دیتے ہیں تو قومی گرڈ پر دباؤ کم ہو سکتا ہے، جبکہ مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار بھی گھٹ سکتا ہے۔۔
شاید یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان میں توانائی کے شعبے کی سب سے بڑی کہانی بجلی کی لوڈشیڈنگ نہیں بلکہ سولر پینل، لیتھیم بیٹری اور الیکٹرک گاڑیوں کا وہ امتزاج ہے جو آنے والے برسوں میں پورے معاشی منظرنامے کو تبدیل کر سکتا ہے۔
اس لئے حکومت کو ٹیکس لگانے کے بجائے الٹا عوام کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
9/9
جن بوتل سے باہر آ چکا ھے۔
خبر سن رھے ہیں کہ اب حکومت آف گرڈ سولر پر بھی ٹیکس لگانے نا رہی ھے۔۔
اب سولر اور لیتھیم بیٹریز کا کامبینشن ایسا بن چکاہے کہ حکومت جتنا مرضی ٹیکس لگا لے،اسے مکمل طور پر روکنا یا توڑنا آسان نہیں رہا۔حکومت کو شاید ابھی بھی اس بات کا مکمل اندازہ نہیں
1/9
مدت بھی پانچ سے چھ سال تک ہوتی ھے۔
اس وقت پاکستان کے پاس 46 ہزار میگاواٹ سے زائد نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن اصل مسئلہ پیداوار نہیں بلکہ طلب، تقسیم اور لاگت کا ہے۔ اگر لاکھوں صارفین اپنی بجلی کا ایک بڑا حصہ سولر اور بیٹریوں سے حاصل کرنا شروع کر دیتے ہیں
8/9
آج ٹیکنالوجی، کارپوریٹ ہوس اور اے آئی (AI) کی اس خوفناک صورت میں ہمارے سامنے شکل اختیار کر رہی ہے؟ اے آئی بنیادی طور پر انسان کو مذید کاہل اور سست بنا رہا ھے۔
آپ کیا سوچتے ہیں کیا ہم اس فتنے کے دورِ آغاز میں داخل ہو چکے ہیں؟
اپنی قیمتی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں۔۔
8/8
یہ محض اتفاق نہیں ۔۔
اے آئی ڈیٹا سنٹرز کا زمین کے پانی کا بےدریغ استعمال اور یاجوج ماجوج میں پراسرار مماثلت ...
آج دنیا آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کی چمک دمک، چیٹ بوٹس اور تیز ترین ٹیکنالوجی کے سحر میں مبتلا ہے، لیکن اس ڈیجیٹل دنیا کے پیچھے ایک انتہائی خوفناک مادی حقیقت چھپی ہے
1/8
دنیا کو ایک عظیم قحط کی طرف دھکیل رہی ہے۔
کیا یہ سب محض ایک اتفاق ہے کہ انسان کی بنائی ہوئی سب سے طاقتور مادی قوت (AI) بالکل اسی طرح زمین کے پانی کو نگل رہی ہے جیسے یاجوج ماجوج نگلیں گے؟ یا پھر رسول اللہ ﷺ کی حدیثِ مبارکہ میں جس غیبی حقیقت اور تباہی کا بیان کیا گیا تھا۔ وہ
7/8
بھی۔۔ حوثیوں کے حوصلے اتنے بلند ہوگے تھے کہ انہوں نے پاکستان اور ترکی کو بھی دھمکیاں دینا شروع کر دی تھی۔ ترکیہ والے تو الحمدللہ اپنا جواب خود دیں گے اور اس کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، میں صرف پاکستان کے حوالے سے یہ کہوں گا کہ یہ لوگ حوثیوں کی غلط فہمی دور کر چکے ہیں۔۔
3/3
مکہ مدینہ ہماری ریڈ لائن۔۔
پروفیسر جامی صاحب کا یہ کہنا ھے کہ حوثیوں کی سرکوبی اور بیخ کنی پاکستان پر لازم ھے میں اس سے سو فیصد متفق ہوں۔
پروفیسر صاحب کا تجزیہ بلکل درست ھے کہ اب حوثیوں کو لگام ڈالنا ضروری ہو گیا تھا۔ اسکی بڑی وجہ یہ ھے کہ اگر امریکہ ایران جنگ میں ہم یہ نہیں
1/3
چاہتے تھے کہ ایران عدم استحکام کا شکار ہو، تو آج ہم یہ بھی نہیں چاہیں گے کہ سعودیہ عدم استحکام کا شکار ہو۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ سعودی عرب کا عدم مستحکم ہونا، پاکستان کی سالمیت کے لیے ایک وجودی خطرہ ہے۔ سعودیہ کے دفاع میں پاکستان کو ہر حد تک جانا چاہیے اور ان شاءاللہ جائے گا
2/3