جب تک انسان ٹوٹتا نہیں اُس میں عاجزی پیدا نہیں ہوتی دل میں نور تبھی آتا ہے جب دل ٹوٹتا ہے انسان جب ٹھکرایا جاتا ہے تب ہی وہ رب کی طرف متوجہ ہوتا ہے خوش نصیب ہیں وہ جو ٹوٹ کر اپنے رب سے جڑ جاتے ہیں کیونکہ اللہ اُنکے دلوں کو اپنی محبت سے بھر دیتا ہے۔
غم انسان کی صلاحیتوں کو کھا جاتا ہے🥀
شیطان چاہتا ہے ہم مسلسل غم کرتے رہیں اور بیکار ہوجائیں شیطان کا ایک وار یہ بھی ہے کہ وہ ہمیں تکلیف دہ باتوں/واقعات کو بھلانے نہیں دیتا وہ ہمارے دل میں ایسی چیزوں کے بارے میں بار بار خیال ڈال کر ہمیں بے چین کرتا ہے مسلسل غمگین کرنے.....
اگر انسان اپنے رب کی ان پوشیدہ مہربانیوں اور لطف و کرم کو دیکھ لے جو اس سے اوجھل ہیں تو وہ آزمائش اور مصیبت کو بھی اسی طرح پسند کرنے لگے جیسے عافیت اور راحت کو پسند کرتا ہے۔
اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں کی زندگی سے کرنا چھوڑ دیجیے اللہ نے ہر انسان کو الگ آزمائش، الگ صلاحیت اور الگ راستہ دیا ہے آپ کسی اور کی کہانی نہیں اپنی کہانی کے مرکزی کردار ہیں۔
کبھی کبھی انسان تھک جاتا ہے لوگوں کی باتوں سے رشتوں کی اُلجھنوں سے اور اِس شور بھرے عالم سے پھر دل چاہتا ہے کہ سب سے دُور کہیں خاموشی میں بیٹھ کر اپنے رب سے بات کی جائے، خود کو سمیٹا جائے اور سکون تلاش کیا جائے کیونکہ ہر دُوریاں بُری نہیں ہوتیں کچھ فاصلے انسان کو خود سے اور خُدا
دنیا کے بڑے سے بڑے مسئلوں کے باوجود مسکرانا، خوش رہنا، دوسروں میں خوشیاں بانٹنا اور ہر حال میں اپنے رب کا شکر ادا کرنا یہ صرف خوش مزاجی نہیں بلکہ الحمدللہ کی عملی تفسیر ہے۔
زندگیوں میں دخل دے کر اپنا وقت ضائع مت کریں شاید آپ کی اپنی زندگی میں بہت سے ایسے سوال ہوں گے جن کے جواب آپ کو ابھی ڈھونڈنے ہیں اپنی زندگی پر توجہ دیں۔
لوگوں کا شادی نہ کرنا ان کا اپنا فیصلہ ہےان کی ڈگریوں سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں اولاد میں تاخیر ہمارا مسئلہ نہیں اور مہینے کے آخر میں انہیں کتنی تنخواہ ملتی ہے یہ جاننا ہمارا کام نہیں ان کا کھانا پینا، لباس اور رہن سہن ان کا اپنا ذوق ہے اور ذوق سب کا الگ ہوتا ہے دوسروں کی
خود کے ساتھ صلح کرنے کے کئی طریقے ہیں جن پر عمل کرنا ضروری ہے ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ آپ خود کو دوسروں کے ساتھ کسی دوڑ میں شامل نہ کریں کیونکہ ہم میں سے ہر ایک کا جیت کے حوالے سے اپنا الگ نقطہ نظر ہے۔