شمالی وزیرستان کے آپریشن کے دوران وطن پر اپنی دونوں ٹانگیں نچھاور کرنے والے غازی فوجی جوان کا اپنے آبائ علاقے میں والہانہ اور مثالی استقبال
سندھ کے علاقے ٹنڈو اللہ یار سے تعلق رکھنے والے اور وطن پر اپنی دونوں ٹانگیں نچھاور کرنے والے غازی سپاہی عزیر کی صحت یاب ہونے کے بعد آبائی علاقے میں واپسی
غازیِ کی اپنے علاقے میں واپسی پر مقامی شہریوں کی جانب سے شاندار استقبالیہ ریلی کا انعقاد*
سپاہی محمد عزیر 10 مئی 2026 کو شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں خوارج کے بارودی دھماکے میں شدید زخمی ہوئے ت��ے، جہاں وطن کے دفاع کے دوران ان کی دونوں ٹانگیں ضائع ہوگئیں۔
سی ایم ایچ پشاور سے علاج مکمل ہونے کے بعدآبائی علاقے پہنچنے پر مقامی شہریوں نے انہیں بھرپور محبت، احترام اور عقیدت کے ساتھ خوش آمدید کہا۔
ریلی میں شہریوں، بزرگوں، نوجوانوں اور بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور قومی پرچم اٹھا کر پاک فوج سے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کیا* ۔
شرکاء نے "پاکستان زندہ باد" اور "پاک فوج زندہ باد" کے فلک شگاف نعرے لگاتے ہوئے غازی سپاہی محمد عزیر کی قربانی کو سلام پیش کیا۔
ریلی کے دوران شہداء اور غازیوں کی لازوال قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستانی قوم اپنی مسلح افواج کے ساتھ ہمیشہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی رہے گی، کیونکہ شہداء اور غازی پوری قوم کا فخر اور وطن کے اصل ہیرو ہیں۔
یہ وہ عزت، محبت اور احترام ہے جو قوم اپنے شہداء اور غازیوں کو پیش کرتی ہے، اور یہ وہ سرمایہ ہے جسے نہ تنخواہوں سے خریدا جا سکتا ہے اور نہ ہی دولت سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
فوجی شہداء کی زمینیں ایک فوجی آمر کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے ہڑپ کر جانے کے بعد فوجی شہداء کی تضحیک کرنا اور حقیقی جمہوریت کا علمبردار ہونے کا ڈرامہ کوئی مولانا فضل الرحمن سے سیکھے۔۔!!!
سبحان تیری قدرت۔۔!!!
#ہمارے_شہداء_ہمارا_فخر
یہ پارلیمان ناجائز ہے اور اسٹیبلسمنٹ کی لونڈی بن چکی ہے مولانا فضل الرحمان
میرے پیارے مولانا صاحب اسی پارلیمان سے تنخواہ لینا حلال ہے اسی پارلیمنٹ لاجز میں پرتعیش ��ندگی بسر کرنا جائز ہے اور اسی پارلیمان سے نیلا پاسپورٹ لے کر بزنس کلاس میں سفر مطابق شرح ہے اور اسی پارلیمان سے گاڑیوں میں تیل ڈلوانا بھی حلال ہے
آپ ایسی ناجائز اور فوج کی لونڈی سے مستعفی کیوں نہیں ہوتے
اوئے بولو تے سہی
اس منافق کو اسلام سے زیادہ اسلام آباد عزیز ہے
اور اسلام آباد سے ہی مفادات وابسطہ ہیں
اب جب اسلام آباد میں اسے کسی نے ہڈی نہیں ڈالی
تو یہ پاک فوج کے عظیم شہداء اور غازیوں کو پڑ گیا ہے ،،
تیرے گفتار پر لعنت 🖐️
تیرے کردار پر لعنت 🖐️
جو لوگ پاک فوج کے شہداء کا مذاق اڑاتے ہیں، وہ نہ صرف اپنی کم فہمی کا اظہار کرتے ہیں بلکہ اُن قربانیوں کی بھی بے قدری کرتے ہیں جن کی بدولت ہم امن اور آزادی کی فضا میں سانس لیتے ہیں۔ شہداء احترام کے مستحق ہیں، اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر شہداء کی توہین کسی مہ��ب معاشرے کا رویہ نہیں۔
ایکشن کمیٹی کے کن کترے عوامی حمایت نا ملنے پر لانگ مارچ سے فرار ہوگئے ہیں اور طرح طرح کے ڈرامے کر ریے ہیں کہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔ سب جھوٹ اور قصے کہانیاں ہیں۔ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر پر تین جنگیں لڑی ہیں۔ مہاجروں کا حق کھانے کی اجازت کسی کو نہیں ملے گی۔
مولانا فضل الرحمن کے کلپ دیکھ�� جس میں پاک فوج کے شہیدوں کو پیسوں سے تول کر طعنے مارنے گئے
آپ فوج کے سیاسی کردار پر بات کر سکتے ہیں لیکن شہیدوں کا مذاق اڑانا ، طعنے مارنا انتہائی گھٹیا حرکت ہے
زرا سوچیئے شہید بچوں کے والدین پر کیا گزرتی ہو گی💔
#ڈیزل_معافی_مانگو
موت کے خوف سے درجنوں گارڈز اور بم پروف گاڑیوں میں گھومنے والا بزدل مولانہ ۔۔۔ بارڈر پر بہادری سے لڑتے ہوئے سینے پر گولی کھانے والے شہداء کا مذاق اڑا رہا ھے۔۔ پتہ نہیں یہ ناسور کب پاکستان کی جان چھوڑیں گے۔
#ڈیزل_معافی_مانگو
کاش مولانا فضل الرحمن کا کوئی بیٹا بھی تنخواہ کے عوض شہید ھوتا اور مولانا اس ماں کی طرح اپنے بیٹے کی قبر پر یوں پھول ڈال رہا ھوتا تو تب مولانا کو پتہ چلتا کہ تنخواہ کے بدلے شہید ھونا کیسا محسوس ھوتا ھے
جن سیاستدانوں کے بیانات مولانا جماعت پھیلا رہی ہے ان سیاستدانوں نے اپنے بیانات کا بدلہ بھی چکایا ہے اور انہوں نے عدالتی قتل سمیت نااہلیاں قید و بند کی صعوبتیں بیوی کو بستر مرگ پر چھوڑ کر بیٹی کی اپنے سامنے گرفتاری اور گولی کھانے سے چہرے پر سیاہی گرنے تک کے مصائب برداشت کئے ہیں اور اگر مولانا کی سیاسی زندگی پر نظر دوڑائیں تو گزشتہ 26 سال میں مشرف آمریت ادوار میں بھی مولانا کی گاڑی پر جھنڈا ہی لہراتا دکھائی دیا ہے