“The last time I saw him (Imran Khan) was 11 months ago. Last thing he said and the message he gave to the public was, ‘I will never bow to tyranny.’
He is not just popular, he has become a desperate need of the people. He is carrying the hopes of 250 million people; he will never let them down.”
- @Aleema_KhanPK in conversation with @ACurrentAffair9
Link to full interview: https://t.co/TZUc9FfsFD
#FreeImranKhan
"عمران خان نے ہمیشہ کہا کہ لوگ اپنے حق کے لیے نکلیں اس غلامی کے خلاف اپنی آزادی کے لیے نکلیں عمران خان تو کھڑے ہیں اب لوگ اپنے حق کے لیے کھڑے ہونگے لوگوں کو سمجھ آرہی ہے کہ پاکستان میں کیا ہونے جارہا ہے۔یہ جو چور ڈاکو مسلط ہیں جس دن لوگ اپنے حق کے لیے نکلے یہ پہلا جہاز پکڑ کر باہر جا چکے ہوں گے”۔
علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
ستائیس تاریخ کو پانچ جگہ پر ہم کراچی کو بند کریں گے نوجوانو صرف پانچ دن آپ کراچی کو بند کر دیں یہ عمران خان کے پاؤں پکڑیں گے۔آپ نے نکلنا ہے پاکستان کو آزاد کرانا ہے ۔
کراچی کی 3 کروڑ آبادی تیس فیصد لوگ نکلیں 30 لاکھ لوگ بنتے ہیں ایک دفعہ نکل کے دکھادو ایک بار ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دکھاؤ۔ وزیراعلی سہیل آفریدی
@SohailAfridiISF
#ستمبر27_کی_کال_عوام_تیار
Exclusive: As the great former cricketer languishes in a 6ft-by-8ft prison cell in Pakistan, his family are in an agonising state of limbo
🔗 https://t.co/D7XWxFWamu
”عدالتیں بے بس ہوچکی ہے ججز بے بس ہوچکے ہیں، اڈیالہ جیل کا سپرٹنڈنٹ سپریم کورٹ کے تین ججز کا فیصلہ ردی کی ٹوکری میں پھینکتا ہے اسکے باوجود اڈیالہ جیل میں بے گناہ قید میرا اور آپ کا لیڈر ببرشیر کی طرح کھڑا ہے ظالم کے سامنے جھکنے سے انکاری ہے، اسکی امید پاکستان کے نوجوانوں سے ہے .“
وزیراعلی @SohailAfridiISF کا عمرکوٹ میں خطاب.
#ستمبر_مزاحمت_عہد_ہمارا
#LongMarchOnSeptember27th
"We were urged not to go and visit our father in Pakistan, and they (Kier Steimer) government said if we do get arrested or anything like that, they won't be able to support."
Imran Khan's sons speak to @TimesRadio#FreeImranKhan
ہائی کورٹ سے ایک واضح آرڈر جاری کیا گیا انہوں نے اسے بالکل نظر انداز کر دیا، حتیٰ کہ سپریم کورٹ کے آرڈر کو بھی رتی بھر اہمیت نہیں دی۔
واضح طور پر ہائی کورٹ کے آرڈر میں کہا گیا کہ عمران خان کی فیملی سے ملاقات ہونی چاہیے، ان سے ملاقاتوں کا حق بحال کیا جائے اور جیل میں ان کے دیگر حقوق اور سہولیات بھی بحال کی جائیں۔
یہ سارا کچھ آج آپ لوگوں نے دیکھا کہ ایک بہت واضح آرڈر دیا گیا۔ لیکن اڈیالہ جیل کی صورتحال یہ ہے کہ یہاں عدالتوں کے آرڈرز، چاہے ہائی کورٹ کے ہوں یا سپریم کورٹ کے، سب کا انجام ایک جیسا ہوتا ہے۔ اڈیالہ جیل ان آرڈرز کا قبرستان بن چکا ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ یہاں عدالتی احکامات دفن ہو جاتے ہیں۔
3 years
7 acquittals
85 bail hearings (including today)
Zero bail
Not once has the record been produced, not once has justice been done. This is a charade and a mockery of due process. The prosecution is not obstructing justice but denying it.
Shah Mahmood Qureshi should not be in jail, he should be free.
نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے
نوجوان سلیمان سہیل پاکستان کے ایک معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر اور کارکن ہیں جو جنرل زی رائٹس موومنٹ (Gen Z Rights Movement) سے وابستہ ہونے اور سماجی موضوعات پر اپنے بیانات کی وجہ سے مشہور ہیں، سلیمان سہیل کو ہارڈ سٹیٹ اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر بات کرنے پر انسٹاگرام اکاؤنٹ بند کروا کر لاپتہ کر دیا گیا ہے، نوجوان کے لیے آواز اٹھائیں ورنہ 'باری باری سب کی باری'!
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے مگر سوال یہ ہے کہ فیصلہ تو سپریم کورٹ نے بھی دیا ہے کیا اس پر عمل ہوا؟
علیمہ خانم کی اسلام ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو.
#FreeImranKhan
الحمداللہ۔ عمران خان صاحب اور بشری بیگم صاحبہ کی قید تنہائی کا فیصلہ جاری۔
عدالتی فیصلے کے مطابق عمران خان کو اپنے بچوں سے آڈیو، ویڈیو اور واٹس ایپ کالز کے ذریعے رابطے کی سہولت فراہم کی جائے گی، تاہم اگر ان کالز کو سیاسی مقاصد یا کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال کیا گیا تو یہ سہولت معطل کی جا سکتی ہے۔
عمران خان صاحب کو فیملی اور اپنی اہلیہ سے ملاقات جیل قوانین اور فیملی میٹنگ کے قواعد کے مطابق کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انہیں روزانہ ایک گھنٹے ایسی واک کی اجازت ہوگی، جس کے دوران باقاعدہ انسانی میل جول کا انتظام کیا جائے گا اور جن افراد سے ملاقات یا میل جول ہوگا، ان کا ریکارڈ بھی مرتب کیا جائے گا۔
عدالت نے عمران خان کو تاریخ کی کتابوں سمیت تمام قابلِ اجازت مطالعے کا مواد فراہم کرنے کا حکم دیا ہے، البتہ ممنوعہ کتب اس میں شامل نہیں ہوں گی۔
یہی سہولیات بشریٰ عمران خان کو بھی فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور انہیں اپنے خاندان سے ملاقات کی سہولت بھی قانون کے مطابق حاصل ہوگی۔
عدالت نے واضح کیا کہ جیل میں موجود تمام افراد کو آئین، قانون اور جیل قوانین کے تحت حاصل حقوق و سہولیات فراہم کی جائیں۔
عدالتی حکم پر عملدرآمد کے حوالے سے جیل حکام کو 15 روز کے اندر عملدرآمد رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
فیصلے کا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ اگر جیل حکام عمران خان کو قانون، آئین یا عدالتی حکم کے تحت حاصل کسی سہولت یا ریلیف سے محروم کرتے ہیں تو انہیں اس محرومی کی وجوہات تحریری طور پر فراہم کرنا ہوں گی۔
خالد یوسف چوہدری
لیگل کونسل سابق وزیراعظم عمران خان
@KhalidYChaudry
My name is Harmeet Singh.
I am the first Sikh anchor in Pakistan’s 79-year history
My only “crime” is that I work as a journalist in Pakistan, ask questions and try to speak the truth.
I appeal to journalists organizations, press freedom groups, and human rights organizations around the world to take notice of what is happening to journalists in Pakistan.If a journalist’s only crime is asking questions and speaking the truth then the world must ask: When did journalism become a crime?
@pressfreedom@FreeThePressNow@RSF_inter@IFJGlobal
@IPI_Global
@rorypecktrust
#HarmeetSingh #JournalismIsNotACrime #PressFreedom #JournalistSafety #Pakistan #FreedomOfPress #JournalistsInDanger
حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو ایک ایسے احاطے میں رکھا گیا ہے جس میں سات کمرے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ سات کمرے کس مقصد کے لیے ہیں؟
یہ سات کمرے انہیں جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنے کے لیے ہیں۔
یعنی بنیادی طور پر ان کے اردگرد خالی کمروں کا ایک حصار بنا دیا گیا ہے تاکہ وہ جیل کے اندر کسی دوسرے شخص سے رابطہ نہ کر سکیں۔
وہ خود صرف ایک کمرے میں رہ رہے ہیں، جس کا سائز آٹھ فٹ ضرب دس فٹ ہے، اور ان کے پاس بس یہی جگہ ہے۔
اب انہوں نے سلمان صفدر اور ان لوگوں کو، جنہوں نے حال ہی میں ان سے ملاقات کی ہے، بتایا ہے کہ ان کی قید کے حالات مزید خراب کر دیے گئے ہیں۔
18 اگست 2026 کے بعد بہنوں کے ساتھ ہونے والی تین ملاقاتوں کے دوران بھی یہی بات سامنے آئی۔
جیل میں ایک قیدی کو عام طور پر طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک اپنی کوٹھڑی سے باہر رہنے کی اجازت ہوتی ہے،عمران خان کو یہ اجازت نہیں دی جاتی۔
انہیں جیل کے احاطے میں چلنے پھرنے کا وہ معمول کا حق بھی نہیں دیا جاتا جو ایک قیدی کو حاصل ہوتا ہے۔
لہٰذا انہیں ان سات کمروں تک محدود کر دیا گیا ہے، اور یہ سات کمرے درحقیقت ان کے لیے ایک بڑی کوٹھڑی کا کام کر رہے ہیں، جس کا مقصد انہیں اڈیالہ جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنا ہے۔
اس سے ان کی تنہائی مزید گہری ہو جاتی ہے۔یہ انہیں دی جانے والی کوئی سہولت نہیں ہے۔حقیقت میں یہ ان پر عائد کی جانے والی ایک مزید غیر قانونی سزا ہے۔
سلمان اکرم راجہ
”جب مارشل لاء لگتا ہے تو ایک جنرل اعلان کرتا ہے کہ آج سے میں بادشاہ ہوں آج سے میں نے ایک ملک کا آئین اور قانون ختم کردیا اور جو کچھ میں کہوں گا وہی قانون ہوگا پھر وہ دور جبر ظلم اور فسطائیت کا دور ہوتا ہے مگر آج جو کچھ ہورہا ہے وہ ڈیکٹیٹرشپ سے کہیں زیادہ خطرناک ہے آج جو کچھ ہمارے ساتھ ہورہا ہے اسطرح کبھی مارشل لاء کے ادوار میں بھی نہیں ہوا“
@salmanAraja
#عمران_خان_پر_ظلم_بند_کرو
The ‘street fighter’ fighting for his Captain!
Former Pakistan Cricket Captain, Javed Miandad raises his voice for the legend of the cricketing world, Imran Khan!
The former PM and World Cup winning captain remains arbitrarily detained for 1119 days; incommunicado; vision loss in right eye, deteriorating health concerns, life at risk.
#StopRiskingImranKhansLife
#FreeImranKhan
Adding my support here to GC and the other former international captains. I hope the court ordered medical assessment be allowed to run its course, and that family visits continue. I hope Imran Khan is treated with the dignity anyone deserves