بڑی کرسی پہ براجمان چیف جسٹس کے کمرے تک پہنچنے کےلیے ارشد شریف کی ماں کو کس قدر اذیت سہنی پڑتی تھی مگر یہ مظلوم خاتون ویل چیئر پہ دھکے کھاتی دنیا سے رخصت ہو گئی ۔ بیٹا تو کھو دیا مگر ان عسکری عدالتوں سے انصاف بھی نہ مل سکا۔
دل پہ رستا زخم لئےارشد شریف شہید کی والدہ محترمہ چلی گئیں پورا معاشرہ کٹہرے میں کھڑا ہے۔سوالات۔پوری گھن گھرج کے ساتھ گونج رہے ہیں۔ قتل سے قبل خوفناک تشدد کیوں؟ مریم نواز کا بے ساختہ اظہار مسرت کیوں ۔ مثلاً تفتیش کی اجازت کیوں نہیں ۔ شہید زندہ رہے گا اورزخم ہرے رہیں گے۔
آج ایک اور ماں عدالتوں کے چکر لگاتے ہوۓ بغیر انصاف ملے اس دنیا سے چلی گئی ۔۔
اس ملک میں انصاف صرف بوٹ ، مریم ، شہباز اور بلاول جیسے لوگوں تک محدود ہے کیونکہ سارا نظام ہی ان کے اور ان کی نسلوں کے لیے بنایا گیا ہے ۔۔
وہ وقت دور نہیں جب لوگ تھوکیں گے ان عدالتوں پے ، اداروں پے ۔۔
مزاحمت ہی واحد حل ہے ، بغاوت ہی بقا ہے ❤️🩹🔥
ایک ماں اپنے بیٹے کے قاتلوں کا ریاست کو بتاتی رہی لیکن وہ شاید یہ نہیں جانتی تھی کہ اس کے بیٹے کے قاتل خود کو ہی ریاست سمجھتے تھے
آج وہ ماں جنت میں اپنے بیٹے کے پاس چلی گئی
یہ ایک امریکی خاتون بول رہی ہے کہ ہم نے عمران خان کی حکومت اس وجہ سے گرائی کہ وہ چین کے بہت زیادہ قریب ہوگیا تھا
ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ایسی پالیسیاں بنائے جس سے امریکہ کو فائدہ پہنچے
یہ رہا ثبوت کہ باجوہ نے کس وجہ سے خان کی حکومت گرائی تھی
ارشد شریف صاحب کی والدہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں ،
اللہ کے حضور پیش ہو کر اپنے شہید بیٹے کے قتل کا مقدمہ دائر کریں گی ،
وہاں سے ضرور انصاف ہوگا انشا اللہ کیونکہ اس عدالت میں کوئی یحییٰ آفریدی ،امین الدین خان ،عالیہ نیلم،عامر فاروق اور جسٹس ڈوگر نہیں ہوں گے
ارشد شریف کی والدہ رفعت آراء علوی انتقال کر گئیں،انا للہ و انا الیہ راجعون!
شہید ارشد شریف کے لیے انصاف کا تقاضہ کرتیں۔۔ اس ملک کی طاقت ور ترین شخصیات کو اپنے فرزند کے قتل کے مقدمے میں نامزد کر کے انصاف کی راہ دیکھتیں رفعت علوی ارشد شریف کی تیسری برسی کے ٹھیک دو دن بعد چل بسیں۔۔ یہ تصویر اس دن کی ہے جب وہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی عدالت میں انصاف کی دہائی دینے آئیں، انہیں کیا معلوم تھا ان کے بیٹے کے قتل کے تانے بانے وہاں تک جاتے ہیں جہاں اس ملک کی منصف سر نہیں اٹھا سکتے، اللہ مغفرت فرمائے، کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، آمین
مجھے آج بھی وہ لمحہ یاد ہے، جب ارشد شریف شہید کی والدہ مرحومہ سوموٹو کیس میں چیف جسٹس بندیال کی عدالت میں انصاف کی امید لیے آئیں، انہوں نے ایک لفافے میں 5 نام لکھ کر چیف جسٹس کے حوالے کیے، تاکہ ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج ہو سکے۔ بندیال صاحب نے لفافہ کھولا، نام پڑھے تو چہرے کے تاثرات بدل گئے، پھر انہوں نے اپنے دائیں بائیں بیٹھے ججز کو وہ نام دکھائے اور لفافہ بند کرتے ہوئے کہا: “آپ نے تو طاقتور لوگوں کے نام دے دیے ہیں۔” بس وہیں بات ختم ہو گئی۔ نہ ایف آئی آر کا حکم دیا گیا، نہ انصاف کی کوئی رمق نظر آئی۔
میں ارشد بھائی کی برسی پر ابھی دو دن پہلے آنٹی کے پاس تھی جب سہیل آفریدی افسوس کرنے آئے۔
آنٹی ارشد شریف کی جیتی ہوئی ٹروفیز، میڈلز دکھاتی رہیں۔ بہت دیر اپنے بیٹے کی بات کرتی رہیں۔
ان کا یہ جملہ شاید ہمیشہ میرے ساتھ رہے، "بیٹا، میرے دو ہی بیٹے تھے۔ دونوں اس وطن پر قربان ہو گئے"
Arshad’s mother kept waiting for Justice! But Pakistan betrayed her like countless others! May Allah bless her brave & noble soul and give fortitude to all family & loved ones to bear this loss! Amen!
کوئی تو روے لپٹ کر جوان لاشوں سے
اسی لئے تو وہ بیٹوں کو مایں دیتا ہے!