محترم شہباز گل، میں آپ کی عزت کرتی تھی لیکن آج آپ نے اپنی وی لاگ میں مجھ سے منصوب جھوٹا ٹویٹ شئیر کیا۔ میرا کسی ادارے سے کوئی تعلق نہیں، نا ہی پاکستان کنکٹ کا کسی دوسرے ادارے سے تعلق ہے۔ اگر آپ نے میرے خلاف الزامات نا ہٹائے تو میں آپ کے خلاف امریکہ میں قانونی چارہ جوئی کرونگی، علاوہ ازیں یوٹیوب پر بھی بلا اجازت میری تصاویر استعمال کرکے جھوٹا پراپیگینڈا پر شکایت ہوگی۔
@SHABAZGIL
@CMShehbaz Pakistan’s youth are the driving force of our digital future. 🇵🇰
Google’s focus on AI, IT skills & student opportunities can help young Pakistanis compete globally.
Credit to PM Shehbaz Sharif for supporting this vision.
#GoogleInPakistan
Google’s permanent presence in Islamabad marks a new chapter for Pakistan’s digital economy.
A strong vote of confidence in our tech potential. Credit to PM @CMShehbaz & the Government of Pakistan.
#GoogleInPakistan
Google’s first permanent office in Pakistan is a major milestone for our digital future. 🇵🇰
A welcome boost for investment, innovation & tech opportunities.
#GoogleInPakistan
گوادر کی سرزمین پر جشنِ آزادی کے شاندار مناظر نے ثابت کر دیا کہ بلوچستان کا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ قومی پرچم، جوش و جذبہ اور قیادت و سکیورٹی اداروں کی بھرپور شرکت یہی ہے اتحاد، یہی ہے پاکستان۔🇵🇰
#محفوظ_و_خوشحال_بلوچستان#14AugustInBalochistan
گوادر کی آزادی تقریب میں ماہی گیر، تاجر، نوجوان، خواتین اور سول سوسائٹی ایک ساتھ نظر آئے۔ بلوچی ثقافت، ملی نغموں اور قومی جذبے نے پاکستان سے محبت کا خوبصورت پیغام دیا۔
#محفوظ_و_خوشحال_بلوچستان#14AugustInBalochistan
گوادر میں آزادی کی خوشیوں کا شاندار میلہ سجا، جہاں سیاسی و سماجی شخصیات، تاجروں، ماہی گیروں اور نوجوانوں نے بھرپور شرکت کی۔ قائداعظمؒ کی جدوجہد اور پاکستان سے محبت نے تقریب کو مزید یادگار بنا دیا۔
#محفوظ_و_خوشحال_بلوچستان#14AugustInBalochistan
گوادر میں یومِ آزادی کی پروقار تقریب نے حب الوطنی، قومی یکجہتی اور پاکستان سے محبت کے جذبے کواجاگرکردیا۔وزیراعلیٰ بلوچستان،کور کمانڈر بلوچستان،جی اوسی گوادراورڈی جی پی سی جی کی شرکت نےتقریب کی شان بڑھا دی۔
#محفوظ_و_خوشحال_بلوچستان#14AugustInBalochistan
گوادر میں جشنِ آزادی کے موقع پر بلوچی ثقافت، ملی گیتوں اور عوامی جوش نے تقریب کو چار چاند لگا دیے۔ ماہی گیروں سے نوجوانوں تک، سب نے پاکستان سے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کیا۔
#محفوظ_و_خوشحال_بلوچستان#14AugustInBalochistan
گوادر میں جشنِ آزادی کا رنگا رنگ انعقاد، قومی پرچم، جوش و خروش اور اتحاد کا شاندار منظر پیش کر گیا۔ معزز شخصیات کی شرکت نے تقریب کی رونق دوبالا کر دی۔
#محفوظ_و_خوشحال_بلوچستان#14AugustInBalochistan
گوادر میں یوم آزادی کی پروقار تقریب یکجہتی کا خوبصورت مظہر بنی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان، کور کمانڈر بلوچستان، جی او سی گوادر اور ڈی جی پی سی جی کی خصوصی شرکت نے تقریب کو مزید یادگار بنا دیا۔
#محفوظ_و_خوشحا��_بلوچستان
#14AugustInBalochistan
گوادر میں آزادی کی خوشیوں کا شاندار میلہ سجا جہاں سیاسی و سماجی شخصیات، تاجروں، ماہی گیروں اور نوجوانوں نے بھرپور شرکت کی۔ قائداعظمؒ کی جدوجہد اور پاکستان سے محبت نے تقریب کو مزید یادگار بنا دیا۔
#محفوظ_و_خوشحال_بلو��ستان
#14AugustInBalochistan
گوادر بھی سبز ہلالی رنگوں میں رنگ گیا !
ہر طرف لہراتے پرچم، روشنیاں اور جشنِ آزادی کا جوش نظر آ رہا ہے۔ گوادر کے عوام کا یہ جذبہ پاکستان سے محبت اور قومی یکجہتی کی خوبصورت عکاسی ہے۔
#محفوظ_و_خوشحال_بلوچستان#14AugustInBalochistan
تربت کو پاکستان مخالف بیانیے سے جوڑنے والوں کے لیے آج کے مناظر ہی کافی ہیں۔
شہر کی سڑکوں پر لہراتے سبز ہلالی پرچم اور جشنِ آزادی کا جوش پاکستان سے محبت اور قومی وابستگی کی واضح تصویر پیش کر رہے ہیں۔
#محفوظ_و_خوشحال_بلوچستان#14AugustInBalochistan
سبی میں جشنِ آزادی کا جوش قابلِ دید ہے!
بچوں کےملی نغموں سےلےکر پاکستان زندہ باد کی صداؤں تک ہرمنظروطن سےمحبت کا پیغام دے رہاہے۔ بلوچستان کایہ جذبہ قومی یکجہتی اور پاکستان سے وفاداری کی خوبصورت تصویر ہے۔
#محفوظ_و_خوشحال_بلوچستان#14AugustInBalochistan
بلوچستان کے عوام نے ثابت کر دیا کہ آزمائشیں وطن سے محبت کے جذبے کو کم نہیں کر سکتیں۔
زخموں اور مشکلات کے باوجود جشنِ آزادی پر سبز ہلالی پرچموں کا یہ جوش پاکستان سے وفاداری اور عزم کی خوبصورت علامت ہے۔
#محفوظ_و_خوشحال_بلوچستان#14AugustInBalochistan
The Delusional Fabrication of Hoodbhoy
A Desperate Bid for Attention
The self-proclaimed "economist" Pervez Hoodbhoy has once again concocted a baseless story simply to drag himself back into the media spotlight, attempting to demean the nation's builders in the process.
This is far from his first offense. Hoodbhoy has a long history of mocking basic ethics and decency most notably during his teaching tenure, when he insulted a female student wearing a burqa by comparing her to women from the Stone Age.
His latest claims regarding an alleged meeting between the Vice Chancellors of 25 Islamabad universities and the DG ISPR have zero factual basis. No evidence or verification of such a meeting exists anywhere, exposing his narrative as an absolute lie.
Driven by sheer desperation for attention and questionable motives, this entirely fabricated story reflects nothing more than personal malice and a cheap attempt to stay relevant at the cost of truth and respect.
@Hanzalamalik97 Facts matter. Allegations without evidence only damage credibility. Public discourse should be built on truth, not fabricated narratives for attention.
The Delusional Fabrication of Hoodbhoy
A Desperate Bid for Attention
The self-proclaimed "economist" Pervez Hoodbhoy has once again concocted a baseless story simply to drag himself back into the media spotlight, attempting to demean the nation's builders in the process.
This is far from his first offense. Hoodbhoy has a long history of mocking basic ethics and decency most notably during his teaching tenure, when he insulted a female student wearing a burqa by comparing her to women from the Stone Age.
His latest claims regarding an alleged meeting between the Vice Chancellors of 25 Islamabad universities and the DG ISPR have zero factual basis. No evidence or verification of such a meeting exists anywhere, exposing his narrative as an absolute lie.
Driven by sheer desperation for attention and questionable motives, this entirely fabricated story reflects nothing more than personal malice and a cheap attempt to stay relevant at the cost of truth and respect.
اسلام مخالف اور لادین پروفیسر ہود بائے کا جھوٹ پکڑا گیا
کچھ لوگوں کی وجہ شہرت انکی خدمات ہوتی ہیں جبکہ کچھ لوگ اپنی گھٹیا زبان، جھوٹ اور منافقانہ رویے کے باعث بدنامِ زمانہ ہوتے ہیں۔
اپنے طلبہ کو دین سے باغی کرنے والا، اسلام کیخلاف سرِعام باتیں کرنے والا زہریلے دہریے ہود بائے سے کون واقف نہیں؟
سب جانتے ہیں کہ بے دین ہود بائے نظریہ اسلام اور نظریہ پاکستان دونوں کا مخالف ہے اور اسلام دشمن مغربی قوتوں کا دلال ہے۔
اب ایسے متنازعہ اور بے دین انسان کی بات میں صداقت کتنی ہوگی؟؟
یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ 25 وائس چانسلرز کا بلایا گیا لیکن نام ایک کا بھی نہیں لیا۔
پھر کہتا ہے کہ فلاں وائس چانسلر نے بتایا لیکن نام پھر نہیں لیا۔
یعنی ڈھٹائی سے جھوٹ بولنا بھی اسکی مہارت ہے۔
حقیقت میں یہ وہ شخص ہے جسکی نا اپنے شعبے میں عزت ہے اور نا ہی پاکستانی اسے منہ لگانا پسند کرتے ہیں اسی لیے یہ احساسِ کمتری کا شکار اسطرح کی جھوٹی باتیں کرکے بس توجہ حاصل کرنا چاہتا ہے