چین دنیا کی سپر پاور امریکہ کو آنکھیں دکھاتا ہے
کل رات اور صبح پانچ چھ جگہ میں 180 سے 280 ملی میٹر اور 380 ملی میٹر بارش ہوئی ہے
یہاں نہ حامد میر ہے اور نہ وہ چھوٹے دماغ جو یہ کہہ سکیں سارا پیسہ لاہور لگا دیا ہے
بے وقوف چین سیوریج چھوڑ کر فیکٹریوں لگاتا رہا مریم نواز استعفی دو
ہماری معیشت کا سائز چار سو ارب ڈالر ہے اور ہمارا مقابلہ چار کھرب ڈالر والی معیشت (انڈیا) سے ہے فتح کے نشے سے نکلو اور معیشت سدھارنے کی فکر کرو، کمزور معیشت کیساتھ جنگ بھی نہیں لڑی جا سکتی زمانہ ام�� میں دشمن کی طاقت سے فائدہ اٹھاؤ ہمیں معیشت سدھارے کیلئے بھارت کیساتھ امن چاہیئے
یہ ہے وہ سلمان فاروقی وہ درندہ جس نے ایک غریب پر اسکی بہن کے سامنے تشدد کیا اس کے بارے آپ کیا کہیں گے؟
اس سے متعلقہ ہر معلومات اس ٹویٹ کے نیچے ڈالتے جائیں
نوازشریف صاحب امن کے پیامبر ہیں۔اور اس ملک میں صرف وہی ہیں جو جنگ سے ہٹ کر امن کی طرف لے جاسکتے ہیں۔جو موجودہ صورتحال ہیں اس میں بھی نوازشریف صاحب کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
عمران خان نے شوکت خانم اور نمل کیلئے پیسہ اور زمین شریف برادران سے لیا اور انہیں ہی کرپٹ مشہور کر دیا جبکہ ملک ریاض کو پہلے کرپٹ کہا اور پھر بعد میں پیسہ اور زمین لی
جنرل فیض کا نام غلطی سے زبان پر آ گیا !! مولانا فضل الرحمٰن نے اعتراف کرلیا ۔۔
اس بیان پر تحریک انصاف نے مولانا صاحب کو بہت بلیک میل کیا ۔۔
اس ویڈیو کو اتنا شئیر کریں کہ یوتھیوں کی نیندیں حرام ہو جائیں ۔
حامد میر صاحب۔۔۔
کیا آپ کو نہیں لگتا کہ اسحاق ڈار کے گفتگو کے دوران درود شریف پڑھنے پر آپ کا ڈائیلاگ کہ “ابھی جھوٹ بولے گا “ تضحیک آمیز الفاظ پر مشتمل ھے۔۔۔؟؟ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ آپ غلط ہیں اور آپ کو معا��ی مانگنا چاہیے۔۔۔؟؟
@HamidMirPAK
جرمنی میں ہیمبرگ سے میونخ تک لوگوں نے ہٹلر کو ووٹ دیا تھا، اور تب مارٹن ہائڈیگر جیسے فلسفی اور گنٹر گراس جیسےشاعر عوامیت پسندی کی رو میں بہک کر اس کا حصہ بن گئے تھے، تب گنتی کے لوگ تھے جو اس عوامی لہر کے خلاف کھڑے ہوئے۔ انہیں تب غدار کہا گیا، ملک دشمن کہا گیا، عوامی رائے کا مخالف کہا گیا، مگر وہ اپنے نکتے پر قائم رہے۔ بعد میں وہی لوگ معتبر کہلا��ے اور وہ تمام لوگ جو عوامیت پسندی اور سستی نعرے بازی کے ساتھ کھڑے تھے، وہ تمام عمر اس داغ کے ساتھ جینے پر مجبور ہوئے۔
بھارت میں دہلی سے کلکتہ تک اور یوپی سے مہاراشٹر تک بی جے پی اور مودی کے حق میں عوامی رائے ہے، مگر ارن دتی رائے اس عوامیت پسندی اور ہندو قوم پرستی کے خلاف کھڑی ہیں۔
اس لیے دو چیزوں کو کبھی مکس نہ کریں۔ پہلی بات میں عمران خان اور ان کی سیاسی فکر کو مسترد کرتا ہوں اور نہیں چاہتا کہ یہ فکر کبھی میرے ملک پر دوبارہ حکومت کرے۔
تاہم ساتھ ہی میں عوامی رائے کا بھرپور احترام کرتا ہوں، کیوں کہ یہ ملک بلآخر عوام کا ہے۔ میں فقط ایک فرد ہوں اور حتمی فیصلہ پاکستان کے عوام ہی کا ہو گا۔ کیوں کہ اپنے درست یا غلط فیصلے کے نتائج خود عوام نے دیکھنا ہیں۔
مجھے معلوم ہے، اوپر سمجھایا گیا فرق آپ کو سمجھنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے، تاہم لکھنے والوں کا کام آسانیاں تلاش کرنا ہوتا بھی نہیں۔ ڈھیروں دعا :)
ارشاد بھٹی کے لئے واقعی کل شرمناک دن تھا اور بہت ہی سیاہ ترین دن تھا کیونکہ جن لوگوں نے ساڑھے4 ہزار پروگرام کیے انہیں ڈوب مرنا چاہیے جھوٹ بولتے رہے ان کے ہاتھوں میںpaper دیے جاتے تھے کہ یہ جا کے بولنا ہے یہ رجسٹر لے کے آتے تھےچینلوں کے اوپر انہیں آج ڈوب مرنا چاہیے@RanaAamirilyas
جو مر رہا تھا غزہ کا بچہ
تو مامتا بھی بلک رہی تھی
جو پانی بجلی کے سارے سوتے
غزہ کے لوگوں پہ بند تھے تو
کہاں گئی تھی یہ نسلِ آدم ؟
کہاں تھے اوجھل وفا کے داعی ؟
بروزِ محشر خدا کے آگے
سوال ہو گا ، حساب ہو گا
بروزِ محشر خدا کے آگے
گواہی دے گی غزہ کی عورت
جو چل رہی تھی فنا کی آندھی
ہماری وادی میں ، میرے گھر میں
سبھی کے ہاتھوں میں جامِ جم تھا
دکھائی دیتا تھا سب کو سب کچھ
مگر تھے کُبڑے وہ شر کے آگے
وہ دشمنی سے جو کانپتے تھے
سو میرے حق میں
نہ تیغ نکلی نہ تیر برسے
بروزِ محشر خدا کے آگے
غزہ کا بچہ گواہی دے گا
کہ زور سارا تھا گفتگو پر
کہاں کے عربی ، کہاں کے عجمی
وہ مال و دولت وہ شان و شوکت
وہ تاج و طُرّے شہنشہوں کے
غرورِ مِلَّتْ کہیں نہیں تھا
شہاب میرے ، وہ سارے غوری
وہ رَعْد جن کا سنا تھا قصہ
سکوتِ مسکن میں پر سکوں تھے
غزہ کے لوگوں کے تشنہ لب سے
امیرِ کوثر گواہی لیں گے
بروزِ محشر خدا کے آگے
سوال ہو گا، حساب ہو گا
(راشد محمود لنگڑیال ۵ نومبر ۲۰۲۳)