حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ، سقوطِ ڈھاکہ اور ہماری تاریخ کے تلخ حقائق!
حمود الرحمٰن کمیشن جولائی 1972 میں حکومتِ پاکستان نے قائم کیا، جس کی سربراہی چیف جسٹس حمود الرحمٰن نے کی۔ اس کمیشن کا مقصد پاک فوج کے مظالم اور 1971 کی جنگ کے دوران کے حالات کا مکمل جائزہ لینا تھا، بشمول وہ عوامل جن کی وجہ سے مشرقی ہائی کمان کے کمانڈر نے اپنی کمان میں موجود مشرقی دستے کی افواج کو ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا۔
کمیشن کے پہلے حصے میں پاک فوج کے مشرقی پاکستان میں تعینات جرنیلوں اور ان کے ماتحت فوجی جوانوں کے اخلاقی دیوالیہ پن کا ذکر کیا گیا۔ اس میں جنرل نیازی کی پان سمگلنگ، ریپ، کوٹھے چلانے والی خواتین سے جنسی تعلقات اور انہیں بطور مخبر استعمال کرنے جیسے معاملات سامنے آئے۔ مزید برآں، مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے رشوت لے کر فیصلے کرنے اور میجر جنرل جمشید سمیت مختلف جرنیلوں اور سینئر افسران کے کروڑوں روپے مشرقی پاکستان کے بینکوں سے لوٹ کر مغربی پاکستان منتقل کرنے کا ذکر بھی شامل تھا۔
کمیشن نے ان سینیئر فوجی قیادت کے ان غیر قانونی کاموں پر کھلے عام ٹرائلز اور سزاؤں کی سفارش کی، کیونکہ یہ سقوطِ ڈھاکہ سے قبل مشرقی پاکستان میں حالات کی خرابی کی بڑی وجوہات میں شامل تھے۔ دوسرے حصے میں پاک فوج کے مظالم کے کچھ واقعات بیان کیے گئے، جن میں 1971 کے عام انتخابات میں عوامی لیگ کی بھاری اکثریت کے باوجود جنرل یحییٰ خان کے حکم پر اسمبلی کا اجلاس مؤخر کرنا، عوامی لیگ کی مسلح بغاوت کی بنیادی وجہ بنا۔
اس بغاوت کو ختم کرنے کے لیے پاک فوج نے 25 مارچ کی شب بدنامِ زمانہ آپریشن سرچ لائٹ کا آغاز کیا۔ اس آپریشن میں قتل و غارت، آتش زنی، دانشوروں اور پیشہ ور افراد کا قتلِ عام، مشرقی پاکستان کے فوجی افسران کا قتل، کاروباری افراد کا صفایا، ہندو اقلیتوں کی نسل کشی، اور بے شمار بنگالی خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی جیسے واقعات پیش آئے۔ اس دوران، ہزاروں افراد کو اجتماعی قبروں میں دفن کر دیا گیا۔ یہ سلسلہ جنگ کے اختتام تک جاری رہا۔
25 مارچ کی رات اسلحے اور بارود کا بے دریغ استعمال کیا گیا، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے دو ہاسٹلز پر مارٹر گولے برسائے گئے، جس سے سینکڑوں طلبہ ہلاک ہوئے۔ پاک فوج کے جونیئر افسران نے لوٹ مار، فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے عوامی قتلِ عام، بنگالی افسران اور عام لوگوں کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے اغوا اور قتل کرنے جیسے سنگین جرائم انجام دیے۔
کمیشن کے تیسرے حصے میں پاک فوج کی سینیئر قیادت کی بزدلی، ناقص حکمت عملی، اور غلط فیصلوں پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کے کورٹ مارشل کا مطالبہ کیا گیا۔ جنرل نیازی کی دفاعی ناکامی، میجر جنرل م رحیم کی مکتی باہنی کے خوف سے اپنے ہی فوجیوں کو چھوڑ کر بھاگنے کی بزدلی، میجر جنرل باقر صدیقی کی بار بار ہتھیار ڈالنے کی درخواست اور غداری جیسے معاملات کمیشن کی رپورٹ میں شامل کیے گئے۔
کمیشن کے چوتھے حصے میں سقوطِ ڈھاکہ کی بنیادی وجوہات بیان کی گئیں، جن میں جنرل یحییٰ کا اسمبلی اجلاس مؤخر کرنا، فوجی آپریشن کا آغاز، شیخ مجیب الرحمٰن سے مذاکرات میں ناکامی، عوامی لیگ کے امیدواروں کا غیر شفاف انتخاب، اور سیاسی حل تلاش کرنے میں ناکامی جیسے سنگین فیصلے شامل تھے۔ ان تمام عوامل کے باوجود، پاکستان کے اتحادی ممالک کے مشورے کو نظرانداز کرتے ہوئے شیخ مجیب الرحمٰن سے مذاکرات نہ کرنا اور ہندوستان کی مداخلت کو کم تر سمجھنے کی وجہ سے مشرقی پاکستان علیحدہ ہو گیا۔
رپورٹ کے آخر میں جنرل نیازی کی بزدلی کی انتہا کو نمایاں کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ ہتھیار ڈالنے کا کوئی باضابطہ حکم نہیں تھا اور وہ مزید دو ہفتے تک لڑ سکتے تھے، لیکن اس کے باوجود ذلت کے ساتھ ہتھیار ڈال دیے گئے، جو آج بھی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔
آخر میں، کمیشن نے قرار دیا کہ پاکستان کی شکست کی بنیادی وجہ پاک فوج کی سینیئر قیادت کی اخلاقی گراوٹ اور جرات کی کمی تھی۔ مسلسل دو بار مارشل لا لگنے کے نتیجے میں فوجی افسران بڑے پیمانے پر غیر قانونی زمینوں پر قبضہ، جائیدادیں بنانے، اور غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہو گئے، جس سے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور جنگی حوصلہ ختم ہو چکا تھا۔
کمیشن نے جنرل یحییٰ خان، جنرل نیازی، اور جنرل خداداد کو اس سانحے کے سب سے بڑے مجرم قرار دیا اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی۔
#Balochistan
#RightsMovementAJK
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
"ایک عدالت اللہ کی بھی ہے، اللہ تعالیٰ پر یقین رکھیں جیسے عمران خان اللہ پر مضبوط ایمان کے ساتھ جیل کاٹ رہا ہے وہ کہتا ہے میری زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے عاصم منیر کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اللہ پر یقین رکھیں، ہمت پکڑیں، متحد ہو جائیں آپ کی مائیں آپ کے ساتھ کھڑی ہیں۔تیاری پکڑیں تحریک شروع ہوچکی ہے، اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں ہمیں سیدھی راہ پر رکھتے کامیابی عطا فرمائے"۔@Aleema_KhanPK
#ناحق_قید_کے_3سال
"Imran Khan rejected the offer to leave the country, saying, 'This is my homeland, why would I leave?' He has faced, and continues to face, hundreds of cases, yet he has refused to abandon Pakistan."
--@Aleema_KhanPK
بہت افسوس کے ساتھ یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ نو مئی لاہور میں ہماری کوٹ لکھپت جیل کے ساتھی ارم اکمل ابھی وفات پا گئی ہیں تقریبا دو مہینے پہلے انکو بلڈ کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔ ماریہ خان بلوچ ایڈووکیٹ
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
ارم اکمل
پاکستان تحریکِ انصاف کی متحرک کارکن، جو 9 مئی کے بعد کئی ماہ کوٹ لکھپت جیل میں قید رہیں۔
آج علالت کے باعث انتقال کر گئیں۔
خبر یہ ہے کہ
اڈیالہ جیل دورے کے بعد برطانوی صحافی کہہ رہا ہے کہ عمران خان کو بہت برے حالات میں جیل کے اندر رکھا ہوا ہے
اور وہ بہت سخت جیل کاٹ رہے ہیں۔ عمران خان کو جیل میں نہیں ہونا چاہیے تھا 💔
سوات میں کبل کے مقام پہ پرامن مظاہرہ کے دوران بم دھماکہ انتہائی قابل مذمت۔ لگتا ہے کہ دہشت گرد اور پنڈی سرکار دونوں ہی پرامن جمہوری حقوق کے اظہار ہم سے خائف ہیں ‼️
نجانے انکا ایک پیج کب ختم ہو گا⁉️
ڈی جی آئ ایس پی آر صاحب!
یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ میں نے سوال آپ پر اٹھایا ہو اور جواب مجھے دوسری جانب سے ملا ہو۔ اپریل ۲۰۲۳ میں بھی یونہی آپ پر سوال اٹھانے کا جواب مجھے میرے گاؤں میرے لوگوں کو لہولہان کرکے ملا تھا اور آج پھر کبل سوات میں ہونے والے امن پاسون پر حملے اور امن کا سفید جھنڈا لی کر نکلنے والے ہمارے معصوم شہریوں کو لہولہان کیا گیا ہے۔
امن پاسون کا اعلان ہوتے ہی امن تحریک کے پرانے ساتھی اور اولسی پاسون کے خلاف جو کریک ڈاون ہوا اس سے واضح تھا کہ امن کے نام سے کس کو نفرت ہے۔ آج کے امن پاسون کو روکنے کی کوشش ناکام ہوئی تو دھماکہ کروایا گیا۔ اس کا ایک ہی مقصد ہے کہ جو قوم میڈ اپ دہشت گردی کی کئی کوششوں کو ناکام بنا کر اپنا امن قائم کر چکی ہے اس دفعہ ان کے اجتماعات پر دھماکے اور فائرنگ سے خوف پیدا کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کیے جائیں۔
کئی دفعہ مالاکنڈ سے ریاست کی چھتری تلے دہشت گردوں کو بسانے کی کوشش کو ہم نے ناکام بنایا۔ پچھلے سال سے پھر کوشش جاری تھی اور کچھ عرصہ قبل میں نے پوری تفصیل بیان کی کہ بیس دہشت گردوں کی سوات، پندرہ شانگلہ، دس بونیر اور اس طرح دیر تشکیل ہوگئی ہے۔ سات مہینے پہلے پختونخواہ حکومت کو بھی آگاہ کیا۔ کتاب میں ان کو باجوڑ سے روٹ لگا کر لے جانے اور پھیلانے کی پوری تفصیل لکھ دی۔ سوات میں پرسوں جو خیبر پختونخواہ پولیس کے جوانوں کی شہادتیں ہوئی ہیں اس واقعے کی تفصیلات اتنی خطرناک ہیں کہ متعلقہ لوگ سب جانتے ہوئے بھی خاموش ہیں کہ ”گیم بڑی لگ رہی ہے کچھ کہیں گے تو مارے جائینگے“۔ مارے جانے کا ساماں تو ریاست کر چکی ہے بس فیصلہ یہ کرنا ہے آپ نے کہ پھر سے بے گھر ہونا ہے، ایک ایک کر کے نشانہ بننا ہے یا اسی طرح ان کو نکال باہر کرنا ہے جس طرح ہم پہلے کئی بار کر چکے ہیں۔ جنوبی اضلاع میں پولیس نے کھل کر اس ڈبل گیم پر اعتراض اٹھایا سوات اور مالاکنڈ پولیس سے گزارش ہے کہ پردہ پوشی چھوڑیں، دیکھ لیجئے آج پھر آپ نشانہ بن گئے۔کھل کر پچھلی دفعہ ڈی ایس پی کو گولی لگنے اور پھر مٹہ کے پہاڑوں میں پولیس کے اغوا کی کہانی قوم کے سامنے رکھیں۔ ۲۰۲۳ میں کبل سی ٹی ڈی پولیس لائن پر ہونے والے حملے کی حقیقت قوم کے سامنے رکھیں جس کو شارت سرکٹ کہہ کر دبایا جارہا تھا۔ پرسوں جو شہادت ہوئی جس کا ذکر آپ نے بند کمرے میں کیا قوم کے سامنے وہ حقیقت رکھیں ورنہ یونہی فرنٹ لائن پر رہتے ہوئے جنازے اٹھاتے رہیں گے۔ اداروں کے کہنے پر امن کی آوازوں کو حراساں کرنے کا سلسلہ روکیں کیونکہ ان کی پالیسی تو بدل جائے گی بے گھر ہم نے ہونا ہے۔ قیمت ہم نے مل کر ادا کرنی ہے۔ سوال پوچھیں کہ آخر یہ چھپن چھپائی یہ لانا، بسانا، جنازے اٹھانا اس سے کونسا ملک کا مقصد حاصل ہو رہا ہے جس کی ہمیں سمجھ نہیں۔ جھوٹ بولنے اور ہمارے جنازوں کے اعداد و شمار دکھانے کی بجائے ایک دفعہ سچ پر مبنی بریفنگ دے کر اپنی پالیسی بدلیں۔ اور کان کھول کر سن لیں کہ آج کا یہ ترقی یافتہ مالاکنڈ ریجن یہ سیاحت ترقی اور امن کا گہواہ مالاکنڈ ہم نے ۲۰۱۳ کے بعد سے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے اور کسی کو اس کا امن تباہ نہیں کرنے دیں گے چاہے وہ آنے والے ہوں یا لانے والے!
ہم کاکروچ نہیں ہے ہم اقبال کے شاہین ہیں، ہم اس لیڈر کے ساتھ کھڑے ہیں جو ڈیل کرکہ بھاگا نہیں جو ظالم کے سامنے سر نہیں جھکاتا جو جرنیلوں کی بدمعاشی کو نہیں مان رہا!!!
وزیراعلی سہیل آفریدی
#ناحق_قید_کے_3سال
I will not use the gratuitously rude language you have employed. Your age alone forces me treat you with some courtesy, otherwise you are little more than a bits and pieces dilettante pretending to be an economist with deep insight into what enables economies to grow. Most see you as a wannabe advisor to tyranny. Human flourishing as a holistic project is clearly beyond you. All I said was that the fact that (some, not all) authoritarian East Asian development states achieved rapid growth over time is no guarantee that other authoritarian states will achieve similar growth. I never entered into an argument over what might have fuelled East Asian growth. In fact I implicitly accepted, as a working hypothesis, the premise that authoritarian rule might have aided growth in those countries, though there was clearly much more at play. From Studwell’s How Asia Works to Atul Kohli’s State led Development to Yuen Ang’s How China Escaped the Poverty Trap we are reminded of the complexity that led to growth in East Asia. Key factors, such as the quality of the human capital as well as the depth of state capacity, that were available to the successful East Asians are clearly non-existent in Pakistan. Many a dictatorship in Africa and South America, and Pakistan itself, have been left battered by authoritarian rule. To ease your understanding of my remark kindly note that not every bout of authoritarian rule will be led by a Lee Kuan Yew. Most are likely to be led by a Mobuto or a Pinochet, hugged by superficial number-crunchers like yourself. Of course I am a lawyer and not a development practitioner. Unlike you I don’t pretend to be one. For me economic growth and human dignity are neither binaries nor trade-offs. Certain human rights are non-negotiable. They say war is too important a matter to be left to generals. Likewise human flourishing is too important a matter to be left to economists, much less retired bankers. You have consistently failed to critique, much less condemn, the assault on basic human values underway in Pakistan. This is not surprising. This is the norm for wannabe intellectuals who play it safe: offer technical advice that abstracts from the reality of the tyranny underway and declare periods of oppression to be opportunities to reset the ‘system’. I hope to never run into you.
@ShowbizAndNewz I'm almost certain this brat is either an army officer or a bureaucrat. They're taught to bow before the powerful and bully the powerless..
آپ الٹے لٹک جائیں یہ کٹھ پتلی لڑنے والا نہیں چاٹنے والا گروہ ہے۔ لڑجانے والا قید تنہائی میں ہے۔ ایک آنکھ ضائع ہے۔ مہینوں سے اسکی کوئی خیر خبر نہیں۔ آپ کی پوسٹس آپ کی آواز آپ کی اسے ضرورت ہے۔
ذرائع کے مطابق نون لیگ میں نظریاتی اعتبار سے دو مختلف رائے پائی جا رہی ہیں۔
ایک گروپ کے مطابق بغیر کسی دیر کے مقتدرہ کا سجا پاؤں پکڑ لینا چاہیے کیونکہ حقیقت میں نون لیگ کے باس کوئی عوامی حمایت موجود نہیں۔
دوسری رائے یہ ہے کے کھبا پاؤں پکڑنا چاہئیے کیونکہ وہ زیادہ قریب ہے۔
جو جو جھوٹ عمران خان سے منصوب کیا آخر کار اپنے پر لوٹ کر آیا۔ یہودی ایجنٹ سے لے کر سب سے مشہور جھوٹ کہ عمران خان صدارتی نظام لانا چاہ رہا ہے۔ اور اب سب الفاظ کی ھیر پھیر میں بات کررہے کہ جمہوریت کی ایک نئی شکل بن جائے ایک یونٹ بن جائے۔ ایک قومی حکومت بن جائے۔ کھل کر نہیں بتارہے کہ عاصم یزید صدر بننا چاہتا ہے۔
”آزاد کشمیر میں بدترین قتلِ عام ہو رہا ہے۔
پارٹی ہدایت کے مطابق الیکشن کا بائیکاٹ کیا ہے- عوامی ایکشن کمیٹی کے جائز مطالبات ہیں ان کے ساتھ بات کرنے کے بجائے ان پر گولی چلا رہے ہیں،ہر مسلے کا حل مزاکرات ہے عوام پر گولی چلانے کے بجائے ان کے ساتھ بات کریں ،میں آزاد کشمیر کی عوام بلخصوص پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان سے اپیل کرتا ہوں اس جہلی الیکشن کا بائیکاٹ کریں اور عوام اور شہدا کے ساتھ کھڑے ہوں.“-
میر عتیق سیکرٹری جنرل پاکستان انصاف آزاد کشمیر
🚨🚨 سہیل افریدی کو اخری وارننگ....!!!
پشاور کا جلسہ آخری جلسہ ہوگا
پھر یہ مت کہنا کہ یہ آرٹیکل لگ جائیگا اور ہماری حکومت چلی جائیگی
عمران خان نے کہا تھا کہ ملاقاتیں بند ہوئیں تو صوبہ بند کردینا
صدر انصاف یوتھ ونگ پشاور شاہ زیب