جب اس کھوتی کو کسی نوکری سے نکالا جاتا ہے۔ تو اسکے ہمدرد کہتے ہیں کہ سیاسی دباؤ کی وجہ سے نکالا گیا ہے۔
اور خود اس کی صحافت کا معیار یہ ہے کہ علی ڈار اور حسنین ڈار دونوں بھائ ہیں۔
اور اس نے حسنین ڈار کو علی ڈار کا بیٹا بنا دیا ہے۔
ماموں(علی ڈار) نے ٹریس کر کے بھانجے کو پکڑوایا اور مامی کی بہن (وزیر اعلیٰ) نے 2 گھنٹے میں خواتین کو بازیاب کر کے ملزمان کو گرفتار کرنے کا آرڈر دیا. فیصل واڈا، جیالوں اور انصافیز کی پچ پر کچھ پٹواری بھی آہو نی اہو کر رہے ہیں.
غیر ملکی خواتین جو کہ اب اس ملک میں نہیں اپنے اپنے ملک میں ہیں. اگر رضا ڈار نے ہی زیادتی کی ہوتی تو وہ وہاں جا کر پریس کانفرنس کر سکتی تھیں.
جہاں آپ کی پارٹی کی حکومت نے اچھا کام کیا وہاں داد دینے کی بجائے آپ جیالوں کی پوائنٹ سکورنگ اور گندی کمپین کا حصہ بن رہے ہیں.
مجال ہے کوئی کام ڈھنگ سے کر لیں پتہ نہی ان لوگوں کو کیوں احساس نہی ہوتا کہ بجلی اور پٹرول پر عوام ان سے کتنی ناراض ہے۔ اس بنیادی سہولت پر سانپ بن کر بیٹھے ہوئے۔
آپ عوام کو ٹک ٹاکرز یا یوٹیوبرز کو فالو کرنے سے نہیں روک سکتے۔ آج کی نئی نسل، بالخصوص وہ نوجوان جو محنت سے کتراتے ہیں، انہی لوگوں کو اپنا ہیرو مان چکے ہیں۔
یہ بڑے ٹک ٹاکرز اور یوٹیوبرز کھلے عام دولت کی نمائش کرتے ہیں۔ بغیر کسی اعلیٰ تعلیم یا ڈگری کے، محض چند سالوں میں انہوں نے لگژری گاڑیاں اور فارم ہاؤسز بنا لیے ہیں۔ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس غیر ملکی دوروں اور برانڈز کی پروموشن سے بھرے پڑے ہیں، جہاں وہ ایک سطحی سی ویڈیو کے لاکھوں روپے وصول کرتے ہیں۔
ایسے میں اسے دیکھنے والا نوجوان بھلا کیوں سوچے گا کہ وہ پڑھائی پر لاکھوں خرچ کرے اور برسوں دھکے کھائے؟ اس کے نزدیک تو یہی کامیابی ہے کہ وہ پانچ سال یوٹیوب کو دے کر کسی بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص یا افسر سے زیادہ کما سکتا ہے۔
آپ اس مائنڈ سیٹ کے سائیکل کو نہیں توڑ سکتے۔ اس معاشرے میں ہر کسی کو امیر ہونے کی جلدی ہے، اور بدقسمتی سے، ہر کسی کو شارٹ کٹ کے ذریعے دوسروں کو بے وقوف بنانے کا حق بھی مل گیا ہے۔ آپ اس رویے سے جتنی چاہیں نفرت کر لیں، مگر اس تلخ حقیقت کو نہیں بدل سکتے
میم جب آپ اگلی دفعہ اسمبلی جائیں تو اسپیکر سے پوچھیے گا کہ رجب بٹ کو کس لیے ایوارڈ دیا ہے
اور مزید اپنی کسی سہیلی وزیر سے بھی پوچھیے گا کہ ان پر محکمہ جنگلی حیات کی طرف سے ایک کیس بنا تھا تو کس نے ان کو چھڑوایا ۔
قوم تو ہوئی ویلی نکمی
مگر سرکار میں بیٹھے لوگوں کی کیا مجبوری ہے ؟
میرے ذرائع یہ بتا رہے ہیں کہ دونوں لڑکیوں کو مبینہ طور پر واپس اپنے ملک بھیجا جا چکا ہے، مسئلہ تب خراب ہوا جب لڑکیوں نے پیسے منگوانے کے لیئے گھر والوں سے رابطہ کیا،پھر وہاں سے پاکستان میں ایمبیسی سے رابطہ ہوا اور معاملہ اچھلا جس کے بعد مقدمہ ہوا، یہ بھی خبر ہے کہ SHO بھی معطل ہوا
مریم نواز نے ظلم کر دیا،
مریم نواز غریبوں کو موٹرسائیکل بھی آزادی سے نہیں چلانے دیتی،
شریفوں نے ہیلمٹ امپورٹ کر لئے ہیں،
نتیجہ: ہیڈ ٹراما میں 40% اور ایکسڈنٹ ہلاکتوں میں 97 فیصد کمی۔
ہم ننھے بچوں کی طرح ہر معاملے پر رونا دھونا شروع کردیتے، نتائج چاہے ہمارے فائدےمیں ہوں
لاہور میں چھت گرنے سے 14 معصوم بچوں کے المناک جانی نقصان پر دلی رنج ہوا۔ یہ ننھے پھول قوم کا مستقبل تھے۔ دکھ کی اس گھڑی میں میری ہمدردیاں سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ مریم نواز شریف نے مجھے بتایا ہے کہ وہ مصمم ارادے کے ساتھ اس افسوسناک واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ انکوائری کروا کر مجرمان کو قرار واقعی سزا دلوائیں گی۔ اللہ تعالیٰ بچوں کو جوارِ رحمت میں جگہ، زخمیوں کو کامل شفا اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین
شہزاد بھائی.. کچے پکے مکانوں میں کونسا لائسنس کے کر اکیڈمی بنائی ہونی؟محلے کے کچھ بچوں کو اکٹھا کر کے ٹیوشن سنٹر بنا لیا ہونا. جیسے آپ کے ہمارے دور میں محلے کے بچے کسی ایک کے گھر ٹیوشن پڑھنے چلے جاتے تھے.. ان گھروں میں 10 12 بچے پڑتے جس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا نہ بن سکتا تو کیسے چیک کیا جا سکتا؟ پلیز ہر بات کی تنقید بھی ٹھیک نہیں ہوتی