Dear Elon, Despite your bold stand for Freedom of Speech & antagonizing European Govts for it; Team X is censoring tweets critical of Pakistan’s military regime & throttling accounts that stand for Democracy & Rule of Law in Pakistan- X is increasingly surrendering to Pakistani Generals! Please look into it @X@elonmusk
بلوچستان میں ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اسے چھپایا جا رہا ہے
بلوچستان فیصل نصیر کی ناکامی بھی ہے کیونکہ وہ وہاں ایک لمبے عرصے کے لیے رہے لیکن کوئی خاطرخواہ کارکردگی نہیں تھی
ہماری ایجنسیاں اس وقت یوٹیوب اور Xکے پیچھے لگی ہوئی ہیں اور اپنے اصلی کام کو بھول چکی ہیں
معید پیرزادہ
https://t.co/Ef1RRMMxdw
خیبر امن جرگہ میں سہیل آفریدی کے بڑے فیصلے! جرنیلوں کی طاقت کو چیلنج کر دیا؟ دوسری طرف حوا بلوچ کی شکل میں بلوچستان کی تحریک کو ایک نئی ہیرو مل گئی ! بلوچ عورت کا اس تحریک کا symbol بننا پاکستانی فوج کے لئے خطرے کی گھنٹی ہی، مگر جرنیل سمجھ نہیں پا رہے!
یہاں پر سوال کھانا کھلانے کا نہیں سوال یہ ہے کہ دہشتگرد میرے گھر تک پہنچے کیسے ؟ سکیورٹی فورسز کا کام بارڈر کی حفاظت کرنا ہے میرے گھر تک آنے میں 50 چیک پوسٹیں آتی ہیں دہشتگرد ان کے بارڈر کراس کرتے ہیں 50 چیک پوسٹیں کراس کرتے ہیں یہ سب وہ کیسے کرتے ہیں ؟ یہ انکو روکتے نہیں جب وہ ہمارے گھر تک پہنچ جاتے ہیں تو ہمیں اٹھا لیتے ہیں ۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا جرگہ سے خطاب
ظلم کے سامنے سر نہ جھکانے کی سزا 900 دن کی قید
حسان نیازی پر جاری ملٹری ٹرائل اور اپیل کے حق سے محرومی ثابت کرتی ہے کہ ملک میں قانون نام کی کوئی چیز باقی نہیں۔ سپریم کورٹ کے واضح احکامات پر عمل نہ ہونا عدلیہ کے منہ پر طمانچہ ہے۔
#ReleaseHassanNiazi#StopPoliticalVictimization
سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے عاصم لا کے تحت ذہنی مریض اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں غیر قانونی جبری اغواء کو 912 اور 648 دن ہوچکے ہیں جبکہ 91 دن سے عمران خان اور بشریٰ بی بی اسٹیبلشمنٹ کی بدترین قید تنہائی میں ہیں!
#912DaysOfInjustice
70 سالہ عارضہ قلب میں مبتلا میاں محمود الرشید 9 مئی کے بوگس کیسز میں ناحق قید کے 1000 دن:
پریس کانفرنس کروانے کیلئے دوران حراست انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، میاں محمود الرشید کو متعدد دفعہ دل کی شدید تکلیف ہوئی لیکن پراپر علاج نہ کروایا گیا۔
جون 2024 میں دورانِ قید ان کا اپینڈکس پھٹ گیا، جس کی وجہ سے ان کی ہنگامی سرجری کرنی پڑی،تشویشناک بات یہ تھی کہ آپریشن کے فوراً بعد جب زخم ابھی تازہ تھے، انہیں واپس جیل کی تپتی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا گیا، جو کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی تھی۔
میاں محمود الرشید کو حال ہی میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں نے مختلف مقدمات میں 10 سے 33 سال تک کی سزائیں سنائی ہیں تمام عدالتی فیصلے رات کے اندھیرے میں سنائے گئے دفاع کا پورا موقع تک نہیں دیا گیا۔
ان کا جرم کوئی مالی کرپشن یا غداری نہیں، بلکہ صرف یہ ہے کہ انہوں نے اپنے لیڈر کا ساتھ چھوڑنے اور "مصلحت" کا شکار ہوکر پریس کانفرنس سے انکار کیا تھا۔ ان کی قید دراصل ان تمام لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے جو سمجھتے ہیں کہ جبر کے ذریعے نظریات کو بدلا جا سکتا ہے۔
#releasepoliticalprisoners
#FascismUnderAsimLaw
میرے بھائی انیس شہزاد ستی شہید کا ڈیتھ سرٹیفیکیٹ ہے اس میں تاریخ 26-11-2024 واضح لکھی ہوئی ہے اور ساتھ موت کی وجہ گن شاٹ گولی لگنے سے کوئی یہ بھی مینشن ہے وہ بے غیرت جو یہ کہتے ہیں کہ گولی نہیں چلی لاشیں کہاں ہیں تو یہ ثبوت ہے کہ ڈی چوک میں نہتے کارکنان پر گولیاں برسائی گئی میں اس واقعے کا چشمہ تید گواہ ہوں کہ میرے بھائی کو سنائپر کے ذریعے بلیو ایریا میں سٹریٹ لائف کی بلڈنگ سے فائر کر کے شہید کر دیا گیا