ایک عام سا TV رپورٹر، وہاں سے TV چینلز کا مالک پھر سوسائیٹیوں کا مالک پھر نگران وزیراعلی اور وہاں سے کسی بھی سیاسی پارٹی کا رکن نہ ہونے کے باوجود سینٹر
پھر وزیرداخلہ، وزیرخارجہ، وزیردفاع، PCB کا چئیرمین بھی، وزیراعظم کے اختیارات بھی
اگر نظام تباہ نہ ہوتا تو یہ آج کسی پرائیوٹ سکول میں ٹیچر، کسی اخبار میں چھوٹا موٹا رپورٹر، یا کوئی کریانہ سٹور مالک ہوتا
اخے نظام تباہ ہو چکا ہے
ن لیگ اور پیپلز پارٹی پر مشتمل سسٹم کولیپس کر گیا ہے لیکن ن لیگ اس کے باوجود آزاد کشمیر میں ٹاپو ٹاپ جتوا جا رہی ہے ۔
ہاتھی کے دانت کھانے کے اور ،دکھانے کے اور
"سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے..."
قائد اعظم یونیورسٹی کا پی ایچ ڈی طالب علم اسامہ جمیل راولاکوٹ میں گولی کا نشانہ بن کر شہید ہو گیا۔
قائداعظم یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کا طالب علم اسامہ جمیل فیصلہ سازوں کے اقتدار بچانے کی حوس کا نشانہ بن گیا۔ جب سے یہ رجیم آئی ہے اس نے پرامن مظاہرین کو قابو کرنے کے لیے سیدھی گولیوں کا فسطائی نظام شروع کیا ہے،اس کے باوجود چار سال سے عوام ان کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ آج جو خون کا کھیل آزاد کشمیر میں کھیلا جارہا ، یہی کھیل پہلے چھبیس نومبر کو پی ٹی آئی کے خلاف ، مریدکے میں ٹی ایل پی کے خلاف بھی کھیلا جا چکا ہے۔ جب تک پوری قوم متحد ہوکر نہیں نکلے گی ماوں کے بے گناہ بچے ایسے ہی شہید ہوتے رہینگے۔
جب تک پوری قوم متحد ہو کر اس ظلم کے خلاف نہیں کھڑی ہوگی، ماؤں کے بے گناہ بچے یوں ہی قربان ہوتے رہیں گے۔
#مزاحمت_سے_انقلاب_آئے_گا
ہمارے ہاں ویسا احتجاج کیوں نہیں ہوا جیسا بھارت میں دیکھنے کو ملا؟ اس کی ایک واضح وجہ ہے۔ اگر یہاں کاکروچ جنتا پارٹی کا چیئرمین مال روڈ پر آ کر احتجاج کرے تو رات کو اس کی بوڑھی ماں کا دوپٹہ اتارا جائے گا، اس کی بہن کو اغوا کر لیا جائے گا
بیرسٹر ابوذر سلمان نیازی
سینے پہ گولی کھائیں گے
انقلاب لائیں گے
اپنے نعروں سے نوجوانوں کا لہو گرمانے والا قائداعظم یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کا طالبعلم اسامہ جمیل فورسز کی گولیوں کا نشانہ بن گیا 💔
فوج نے 90 کی دہائی میں ہی بھانپ لیا تھا کہ طلبہ فوج کے اقتدار کیلئے آنے والا سب سے بڑا خطرہ ہیں اسلئے مشرف نے تمام طلبہ تنظیمیں ختم کردی تھیں اور تعلیمی اداروں میں سیاسی سرگرمیاں ختم!
عمران خان کو سزاسنانے والا جج بھی ہائیکورٹ کا جسٹس بن گیا
عمران خان کے خلاف کیس لڑنے والا وکیل بھی ہائیکورٹ کا جسٹس بن گیا۔۔
عمران خان کی بہنوں سے ملاقات کو سیکیورٹی تھریٹ کہنے والا ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد بھی اسلام آباد ہائیکورٹ کا جسٹس بن گیا۔۔
ایسا جسٹس کبھی دیکھا نہ سنا🙂🙂
آج تین لوگوں کو ہائی کورٹ کا جج بنایا گیا۔
پہلا جس نے عمران خان کو سزا سنائی ۔
دوسرا وہ پراسیکیوٹر جو عمران خان کے خلاف کیس لڑتا رہا۔
تیسرا اسلام آباد کا ایڈووکیٹ جنرل جو عدالت میں عمران خان اور انکی بہنوں کی ملاقات کو سیکورٹی ٹھریٹ کا کہتا رہا ا ور ملاقات کی مخالفت کرتا رہا۔
نورین خان نیازی کے ساتھ مولانا فضل الرحمان کو نوٹس نہیں بھیج سکتے تو بھارتی وزیر خارجہ کو نوٹس بھیج دیں جو بتا رہے ہیں کہ "ہم نے حملے سے پہلے پاکستان کو آگاہ کیا تھا اور پاکستان نے بہاولپور کا مدرسہ خالی کروا لیا تھا"
پاکستان نے پتہ ہونے کے باوجود اس حملے کو روکا نہ اس دعوے کی تردید کی۔
کیا یہ انڈرسٹینڈنگ نہیں تھی ؟
اسی عائشہ گلالئی نے عمران خان پر گھٹیا الزامات لگائے تھے تو JUI والے عائشہ گلالئی کی حمایت میں اس کے بھائی بن گئے تھے۔ اب وہی عائشہ گلالئی مولانا پر بچہ بازی کا الزام لگا رہی ہے۔
اب پوچھنا یہ تھا کہ ہُن آرام ہے؟
پاکستان کی یہ دو وہ شخصیات ہیں جنہوں نے اپنے اپنے کردار نہایت خوش اسلوبی سے ادا کیے
ایک ڈی آئی جی فیصل کامران صاحب جو مریم نواز کے ترجمان کے روپ میں سامنے آئے جنہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ مریم نواز کی ہدایت پر ہم نے خواتین کو بازیاب کر لیا مگر بعد ازاں یہ دعویٰ سراسر بے بنیاد ثابت ہوا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان پر بھی پیکا قانون کا اطلاق ہوگا یا ان کے خلاف بھی کوئی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی
دوسری شخصیت سہیل ظفر چٹھہ صاحب ہیں جنہیں غریب کے نیفے میں موجود پستول دکھائی دیتا ہے غریب کا مبینہ مقابلہ دکھائی دیتا ہے مگر جب اثر و رسوخ رکھنے والے بااختیار افراد سامنے آتے ہیں تو ان کی تمام کارروائیاں یکسر ماند پڑ جاتی ہیں
یہ نظام اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ اس معاشرے کا ایک طبقہ اس قدر بے لگام اور منہ زور ہو چکا ہے کہ وہ جو چاہے کرے جیسے چاہے کرے اور اس سے باز پرس کرنے والا کوئی دکھائی نہیں دیتا