنکھیں جھکتیں خود سے خود نظریں ملانا محال رہا ہے۔ اگرچہ جو ہم نے جھیلی وہ بھی کسی بدترین قید سے کم تر تو کہیں سے نہ تھی، مگر کسے گوارا ہو کہ وہ روشنیوں کی تمثیل سا آدمی اندھی��ی سلاخوں کے نرغے میں ہو اور وہ بھی تب کہ جب ہماری شانوں پہ سر سلامت ہوں۔۔ مگر جب بھی سوال بھیجا جواب ایک ہی آیا۔“صبر۔ تدبر۔استقامت”۔ ڈسپلن خوب لفظ نکالا ہے انگریز نے۔ بندہ تلملائے، کُڑے، ٹکریں مارے۔۔ ہل نہیں پاتا۔ تحریکیں محتاج ہوتی ہیں صحیح وقت پر صحیح فیصلوں کی۔ آپ کی اپنے لیڈر، اپنے نظریے سے محبت کا اصل امتحان یہی ہوتا ہے کہ آپ کتنا کڑوہ گھونٹ کتنی خندہ پیشانی سے پیتے ہو۔ انتظار کرتے ہو۔ اپنی better judgment کے برخلاف اعتماد کرتے ہو اُس کی ٹائمنگ پر۔ اور جیسے یہ پچھلے دس ماہ آپ نے اُس کے فیصلے پر اعتبار کرتے ہوئے اپنا دل مارا ہے۔ خود سے نظریں چُرا کر جئیے ہیں اُس کے سامنے اپنا سر نہیں جھکنے دیا۔۔ اُس کا سر نہیں جھکنے دیا۔ آپ کو فخر ہونا چاہئے خود پر۔ اپنے حوصلے پر۔ اپنے نظریے پر۔ اب وقت قریب آرہا ہے فیصلے کا۔ اس اہم ترین معرکے کی سب سے اہم لڑائی کا۔ اور اس کا اشارہ بھی یہی ہے اپنی قوم کے لیے کہ کمر کس لو۔ صفیں درست کرلو۔ وہ جو فرقت اور فراغت کے مارے آپس میں دست و گریباں تھے، اب آستینیں کھول کر سیدھی کرلو۔ ایک دوسرے کے گریبانوں سے باہر آجاؤ۔ لا یعنی بحثوں اور دشنام طرازیوں سے نکل کر مقصد پر نظریں مرکوز کرلو۔ اپنے جس حق کے لیے تم ۸ فروری کو نکلے تھے۔ وہ جو تم سے دو سال میں دوسری مرتبہ چھینا گیا تھا۔ اُس حق کو واپس مانگنے کا یہ شاید اب ایک آخری موقع ہے۔ خدا کی پناہ ۷۶ سال ہوگئے، اب نہیں تو کب؟ ہم نہیں تو کون؟ تیاری پکڑ لیں۔ صرف ان کالی سیاہ سلاخوں کے پیچھے پابند اُس روشن بخت کی نظروں میں سرخروئی کا سوال نہیں ہے۔ ایک اور نسل جوانی کی دہلیز پہ کھڑی ہے۔ اُن کے بخت میں اس نظام کے پاس مَلنے کو فقط سیاہی ہے۔ بیش بہا سیاہی۔ کھالی گھنگور۔ اور ان کی سیاہ نصیبی کا مجرم بننے کا یارہ کسے ہے؟ ہاں مد مقابل نیچ ہے، مکار ہے، ظالم ہے۔ ہر حد تک گرے گا۔ گرے ہوں کے ساتھ خود کو گرانا شیوہ نہیں ہے بہادروں کا۔ وفا شعار اپنے وطن سے وفاداری کے لیے تمغوں کا حاجت مند نہیں ہوتا۔ احساس کا ہوتا ہے۔ اپنا احساس جواں رکھیں۔ ترغیبات ہونگی۔ الزامات ہونگے۔ جبر جو ہم نے بہت سہہ لیا۔ مزید ہوگا۔ اپنی حب الوطنی پر آنچ نہیں آنے دینی۔ اپنے لیڈر کے نام پر آنچ نہیں آنے دینی۔کوئی امَر (امر۔ آمر کی اتنی اوقات نہیں) آپ کو اپنے نظریے سے الگ نہ کھڑا کر پائے۔ میدان میں اتریں تو اپنے لیڈر کی تربیت پر سوال نہیں اٹھنے دینا۔ یہ ملک ہمارا ہے۔ اس کا مستقبل ہماری استقامت پر منحصر ہے۔ ہمارے حوصلے۔ ہمارے تدبر کا ایک اور امتحان ہے۔ لیڈر کا اشارہ ہے صفیں سیدھی کرلیں۔ اب وقتِ اذاں ہوا چاہتا ہے۔ جلد میدان میں اترنا ہے۔ تندہی سے لڑنا ہے۔ اپنے لیے۔ اپنے مستقبل کے لیے۔ اپنے خان ک�� لیے۔
Imran Khan's message has always been clear: the Armed Forces must stay within their constitutional bounds. Whenever they have chosen to go beyond & act against their own people, the country has paid a heavy price including the break up of Pakistan. Unfortunately, the lessons of history have not been learnt as the same mistakes continue to be repeated with the same disastrous results.
Day 583 without Arshad Sharif
Day 583 without Justice
ارشد شریف اس قوم کا ہیرو ہے اور ہماری ریاست اتنی بےحس ہے کے اپنے ہیرو کو آج تک انصاف نہ دے سکی، اس ریاست نے ارشد صاحب پر جھوٹے مقدمے درج کروائے مگر ان کے ق��تل کی FIR نہ درج کی، ارشد صاحب اس ریاست کے تمام اداروں کو بتاتے رہے کہ ان کو مار دیا جائے گا مگر سب خاموش رہے اور جب ان کو قتل کر دیا گیا تو چند لوگوں نے اپنی جھوٹ کی دکانیں کھل لیں اور ان کے قاتل کے حوالے سے جھوٹ بولتے رہے۔
#ArshadSharifShaheed
#JusticeForArshadSharif
اللہ سے ایک شدید دعا ہے کہ عمران خان کی قیادت میں پاکستان اپنے پورے potential کے ساتھ آگے بڑھے اور عوام میں خوشحالی ہو، کوئی ظلم نہ ہو اور کمزور طبقے کی سب مدد کریں۔ پتہ نہیں کیوں باہر کے پیسوں پر اتنا زور لگاتے ہیں، اپنے لوگوں کو انصاف دے کر ان کا مینڈیٹ مان کر ان پر انویسٹ کریں ، اللہ کی برکت ہوگی اور ہم تیزی سے آگے جائیں گے-
#قوم_مانگے_خان_کی_رہائی
Day 584 without Arshad Sharif
Day 584 without Justice
تیری دوستی میں ہم دیوانے ہو گئے تجھے اپنا بناتے بناتے خود سے بیگانے ہو گئے پُکار لے پیار سے ایک بار میرے دوست تیری آواز سنے زمانے ہو گئے۔
#ArshadSharifShaheed#JusticeForArshadSharif
Day 582 without Arshad Sharif
Day 582 without Justice
دوست وہ ہیں کہ جو جذبات سمجھ لیتے ہیں دل کے اندر کی بھی ہر بات سمجھ لیتے ہیں۔
ساتھ رہتے ہیں تو کچھ ایسی دوا دیتے ہیں سارے دکھ درد کو پل بھر میں بھلا دیتے ہیں
جو کہ لازم نہ ہو وہ حق بھی ادا کرتے ہیں دوست کچھ بھائی سے بڑھ کر بھی ہوا کرتے ہیں۔
#ArshadSharifShaheed
#JusticeForArshadSharif
Day 581 without Arshad Sharif
Day 581 without Justice
ارشد صاحب میں جانتا ہوں کے آپ کبھی واپس نہیں آئیں گے مگر یہ دل آپ کا انتظار کرتا رہتا ہے یہ آنکھیں آپ کی ہی راہ دیکھتی رہتی ہی��، سوچیں بھی آپ کی اور یادیں بھی آپ کی ہی۔
#ArshadSharifShaheed
#JusticeForArshadSharif